اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

حنا عنبرین کی نظم۔۔۔نیا جہانِ معنی

FB IMG 1658819778680 2

 

میرے نزدیک دلنشین اسلوب اور ارفع کلام کی سب سے اچھی خوبی یہی ہے کہ وہ قاری پہ سحر طاری کر کے ایک معمول کی طرح اسے ساتھ لے اور لفظ کے پسِ پردہ چھپے جہانوں کو قاری کی آنکھ پہ ایسے وا کرے کہ قاری عش عش کر اٹھے ۔ شاعری میں تغزل کی اہمیت ایسی ہی ہے جیسے جسم میں ریڑھ کی ہڈی کی ہے کہ اس میں کوئی نقص واقع ہو جائے تو بدن کا سارا نظام بگڑ جاتا ہے ۔بعینہ اگر کلام میں تغزل نہیں اور غنائیت کا فقدان ہے تو اس کلام کی چاشنی بھی پھیکی پڑ جایا کرتی ہے ۔

حنا کے ہاں غنائیت، جمالیات، لفظ کی تراش خراش، مصرعوں میں رچاؤ اور جذبوں کا بانکپن ایسے وفور سے جلوہ افروز ہوتے ہیں کہ قاری انگشت بدنداں رہ جاتا ہے ۔ نظم کو نباہنا کارِ آساں نہیں کہ دانتوں پسینہ آجاتا ہے مگر حنا کی نظمیں ایسے طلسم انگیز انداز میں ابتدا سے انتہا تک سفر کرتی ہیں کہ قاری کو طوالت کا احساس تک نہیں ہوتا۔ وہ نظم کے بہاؤ میں ہی اس قدر منہمک ہوتا ہے کہ یہ سیلِ فسوں خیز اسے بہا لے جاتا ہے اور اسے خبر تک نہیں ہوتی ۔

نظم کی ادق شاہراہ پر حنا کے لفظ ٹھوکر نہیں کھاتے بلکہ سبک ہوا کے جھونکے کی طرح کئی رنگوں سے ایک ایک چٹکی رنگ سے دھنک اور عطر کی تھوڑی تھوڑی مقدار سے جہانِ خوشبو کشید کرتے چلے جاتے ہیں اور پڑھنے والا ان رنگوں کی جمال آفریں دھنک اور ان خوشبو ریزوں سے باہر نہیں نکل پاتا۔

حنا کی نظم اپنے مرکزی خیال سے بے بہا مضبوطی سے جڑی ہوتی ہے لیکن یہ اپنے سفر میں شرق و غرب اور شمال و جنوب کی تجلیوں کو بھی منظر کا حصہ بناتی ہے اور تھوڑا تھوڑا حصہ اپنے اکناف و اطراف سے بھی وصولتی ہے لیکن مجال ہے کہ مرکز سے جڑت کا کوئی تار، کوئی ریشہ لمحہ بھر کے لیے کمزور پڑے۔

لفظ اس پر مہربان ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس نے لفظ کے ساتھ تعلق کو مفادات و علائق سے ماورا رکھا ہے۔ لفظ کی تکریم کی ہے اور بدلے میں لفظ نے کمال سخاوت سے اس کے فکر و فن پہ اپنا ہُن برسایا ہے ۔

اس کی نظم "دھند بھرا خواب” سے ایک بند ملاحظہ کریں :

ہوا کے ساتھ بکھرتی ہوئی مِری زلفیں !
سفید گھوڑے کی زینیں کَسے وہ دُھند بَھرا
وہ خواب زار کی کھڑکی سے مسکراتا ہوا
میں اَخذ کرتی ہوئی اس خموش کی باتیں
عجیب دُھن تھی شب ِ نیلگوں میں بجتی ہوئی
سنائے جاتا تھا اِک گیت جس کی تال میں گم
لہکتا جاتا تھا اُن انگلیوں پہ دل میرا

دیکھیے کیا کمال فنکاری سے ایک منظر کو اس کی جزئیات تک کے ساتھ رقم کیا گیا اور انداز ایسا کہ نظم کے اگلے حصے کو پڑھنے کی تمنا قاری کے دل میں جاگ اٹھتی ہے ۔۔۔۔

ایک اور نظم کرب تخلیق سے ایک بند ملاحظہ کیجیے اور سر دھنیے

ایک منظر کو کب تک لکھا جائے گا
زور تخلیق اٹکن کو کھا جائے گا
یوں کباڑ اپنے لفظوں کا ڈھوتے رہو
اور صدیوں کی وحشت پہ روتے رہو
ایک دھاگے میں ان کو پروتے رہو
زنگ آلود سالوں سے جالوں بھرا میل دھوتے رہو
شب کے صحراؤں میں خوار ہوتے رہو
جب تلک حرف ماتھے پہ بوسہ نہ دے
دشتِ احساس میں نظم بوتے رہو

کیا شیرینی اور حلاوت سے معمور ہے نظم کا یہ ٹکڑا ۔
اور لفظ کے ساتھ کمٹمنٹ کا یہ کمال عزم یقیناً لفظ کے دیے ہوئے اعتماد کی دین ہی تو ہے ۔

ایک اور نظم "میں خوش نہیں ہوں” سے ایک ٹکڑا ملاحظہ کریں

مرے دَہن کو متاع ِ الفاظ دی گئی ہے
تو کُند ذہنوں , قبیح عقلوں پہ
پیش کرنے کی جستجو میں لگا ہوا ہے
مرے دَہن کو یہ کیا ہوا ہے؟

حنا نے اپنی نظموں کو اندرون کی کیفیات تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ سماجی اور معاشرتی مسائل پہ بھی اس کی گہری نظر ہے ۔

حنا کی نظم میں وہ معصومیت اور دلکشی اپنے پورے اعتماد سے جلوہ افروز ہوتی ہے جس کی ایک عمدہ نظم کو ضرورت ہے ۔

آئیے آخر میں حنا کی ایک نظم "تشفی بھرا ہاتھ” مطالعہ کیجے اور حظ اٹھائیے

تَشفّی بھرا ہاتھ

آؤ آؤ !
محبت بھری فاختاؤ
مجھے اپنی اجلی کہانی سناؤ
کہاں صبح دم آنکھ کھولی
سفر کی صعوبت میں کیا رنج اٹھائے
یہاں آئینوں جیسے چہروں پہ کتنی دراڑیں پڑیں
کون کس کے رویے کی زد سے کسی چھت پہ اوندھی گری
کس کی رفتار ہے ، کس کا معیار ہے
کس نے برسوں تغافل کی پلکوں سے حظ کو اٹھایا
بتاؤ یہاں کس پہ کس کی محبت کا الزام ہے
آسمانی صحیفے کے جیسی محبت
یہاں کس پہ الہام ہے
جس کی تقدیس اتنی ضروری ہے کہ
اس کو چھونا ،پرکھنا ،سمجھنا ، برتنا کجی ہے بہت عیب ہے
میں تمہاری سکینت پہ مامور تو ہوں
مگر آرزوؤں کا سینے میں کہرام ہے
میں تمہاری طرح اُس تَشفّی بھرے ہاتھ
کی جستجو میں کسی زنگ آلود دن رات کی
خستہ چکی کے پاٹوں میں کتنے
زمانوں سے محصور ہوں
کتنی مجبور ہوں

حنا عنبرین بلاشبہ جنوب کی وہ توانا آواز ہے جسے اپنا آپ منوانے کے لیے کسی تعلق کی بیساکھی کی ضرورت نہیں ۔۔۔ اس کے لفظ میں کشش، جاذبیت، لطافت جمالیات اور وہ تمام اوصاف موجود ہیں جو اسے آنے والے دنوں میں وہ مقام و مرتبہ عطا کریں گے جس کے لیے لوگ پوری عمر کھپا دینے کو تیار رہتے ہیں ۔ خدا اس کے قلم کو روشن تر رکھے

عبدالرحمان واصف۔۔۔ کہوٹہ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481