اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شیریں مزاری سیاست سےتائب،فیاض چوہان عمران کیخلاف وعدہ معاف گواہ بنیں گے؟

3f9bf6b3 ee54 41f9 8fc7 053dec51eeb3

تحریک انصاف کو حالیہ تاریخ کا زور دار جھٹکا اس وقت لگا جب منگل کے روز اس کی سینئر ترین رہنما اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا۔شیریں مزاری کو عدالتی حکم پر رہائی ملنے کے باوجود پانچویں مرتبہ منگل کے روز گرفتار کیا گیا تاہم بعد ازاں ان اطلاعات کے ساتھ ان کی رہائی عمل میں آئی کہ انہوں نے ہائی کورٹ کے پاس سیاست میں حصہ نہ لینے کے حوالے سے حلف نامہ جمع کرادیا ہے۔

شیریں مزاری نے رہائی کے بعد اپنی مختصر پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ نہ صرف تحریک انصاف کو بلکہ سیاست کو بھی خیر باد کہہ رہی ہیں کیونکہ ان کے ساتھ گزشتہ بارہ دنوں میں صحت کے سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں اس کے علاوہ وہ اپنے بچوں پر توجہ دینا چاہتی ہیں کیونکہ پانچ ماہ پہلے ان کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔تجزیہ کاروں کے بقول شیریں مزاری نے کسی دباؤ کے تحت پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے عمران خان یا تحریک انصاف کے کسی رہنما کے حوالے سے کوئی سخت بات نہیں کی۔شیریں مزاری نے کہا کہ میں نے ہر قسم کے تشدد کی ہمیشہ مذمت کی ہے، جی ایچ کیو، پارلیمان، سپریم کورٹ جیسی ریاستی علامتوں کو نشانہ بنانےکی مذمت کرتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ دس بارہ روز میں میری بیٹی ایمان مزاری کو خاص طور پر آزمائش سے گزرنا پڑا، جب مجھے تیسری بار جیل لے کر گئے تو بیٹی بہت رو رہی تھی، جیل میں اس کی ویڈیو دیکھی، میں نے سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے، آج سے پی ٹی آئی یاکسی سیاسی جماعت کاحصہ نہیں ہوں۔شیریں مزاری کا مزید کہنا تھا کہ سب سے پہلے بچے اور والدہ میری ترجیح ہیں، شوہر زندہ تھے تو بچوں پر ان کا سایہ تھا، اب بچوں، والدہ اور صحت پر توجہ دوں گی۔

فیاض الحسن نے قیادت کیخلاف چارج شیٹ پیش کر دی

دوسری طرف پارٹی چھوڑنے والے دوسرے اہم رہنما اور سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے رہائی کے بعد اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان سمیت تحریک انصاف کے کئی سینیئر رہنماؤں کے نام لے کر ان کے خلاف توپ کے دہانے کھول دیئے اور سنگین الزامات لگائے۔انہوں نے دعوی کیا کہ عمران خان نے عملی طور پر تحریک انصاف کے کارکنوں کو فوجی تنصیبات کا رخ کرنے پر اکسایا جب کہ وہ یعنی فیاض چوہان عمران خان کو اداروں کے ساتھ تصادم سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ مبصرین کے نزدیک فیاض الحسن چوہان کے یہ الزامات آگے چل کر عمران خان کے خلاف چارج شیٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتے ہیں جبکہ اس حوالے سے فیاض الحسن چوہان کو مستقبل کا ممکنہ وعدہ معاف گواہ قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ خود فیاض چوہان نے پریس کانفرنس کے دوران صحافی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔

اپنی پریس کانفرنس میں فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات پر ملک کے 24 کروڑ عوام دکھی ہیں،  اسی طرحمیں بھی دکھی ہوا ہوں،سیاست نہیں چھوڑوں گا اور  پاکستان کی خدمت کرتا رہوں گا چاہے کسی اور پلیٹ فارم سے ایسا کروں۔انہوں نے کہا کہ میں نے  عمران خان کو ایک بات سمجھائی کہ ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی چھوڑ دیں،   بلکہ حکمرانوں کے خلاف تحریک چلائیں، ریاست اور اداروں سے ٹکرانا سیاستدانوں کا کام نہیں ہوتا، ان کا کہنا تھاکہ انہی مشوروں کی وجہ سے پارٹی میں کھڈےلائن تھا، زمان پارک میں داخلہ بند تھا، جبکہ فواد چوہدری، مسرت چیمہ، ان کے شوہر جمشید چیمہ سمیت چھ سات لوگ عمران خان کے چہیتے تھے۔سارے لیڈر گواہی دیں گے کہ میں نے عمران خان کو سمجھایا تھا۔

فیاض چوہان  نے قیادت سے بے اعتنائی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز رہائی کے بعد خاندان سے پوچھا کیا عمران خان نے میرے لیے کوئی ٹوئٹ کی؟ تو بتایا گیا کہ نہیں، ان کا کہنا تھا کہ  عمران خان کو سب یاد رہے جس کا گھر تباہ ہوگیا وہ فیاض الحسن یاد نہیں رہا۔انہوں نے انکشاف بھی کیا  کہ زوم میٹنگ میں پارٹی ترجمانوں کو کہا جاتا تھا کہ فوج مخالف بیانیہ تیار کیا جائے،ان کا کہنا تھا کہ  یکم مئی کی ریلی پریکٹس کے طور پر رکھی گئی کہ فوجی دفاتر کی طرف رخ کریں، 6 مئی کو عمران خان کے حکم پر کچہری چوک پر ریلی رکھی گئی، میں نے اپنے طور پر واثق قیوم، عمر تنویر کے علاوہ رہنماؤں کو رضا مند کیا گیا کہ مریڑ پل کراس نہیں کرنا،مگر واثق قیوم کو اوپر سے  میسج آگیا کہ جی پی او چوک پہنچیں۔ان کا کہنا تھاکہ 14 مئی کو زوم میٹنگ میں بیرونی ایجنڈے کو پروان چڑھانے کی کوشش کی گئی، 70 امریکی کانگریس ارکان کا لابی کرنے کا معلوم ہوا تو دھچکا لگا،

فیاض چوہان کا کہنا تھا کہ فوج اور پاکستان سے محبت ہمیشہ سے تھی اور ہے۔انہوں  نے اعلان کیا کہ سیاست نہیں صرف پی ٹی آئی چھوڑ رہا ہوں، صوبے شہر اور پاکستان کی خدمت جاری رکھوں گا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481