آج اپنے کزن کی بارات کے ساتھ نکر موجوال جانا ہوا۔۔
زندگی میں پہلی بار ہوتریڑی چوک سے نیچے اور سامنے بلندیوں کا سفر کیا۔۔
ہماری یونین کونسل دیول سے گزرتی خاقان عباسی روڈ جو مین کشمیر ہائی وے ہے دیول گاؤں سے آگے جاکر خیبر پختون خواہ کے ضلع ہزارہ میں داخل ہوجاتی ہے۔یہی ہائی وے آگے ریاست آزاد جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد تک جاتی ہے۔کہنے کو یہ شاہراہ ملک کے دو صوبوں اور آگے ایک ریاست سے گزرتی ہے مگر اس روڈ کے اطراف بسنے والے تمام لوگ ایک ہی تمدن ایک ہی زبان اور برادر قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔
کے پی کے کی تحصیل ایبٹ آباد کا گاؤں بیروٹ آبادی رقبے اور مہمان نواز بہادر لوگوں کے لحاظ سے پورے ضلع بلکہ یوں کہیئے کہ پورے صوبے میں اپنی مثال آپ ہے۔تعلیمی اور بنیادی سہولیات کے لحاظ کے سے بھی بیروٹ کا کوئی مقابلہ نہیں۔ہماری طرف یعنی مین روڈ والا حصہ بیروٹ کلاں کہلاتا ہے جبکہ سامنے بلندیوں والا علاقہ بیروٹ خورد کہلاتا ہے۔اس پورے علاقے کو سرکل بکوٹ بھی کہا جاتا ہے۔بیروٹ میں یوں تو مرکزی بازار بیروٹ اور کہوٹی بازار سمیت کئی چھوٹے بڑے بازار موجود ہیں جہاں ضروریات زندگی کی کم و بیش ہر چیز کسی بھی بڑے شہر کی مارکیٹ کے نرخ پر دستیاب ہوتی ہے،کوہالہ کی جانب جاتے ہوئے عباسیاں کے بعد گاؤں کا مشہور تجارتی بازاز ہوتریڑی چوک کہلاتا ہے جہاں سے آج ہمارے ایڈونچر کا آغاز ہوا۔۔
زندگی میں پہلی بار لوور اور موہڑہ سے آگے کی طرف والے علاقوں میں جانا ہوا۔
اس قدر خوبصورت پہاڑی دیہات دیکھ کر حیرت کے ساتھ افسوس بھی ہوا کہ یہاں پہلے کبھی کیوں نہیں آنا ہوا۔۔نکر موجوال کا گاؤں بلندیوں پر واقع ہے۔یہاں تک جانے والی سڑک گو کہ پکی اور بہت اچھی حالت میں ہے مگر زیادہ تر جگہوں پر ستر سے اسی ڈگری کا زاویہ بناتی ہے۔تنگ چھوٹے موڑ اور شدید چڑھائی اور اترائی پر گاڑی چلانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔بعض جہگوں پر تو انتہائی بلندی سے نشیب کی طرف دیکھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔یہاں ماہر ترین ڈرائیور ہی گاڑی لے جاسکتے ہیں۔سیفٹی کے نام پر صرف اللہ کی ذات کا سہارا ہوتا ہے۔
قدرتی حسن اور لینڈ سکیپ کے لحاظ سے یہ علاقہ پاکستان کے شمالی علاقوں کو مات دیتا نظر آتا ہے۔ہر نئیے موڑ پر قدرت اپنے تمام رنگوں کے ساتھ نئے انداز میں جلوہ افروز دکھائی دیتی ہے۔
اور یہاں کے لوگ۔۔۔۔۔
یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی، تمیز، تہذیب اور اخلاق کا کیا کہنا۔۔۔اتنے اچھے لوگ شائد ہی کہیں اور بستےہوں۔۔۔۔
لوور موہڑہ نکر موجوال ریالی اور آگے بکوٹ ایسے ہی ہیں جیسے کسی ہار میں لگے ہوئے نگینے۔۔
آپ کو کبھی موقع ملے تو یہاں ضرور جائیے۔اپنی گاڑی کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں کہ یہاں کے ڈرائیور حضرات بہت ایکسپیرٹ ہیں۔بلندیوں اور نشیب میں ایڈونچر سے بھرپور سفر آپ کو اچھا بھی لگے گا اور خوفزدہ بھی کرے گا مگر جب آپ بلندیوں پر پہنچیں گے تو نظارے دیکھ کر آپ کی ساری تھکن اتر جائے گی۔
اور ہاں راستے میں نشیب میں واقع ندی پر رکنا مت بھولیں۔قدیم پل کی باقیات کے ساتھ جدید پل بھی دعوت نظارہ دیتا ہے۔
نکر موجوال بیروٹ خورد
سرکل بکوٹ۔
مورخہ 21 مئی 2023


