اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اسٹیبلشمنٹ کے غیر آئینی تسلط سے پیچھا کیسے چھڑائیں؟

Screenshot 20230521 131031 1

جب پاکستان میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا معاملہ زیر بحث ہو تو اہل علم ہوں ، دانش ور ہوں یا صحافی سب کی تحریروں اور گفت و شنید میں اسٹیبلشمنٹ کو برائی کی جڑ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت اور سچائی ہے لیکن کیا سیاستدانوں کی نااہلی اس کی بنیادی وجہ نہیں؟
اسٹیبلشمنٹ سیاہ و سفید کی مالک اس لیے ہے کہ وہ طاقت ور ہے ۔

اسٹبلشمنٹ طاقت ور کیوں ہے؟

کیونکہ پارلیمنٹ کمزور ہے اور وہ سپریم ادارہ نہیں بن سکی۔ اسے اسٹبلشمنٹ اپنی کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کرنے کے لیے آسانی سے راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔ بھاؤ تاؤ عام ہے۔ خوف اور ڈر ایک اور ہتھیار ہے۔ بلیک میلنگ اور ایجنسیوں کا غیر آئینی اور غیر اخلاقی کردار ایک اور تلخ حقیقت ہے۔

پارلیمنٹ کیوں کمزور ہے ؟

پارلیمنٹ کے کمزور ہونے کا سبب یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں کمزور ہیں۔ کیوں کہ سیاسی جماعتیں داخلی طور پر جمہوریت کو اختیار نہ کرنے اور موروثیت کو فروغ دینے کی وجہ سے ادارے نہیں بن سکیں۔

سیاسی جماعتوں میں داخلی طور پر جمہوریت کو فروغ نہ دینے کی وجہ کیا ہے؟

بد قسمتی سے سیاسی جماعتوں کے بانیان طاقت کو اپنے پاس یا اپنے خاندان میں رکھنا چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعت ایک فرد کا نام ہے یا پھر ایک خاندان کا۔ اس سے یہ سانحہ ہوا کہ سیاسی جماعتیں ادارہ نہیں بن سکیں۔ عوام کی مرضی سے قیادت اور عہدیداروں کا چناؤ نہیں ہوسکا۔ عوامی خواہشات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ عوام میں سے عوام کی حقیقی نمائندہ قیادت کے ابھرنے کا رستہ بند کر دیا گیا ۔

سیاسی جماعتوں میں موروثیت سے مزید کیا نقصانات ہوئے؟

  • ایک فرد یا ایک خاندان کو اپنے حکم کے تابع کرنا، خریدنا، ڈرانا یا جھکانا آسان ہوتا ہے۔ اسٹبلشمنٹ کا کام موروثیت کی حامل سیاسی جماعتوں نے آسان بنا دیا۔
  • سیاسی جماعتوں کے کرتا دھرتا فرد یا خاندان نے خود کو ناگزیر سمجھ لیا حالانکہ وہ ہرگز ناگزیر نہیں تھے۔
  • سیاسی جماعتوں میں عدم جمہوریت کی وجہ سے لیڈر شپ پروان نہ چڑھ سکی۔ سینئر ترین سیاسی رہنماؤں کو بھی موروثی سیاسی جماعتوں کے "مالکان” کے بچوں کے سامنے مزارعوں کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا پڑا۔
  • سیاسی جماعتیں ایک بزنس کے ادارے کی طرح کاروباری شکل اختیار کر گئیں۔ کاروبار کے مالک "فرد” یا خاندان نے ہمیشہ ذاتی مفاد کو قومی مفاد پہ ترجیح دی۔
  • طاقت کو اپنے یا اپنے خاندان کے پاس رکھنے اور اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔

سیاسی جماعتیں چل کیسے رہی ہیں ؟

سیاسی جماعتیں کاروباری ادارے بننے کے بعد پیسہ اور طاقت رکھنے والے الیکٹیبلز کے ذریعے چل رہی ہیں۔ عام آدمی مین سٹریم جماعتوں میں کارکن ، ورکر یا ووٹر ہی بن سکتا ہے ۔ وہ پالیسی ساز لیڈر کبھی نہیں بن سکتا۔

اسٹیبلشمنٹ کے غیر آئینی تسلط سے پیچھا کیسے چھڑائیں؟

بد قسمتی سے تعلیم کو ترجیح نہ بنانے، مکالمے کی فضا ختم کرنے اور مذہبی اور سیاسی شدت پسندی عام کرنے کی وجہ سے عام آدمی تفکر و تدبر اور قوت فیصلہ سے عاری ہو چکا ہے۔ وہ سیاسی اور مسلکی پولارائزیشن کا اس حد تک شکار ہو چکا ہے کہ اس کو اپنی فلاح کے لیے، اپنی نسلوں کی بقا کے لیے اور اپنے علاقوں کی ترقی کے لیے ان موروثی سیاسی جماعتوں اور شدت پسند مسلکی جماعتوں کے چنگل سے آزاد کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لیکن حقیقی آزادی کے لیے یہ شعور بیدار کرنا ناگزیر ہے۔

پارلیمنٹ کو سپریم ادارہ بنانا ضروری ہے۔ جہاں پالیسی سازی اور قانون سازی عوامی مفاد اور قومی مفاد میں ہو۔

اس مقصد کے لیے سیاسی جماعتوں کو "جمہوری ادارہ” بنائے بغیر پہلا قدم بھی نہیں اٹھایا جا سکتا ۔ سیاسی جماعتوں میں داخلی طور پر "جمہوریت” لانے کے لیے سیاسی لیڈروں، کارکنوں اور ووٹروں کو فیصلہ کرنا ہو گا۔

سیاسی کارکنوں کو ہجوم بنانے اور نعرے بازی کا کلچر عام کرنے کے بجائے ان کی سیاسی تربیت کا اہتمام کرنا پڑے گا۔

جماعت کی قیادت اور عہدیداروں کے چناؤ کے لیے سیاسی کارکنوں کو موقع دینا پڑے گا۔ ایک فرد یا خاندان کے اثر سے نکال کر سیاسی جماعتوں کو قومی اجتماعی دانش کے حوالے کرنا ہوگا۔

ساری سیاسی جماعتوں کو مل کر بلدیات کا بہترین اور دیرپا ماڈل تشکیل دینا ہوگا تاکہ جمہوریت اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے۔

پاکستان کو حقیقی جمہوری فلاحی ریاست بنانے کے لیے اسے اسٹیبلشمنٹ سے آزاد کروانا ناگزیر ہے۔ یقینا آپ کے پاس بھی اس سلسلے میں کچھ نکات اور تجاویز ہوں گی۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس ضمن میں اپنی آراء سے ضرور نوازیں۔

ثاقب محمود عباسی، اسلام آباد

 

Picsart 23 05 21 13 07 24 618

square 1 1 1684657447262 1

images 78


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481