اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

زمان پارک کا کنٹرول پولیس کے حوالے۔ عمران خان سے ڈیل ہو گئی؟

imran

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک لاہور میں تین دن سے آپریشن کا ماحول بنانے کے باوجود پولیس انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو کامیابی نہ مل سکی۔
گزشتہ روز انتظامیہ نے عمران خان سے طویل مذاکرات کیے جس میں تحریک انصاف کے سربراہ نے سرچ آپریشن کے لئے کچھ شرائط عائد کیں جن پر اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد اچانک آپریشن کا فیصلہ معطل کرکے پولیس نفری ہٹا دی گئی اور زمان پارک کا محاصرہ ختم کردیا گیا۔

دوسری طرف نصف شب کے قریب پولیس اور انتظامیہ نے اچانک زمان پارک کا کنٹرول سنبھال لیا اور وہاں موجود تحریک انصاف کے اکا دکا کارکن بھی غائب ہوگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار باقاعدہ رجسٹر لے کر عمران خان کے گھر کے دروازے پر بیٹھ گئے اور آنے جانے والوں کی انٹری کرنے لگے جبکہ اردگرد کی سڑکوں پر رکاوٹیں ہٹانے کے لیے پولیس نے کریں منگوا لی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے نگراں وزیر اطلاعات عامر میر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ اگرچہ اس وقت آپریشن معطل کیا جا رہا ہے تاہم حکومت نے یہ طے کرلیا ہے کہ زمان پارک کی نوگو ایریا کی حیثیت ختم کردی جائے گی اور وہاں موجود ہر قسم کی تجاوزات ہٹا دی جائیں گی۔

اب ذرائع نے اس بات کا امکان ظاہر کیا ہے کہ شاید عمران خان کے ساتھ مذاکرات میں جہاں آپریشن کا فیصلہ معطل کیا گیا ہے وہیں غیر اعلانیہ ڈیل کے تحت پولیس اور انتظامیہ کو زمان پارک کا کنٹرول سنبھال لینے کی اجازت دے دی گئی ہو اور اس تعاون کے بدلے آپریشن موخر کردیا گیا ہو۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پولیس کی جانب سے چالیس کے قریب مطلوب افراد کی حوالگی کے لیے عمران خان کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا جو جمعہ کی دوپہر دو بجے ختم ہو گیا تھا، اس کے بعد زمان پارک پر سرچ آپریشن کا ماحول بھی بن گیا تھا تاہم عمران خان کے ساتھ مذاکرات میں شرائط پر اتفاق رائے نہ ہو سکا جس کے بعد سرچ آپریشن ملتوی کردیا گیا۔

سرچ آپریشن کے لیے عمران کی شرائط کیا تھیں؟

چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے نگراں حکومت کے سامنے رکھی گئی شرائط کے مطابق 5سے زیادہ لوگ زمان پارک میں سرچ آپریشن نہیں کریں گے،خواتین بھِی سرچ آپریشن ٹیم میں شامل ہوں،زمان پارک کے اطراف سے تمام ناکے ختم کیے جائیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کمشنر لاہور نے دہشت گردوں کی لسٹ عمران خان کے حوالے کی اور وفد نے بتایا کہ متعدد دہشت گردوں کو یہاں سے فرار ہوتے وقت گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ کئی شرپسندوں کو یہاں سے بھگایا جاچکا ہے۔ عمران خان کو 9 مئی کے واقعات میں ملوث 2200 شرپسندوں کے بارے بھی تفصیل سے بتایا گیا اور ثبوت بھی حوالے کیے گئے۔ بعد ازاں حکومتی کمیٹی نے وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی سے ملاقات کی اور بات چیت کے حوالے سے آگاہ کیا۔ جس کے بعد نگراں وزیر اعلیٰ نے زمان پارک کے باہر پولیس ناکہ بندی ختم کرنے کے احکامات جاری کیے۔انہوں نے کہا کہ وعدے کے مطابق انتظامیہ تجاوزات ختم کرکےزمان پارک کو اصل شکل میں فوری بحال کرے، زمان پارک کے رہائشی پہلے ہی بہت مشکلات برداشت کرچکے ہیں۔

ہمیں 2200 افراد مطلوب ہیں۔عامر میر

پنجاب کے نگراں وزیر اطلاعات عامر میر نے نجی ٹی وی سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زمان پارک میں سرچ آپریشن کے حوالے سے اتفاق نہیں ہوپایا، عمران خان کا اصرار ہے کہ زیادہ پولیس اہلکار سرچ آپریشن کیلئے نہ آئیں۔عامر میر نے کہا عمران خان کو بتایا ہے کہ ہمیں 2200 افراد مطلوب ہیں جن میں حسان نیازی، زبیر نیازی، مراد سعید، اعظم سواتی، حماد اظہر بھی شامل ہیں، ملزمان کی جیو فینسنگ کی گئی، ان لوگوں کی زمان پارک کی لوکیشن سامنے آئی، عمران خان نے کہا کہ جن کی فہرستیں دی گئی ہیں وہ یہاں نہیں ہیں۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481