اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اگلے 5برس تاریخ انسانی کےگرم ترین سال ہوں گے، مگر کیوں؟

hunzabridage

اگلے 5برس تاریخ انسانی کےگرم ترین سال ہوں گے، مگر کیوں؟ اس حوالے سے اقوام متحدہ نے خدشات کا اظہار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ 2023 سے 2027 تک کا عرصہ انسانی تاریخ کا گرم ترین دور ثابت ہوگا۔

اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن  کے مطابق بحر الکاہل کو گرم کرنے والے موسمیاتی رجحان ایل نینو اور گرین ہاؤس گیسوں کا مشترکہ اثر درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنے گا۔ ادارے کی جانب سے ایک اور وارننگ میں کہا گیا ہے  کہ آنے والے مہینوں میں ایل نینو موسمیاتی رجحان تشکیل پانے کا امکان ہے جس سے زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا۔اگر ایسا ہوا تو دنیا میں صحت، خوراک، پانی اور ماحول کے انتظام میں مشکلات آسکتی ہیں، اس لیے ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ ایل نینو ایسا موسمیاتی رجحان ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے اور زمین کے مجموعی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ بھی بنتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 66 فیصد امکان ہے کہ دنیا کا درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کرجائے گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اب تک گزشتہ 8 سال انسانی تاریخ کے گرم ترین سال قرار پائے ہیں جن میں 2016 سب سے زیادہ گرم تھا لیکن موسمیاتی تبدیلیوں میں تیزی سے تبدیلی آنے کی وجہ سے درجہ حرارت میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ادھر برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے خبردار کیا کہ گرین ہاؤس گیسوں سے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ادارے نے عالمی درجہ حرارت کے حوالے سے جو حد سوچی تھی اگر وہ تجاوز کرگئی تو ممکنہ طور پر یہ صورتحال عارضی ہوگی۔درجہ حرارت تجاوز کرنے کا مطلب دنیا 19ویں صدی کے دوسرے نصف کے مقابلے زیادہ گرم ہوگی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481