آج کل ٹی وی شوز، سوشل میڈیا اور عام گفت و شنید کے موضوعات دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔ جلسے، سپریم کورٹ، اشرافیہ، شخصیات، پارلیمنٹ، اسٹبلشمنٹ، وغیرہ، وغیرہ
یقین کریں یہ عام آدمی کے مسائل ہی نہیں ہیں۔ اور نہ ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بے توقیری کے مارے عام آدمی کی زندگی میں کسی ایسے عنصر کی گنجائش موجود ہے ۔ عام آدمی کو تو دو وقت کی روٹی کی طلب ہے، صحت اور تعلیم کی سہولیات درکار ہیں اور امن و امان اور زندگی کے وسائل کی طلب ہے ۔
نیلی، پیلی، سرخ، سبز سیاسی جماعتیں اپنی ساکھ، وقار اور بھروسہ کھو چکی ہیں۔ عام آدمی مسائل کی دلدل میں پھنس کر باشعور ہوتا جا رہا ہے۔ جماعتیں، ادارے اور شخصیات کی اصلیت کھل گئی ہے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچ رہا ہے کہ سب اشرافیہ کے گھناؤنے کھیل ہیں۔ موجودہ نظام اور اشرافیہ عام آدمی کو زندگی کے وسائل دینے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ بہتر ہے کہ ان سب بدعات کو بحیرہ عرب میں پھینک دیں ۔
عام آدمی پر یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ
کسی جماعت اور ادارے کو عام آدمی سے، اس کے مسائل سے، اس کے آدرشوں سے اور اس کی آئندہ نسلوں سے کوئی غرض نہیں۔
اور یہ شعور اور ادراک اچانک بیدار نہیں ہوا بلکہ ملک کی پچہتر سالہ تاریخ سے سبق سیکھ کر عام آدمی اس نتیجے پر پہنچا ہے۔
عدالتیں نوٹس لیتی ہیں تو تو آئین توڑنے نہ توڑنے ، حکومتی بینچوں کا مخالف حزب کو ووٹ دینے نہ دینے، حکومت حلال ہونے نہ ہونے پہ ہوتا ہے ، کبھی روٹی کی قیمت بڑھنے پہ یا پیٹرول مہنگا ہونے پر کسی عدالت نے نوٹس لیا؟ کسی عدالت نے سوموٹو لیا کہ اس مہنگائی کے طوفان میں محنت کش بیس ، بائیس ہزار ماہانہ تنخواہ میں گھر کیسے چلا سکتا ہے کہ اتنے میں تو چار آدمیوں کا مہینے کا راشن نہیں ملتا۔
میڈیا مالکان کو اپنی آمدن عزیز ہے۔ وہ بھی اشرافیہ کی کٹھ پتلیاں ہیں۔ وہ ملک ریاض کا سافٹ امیج عام کرنے کے لیے اگر پروگرام تشکیل دیں تو انھیں لاکھوں ڈالر فی گھنٹہ ملتے ہیں۔ ایسے وہ سچائی، انسانیت اور آزادی و حریت کا سبق پڑھ کر اپنا کروڑوں ڈالر ماہانہ کا نقصان کیوں کریں۔ وہ وہی دکھا رہے ہیں جو مہنگے داموں بکتا ہے۔ جس سے ریٹنگ بڑھتی ہے۔ اسی لیے۔۔۔
ٹی وی شوز میں آج کل نیب نیب کھیلا جا رہا ہے ۔ کبھی ٹی وی نے بتایا کہ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں ؟ عام آدمی مر رہا ہے ؟
جلسے جلوس چور ڈاکو چور ڈاکو کی رٹ سے لبریز ہیں ۔ کبھی سنا کہ ہم آٹا دال چینی کی مہنگی قیمتوں کے خلاف دھرنا دیں گے ؟ نہیں نا؟
پارلیمنٹ کی توہین کا بل بہت گردش میں ہے ۔ کبھی عام آدمی کی توہین پہ بل آیا؟
ان سب مکروہات میں ہماری پوری اشرافیہ شامل ہے ۔ یقین جانیے کوئی بھی بری الذمہ نہیں ہے۔
خدارا اپنے بارے میں، اپنی نسلوں کے بارے میں اور اس ملک کے بارے میں سوچیے اور دانش مندانہ فیصلہ کیجیے۔ بس ۔۔۔۔ مزید بے توقیری نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالرحمان واصف ۔۔۔۔ کہوٹہ

