اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

خبردار!پارلیمنٹ کی توہین پر 6 ماہ قید،10 لاکھ جرمانہ ہو گا

منی بجٹ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ

قومی اسمبلی نے منگل کو  توہین پارلیمنٹ بل 2023 کثرت رائے سے منظور کرلیا جس کے تحت  پارلیمنٹ کی توہین کے مرتکب ملزم کو 6 ماہ قید، 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں ۔اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جہاں رکن اسمبلی رانا قاسم نون نے توہین پارلیمنٹ بل 2023 منظوری کے لیے پیش کیا۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط رانا قاسم نون نے کہا کہ توہین پارلیمان کا بل بہت اہم ہے، آئندہ کسی نے اس ہاؤس کی توہین کی تو وہ سزا کا مرتکب ہوگا، ہم 4 سال سے اس بل پر کام کر رہے تھے،

بعد ازاں اسپیکر نے بل کی تمام شقوں کی ایوان سے منظوری حاصل کی، وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے ترمیم پیش کی جسے بل میں شامل کر لیا گیا، بعد ازاں قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دے دی۔خیال رہے کہ توہین پارلیمنٹ بل رواں ماہ 9 مئی کو پارلیمنٹ میں متعارف کرایا گیا تھا جسے اسپیکر نے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو مزید غور کے لیے بھیج دیا تھا، بعد ازاں 15 مئی کو قائمہ کمیٹی نے توہین پارلیمنٹ بل 2023 کی منظوری دے دی تھی۔ مذکورہ بل اب منظوری کے لیے سینیٹ کو بھیجا جائے گا۔

واضح رہے کہ توہین پارلیمنٹ بل 2023 کے مطابق پارلیمنٹ کی توہین کو جرم قرار دیا گیا ہے، پارلیمانی کمیٹی توہین پارلیمان پر کسی بھی ریاستی یا حکومتی عہدیدار کو طلب کر سکے گی۔بل میں پارلیمنٹ کی توہین کے مرتکب ملزم کو 6 ماہ قید، 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں، توہین پارلیمنٹ کی سزا کے خلاف 30 روز کے اندر اپیل کا حق ہوگا، سزا کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا، اپیل صرف متعلقہ کمیٹی کے سامنے ہی ہو سکے گی۔بل کے مطابق 24 رکنی پارلیمانی کنٹمپٹ کمیٹی توہین پارلیمنٹ کیسز کی تحقیقات کرے گی، کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومت کے مساوی اراکین کو شامل کیا جائے گا۔

کنٹمپٹ کمیٹی شکایات کی رپورٹ پر اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ کو سزا تجویز کرے گی، اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ متعلقہ فرد پر سزا کے تعین کا اعلان کرسکیں گے۔بل کے مطابق انسداد تحقیر کمیٹی کے قیام کی منظوری اسپیکر قومی اسمبلی دیں گے جو کہ 5 اراکین پر مشتمل ہو گی، قومی اسمبلی سے 3 اور سینیٹ سے 2 اراکین کمیٹی میں شامل ہوں گے۔کمیٹی ارکین میں ایک نام اسپیکر اور ایک ایک نام وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر دیں گے، سینیٹ سے ایک کمیٹی رکن اپوزیشن اور ایک حکومت سے ہوگا، چیئرمین و چیئرپرسن کا انتخاب کمیٹی خود کرے گی۔انسداد تحقیر کمیٹی کے پاس سول کورٹ کا اختیار ہوگا، کمیٹی عدم پیشی پر کسی بھی شخص کے سمن اور وارنٹ گرفتاری جاری کر سکے گی، وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کی منظوری ضروری ہوگی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481