اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

طویل دھرنے کی تیاری کے باوجود ایک روزہ احتجاج کیوں ؟

b4ed2fe1 ab97 487e 98f2 fd0c970bec3c

سپریم کورٹ کے سامنے طویل دھرنے کی تیاری کے ساتھ جانے والے حکومتی اتحاد پی ڈی ایم نے ایک روزہ بھرپور احتجاج پر اکتفا کرتے ہوئے شام کو ہی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
واضح رہے کہ قبل ازیں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال کے استعفے تک دھرنا جاری رہے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی اتحاد کو یہ خدشہ تھا کہ پیر کے روز الیکشن التواء کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے ارکان کو توہین عدالت کی کارروائی کے تحت نااہل قرار دے سکتے ہیں یا اس حوالے سے کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دھرنے کے لیے صبح سویرے نو بجے انصارالاسلام کے رضا کاروں سمیت کارکنوں کو بلا لیا گیا تھا۔جبکہ ملک بھر سے جے یو آئی مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے قافلے بھی علی الصبح اسلام آباد پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔
اس دوران بعض افراد کو سپریم کورٹ کے گیٹ پر چڑھتے ہوئے بھی دیکھا گیا جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔

808d6914 818c 4606 a347 c663a637ef4a
تاہم جب چودہ مئی کوپنجاب میں الیکشن سے متعلق مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس کا لب و لہجہ مختلف تھا۔انہوں نے تحریک انصاف کے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سرکاری املاک کو جلایا جائے گا تو معمول کے کام کیسے ہوں گے۔انہوں نے ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کو الیکشن کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے مذاکرات کی تجویز دی۔اس کے ساتھ ہی مقدمے کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔

d00b00a2 f5ab 4246 9042 44f4b5d6ad1a
دوسری جانب حکومتی اتحاد کا اجتماع اگرچہ خاصہ پرجوش تھا جس میں چیف جسٹس اور ان کے ہم خیال ججز کے حوالے سے دھواں دھار تقاریر کی گئیں۔ مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز نے چیف جسٹس کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا تاہم تیاری کے باوجود دھرنے کا فیصلہ ملتوی کر دیا گیا اور اسے ایک روزہ احتجاج تک محدود رکھا گیا،تاہم  مولانا فضل الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ ہفتے کی سماعت میں پھر کوئی سخت فیصلہ کیا گیا تو کارکنوں کو دھرنے کے لیے دوبارہ بلایا جا سکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کے خطاب کے بعد دھرنے کے شرکاء پر امن طور پر منتشر ہو گئے اور اپنے اپنے شہروں کو واپس چلے گئے۔

وزیر اعظم شہباز شریف سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات

وزیر اعظم شہباز شریف سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات۔۔ فائل فوٹو


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481