تحریک انصاف کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے بعد سابق وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کو بھی گرفتار کرلیا گیا ۔فیاض چوہان پرراولپنڈی کا میٹرو اسٹیشن جلانے اور کارکنوں کو جلاو گھیراو پر اکسانے کا الزام ہے۔ دوسری طرف سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید ایک مرتبہ پھر پولیس کوجل دے کر نکل گئے ۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی پولیس نے سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کو لیاقت باغ سے گرفتار کیا ہے۔ان کے خلاف 9 مئی کو تھانہ صادق آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں جلاؤ گھیراؤ اور کارکنوں کو اکسانے کا الزام ہے۔فیاض چوہان پر سکستھ روڑ راولپنڈی کا میٹرو اسٹیشن جلانے اور توڑ پھوڑ کا بھی الزام ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت سے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری 18 مئی تک منظور ہوچکی ہے۔
ادھر پنجاب پولیس نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے گھر لال حویلی پر چھاپہ مارا تاہم ان کی گرفتاری نہیں ہوسکی ۔شیخ رشید احمد نے ٹوئٹر پر وڈیو پیغام میں کہا کہ لال حویلی میں ایلیٹ فورس کے سیکڑوں اہلکار داخل ہوئے ہیں ، پولیس اہلکار مجھے اور میرے بھتیجے راشد حفیظ کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔یہ چاہتے ہیں ہم وہ کام کریں جس سے قومی نقصان ہو ، مگر ہم مر جائیں گے کبھی قومی نقصان نہیں کریں گے ۔ہم عمران خان کے ساتھ ہیں اگر اس جرم میں ہماری گرفتاری اور قید ہوتی ہے تو اس کیلیے میں اور راشد شفیق تیار ہیں۔

