اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

فوجی تنصیبات پرحملہ کرنیوالےشرپسند آرمی ایکٹ مقدمات کیلئےتیار رہیں

cde6bd50 5ff2 427b 974a f62742958db7

آرمی چیف کی صدارت میں اسپیشل کور کمانڈرز کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ فوجی تنصیبات پر حملے کرنے والے شرپسندوں کیخلاف  پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے ۔ کور کمانڈرز کانفرنس میںیہ  عزم  بھی کیا گیا کہ پاک فوج عوام کی مکمل حمایت سے ملک دشمنوں کے تمام مذموم عزائم کو ناکام بنا دے گی ۔اعلٰی ترین فورم نے جاری سیاسی عدم استحکام کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔

آئی ایس پی آر کے  جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت اسپیشل کور کمانڈرزنفرنس منعقد  ہوئی۔اجلاس کےشرکاء نے شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے دہشت گردی کی لعنت سے لڑتے ہوئے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔عسکری فورم کی جانب سے ملک میں سیکورٹی فورسز کے کامیاب انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، خاص طور پر مسلم باغ حملے میں فوجیوں کی طرف سے دیے گئے دلیرانہ جواب کو سراہا گیا اور سرزمین کے بہادر بیٹوں کی عظیم قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق عسکری قیادت کو موجودہ اندرونی اور بیرونی سلامتی سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔فورم نے گزشتہ چند دنوں میں امن و امان کی صورت حال کا جامع جائزہ لیا جسے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بنایا گیا تھا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ شہدا کی تصاویر، یادگاروں کی بے حرمتی، تاریخی عمارتوں کو نذر آتش کرنے اور فوجی تنصیبات کی توڑ پھوڑ پر مشتمل مربوط آتشزنی کے منصوبے پر عمل درآمد کیا گیا تاکہ ادارے کو بدنام کیا جا سکے اور اسےردعمل پراکسایا جا سکے۔کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران عسکری قیادت نے فوجی تنصیبات اور سرکاری و نجی املاک کے خلاف سیاسی طور پر محرک اور اکسانے والے واقعات کی سخت ترین ممکنہ الفاظ میں مذمت کی اوران ناقابل قبول واقعات پر فوج کے رینک اور فائل کے غم اور جذبات کا بھی اظہار کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک جمع کیے گئے ناقابل تردید شواہد کی بنیاد پر مسلح افواج ان حملوں کے منصوبہ سازوں، اکسانے والوں، ان کی حوصلہ افزائی کرنے والوں اور مجرموں سے بخوبی واقف ہیں اور اس سلسلے میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔فورم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فوجی تنصیبات  خلاف ان گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کو پاکستان کے متعلقہ قوانین بشمول پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔فورم نے فیصلہ کیا کہ کسی بھی حالت میں فوجی تنصیبات اور سیٹ اپ پر حملہ کرنے والے مجرموں، بگاڑنے والوں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مزید تحمل کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔علاوہ ازیں  عسکری قیادت نے بیرونی اسپانسرڈ  اور اندرونی طور پر سہولت یافتہ،  پروپیگنڈہ جنگ پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جس کا مقصد مسلح افواج اور پاکستان کے عوام کے درمیان، اور مسلح افواج کے رینک اور فائل کے اندر دراڑ ڈالنا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دشمن قوتوں کے مذموم پروپیگنڈے کو پاکستانی عوام کی حمایت سے شکست دی جائے گی جو ہر مشکل میں ہمیشہ مسلح افواج کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔فورم نے سوشل میڈیا کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے متعلقہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔بیان کے مطابق فورم نے جاری سیاسی عدم استحکام کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔

ادھر فیصل آباد میں آئی ایس آئی کے  دفتر پر حملے کے ملزمان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیاہے ۔اور اس سلسلے میں ضروری تیاری شروع کر دی گئی ہے، واضح رہے کہ اس مقدمے میں علی افضل ساہی، فیض اللہ کموکا، صاحبزادہ حامد رضا، بلال اشرف بسرا مرکزی ملزمان قرار دیے گئے ہیں۔ملزمان کی فہرست میں ڈاکٹر اسد معظم، جنید افضل ساہی، حسن ذکا نیازی، اور ایاز ترین خان بھی شامل ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481