اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

دھرنا سپریم کورٹ کے باہر ہی ہو گا ۔ فضل الرحمٰن ڈٹ گئے

PDM 1280x720 1

حکومت کی جانب سے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو دھرنے کا مقام تبدیل کرنے کیلئے جاری کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں ، مولانا نے احتجاج کا مقام تبدیل کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز کیخلاف دھرنا آج شاہراہ دستور پر عدالت عظمٰی کی عمارت کے سامنے ہی ہو گا جہاں عوامی عدالت فیصلہ کرے گی۔ادھر دھرنے میں شرکت کیلئے قافلے پہنچنا شروع ہو گئے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزرا اسحاق ڈار اور رانا ثنا اللہ نے مولانا فضل الرحمٰن کو قائل کرنے کیلئے ان سے ملاقاتے کے دو ادوار کئے اور درخواست کی تھی کہ کچھ روز قبل بھی حالات خراب ہوئے،لہٰذا  حکومت چاہتی ہے ڈی چوک پر احتجاج کیا جائے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا تاہم حکومتی ذمہ دار انہیں اپنے موقف پر قائل نہ کر سکے جس کے بعد رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس معاملے پر اب صبح بات ہپو گی، دراصل سپریم کورٹ پر دھرنے کا فیصلہ تمام اتحادی جماعتوں کا تھا،

زرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے جواب میں کہا کہ ہم اعلان کرچکے، اس لئے اب جگہ تبدیل نہیں ہوسکتی، احتجاج سپریم کورٹ کے ججز کیخلاف ہے تو سپریم کورٹ کے باہر ہی ہوگا۔ ہم نےماضی میں بھی اسلام آباد میں دو دفعہ دھرنا دیا، لیکن دونوں دھرنوں میں کوئی پتہ بھی نہیں ٹوٹا، تاریخ گواہ ہے ہمارا احتجا ج پر امن ہوتا ہے۔ آزادی مارچ میں ہمارے لاکھوں کارکنان تیرہ روز تک اسلام آباد میں بیٹھے رہے۔ تیرہ دن میں سرکاری یا عوامی املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ میں اتنا یقین دلاتا ہوں کہ ہمارا کوئی کارکن قانون ہاتھ میں نہیں اٹھائے گا۔

دھرنے کیلئے انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت طلب

دوسری طرف مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ کے باہر دھرنے کی اجازت کیلئے اسلام آباد انتطامیہ کو باضابطہ درخواست دے دی۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد سےکارکن دھرنے میں بھرپورشرکت کریں گے، پرامن احتجاج بھرپورانداز میں ریکارڈ کرایا جائے گا۔ سابق وزیر ڈاکٹرطارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے ضلعی انتظامیہ کو درخواست جمع کرا دیہے۔اس سے قبل پی ڈی ایم کی جماعتوں نے ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنے کی درخواست جمع کرائی تھی۔

دفعہ 144 ہٹا لیں۔ جے یو آئی کا مطالبہ

جے یو آئی کے رہنما مولانا راشد سومرو نے وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد سے دفعہ 144 ہٹا لیں۔ ہم پرامن ہے، املاک اور سپریم کورٹ کی دیواریں بھی محفوظ ہوگی۔ دھرنے کےلیے روانگی سے قبل کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا راشد سومرو کا کہنا تھا کہ دھرنے میں سندھ سے ایک لاکھ زائد کارکنان شرکت کریں گے۔ دھرنا چیف جسٹس کے استعفے تک جاری رہے گا۔ تمام صوبوں سے ہزاروں کارکنوں کے قافلےاسلام آباد لانے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہیں ۔

رجسٹرار سپریم کورٹ نے پولیس حکام کو طلب کر لیا

ادھررجسٹرار سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں مجوزہ دھرنے کے پیش نٖظر سیکیورٹی سے متعلق اہم اجلاس طلب کرلیا۔اجلاس میں آئی جی اسلام آباداکبرناصرخان اور چیف کمشنرکوطلب کرلیاگیا، ڈی آئی جی سیکیورٹی اورایس ایس پی آپریشنزبھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ ایس پی سپریم کورٹ کوبھی اجلاس میں شرکت یقینی بنانےکی ہدایت کی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں دھرنے کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ ریڈزون میں احتجاج اورر دھرنوں کی اجازت کامعاملہ بھی زیرغورآئے گا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481