اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

دوران حراست عمران خان بابر اعوان سے بھی رابطے میں رہے؟

سائفرپرجے آئی ٹی میں عمران سے 2 گھنٹے تفتیش ہوتی رہی

9 مئی کے پرتشدد واقعات کے دوران  نیب کی حراست میں ہونے کے باوجود عمران خان اپنے وکیل بابر اعوان سے بھی رابطے میں رہے۔ اس حوالے سے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں  بابر اعوان نے بھانڈا پھوڑ دیا ۔

ہفتے کے روز عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے روز عمران خان کو ٹی وی تک رسائی نہیں تھی۔جس پر رپورٹر نے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتا چلا کہ انہیں ٹی وی تک رسائی نہیں تھی؟ اس پر بابر اعوان نے کہا کہ میں اسی شہر میں رہتا ہوں، ہمیں رابطے کرنے کے سارے طریقے معلوم ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی رہنما مسرت جمشید چیمہ سے رابطے کی آڈیو بھی لیک ہوچکی ہے جس میں وہ اپنا مقدمہ سپریم کورٹ لے جانے کی ہدایات دے رہے ہیں۔دوسری طرف گزشتہ روز عمران خان نے سپریم کورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات کا انھیں علم ہی نہیں تھا، وہ تو حراست میں تھے۔مبصرین کے مطابق سوال یہ ہے کہ  عمران خان کو بابر اعوان اور مسرت جمشید چیمہ کے نمبر کیسے یاد تھے؟ کیا عمران خان نے یہ نمبر اپنے موبائل فون سے ملائے؟ کیا نیب حراست کے اندر بھی عمران خان کے سہولت کار موجود تھے؟ کیا عمران خان کا موبائل بھی چالو تھا؟ بابر اعوان کے انکشاف کے بعد اس قسم کےکئی سوال پیدا ہو گئے ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481