اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بلاول نے پی ٹی آئی کو ٹی ٹی پی سے تشبیہ دے دی

آئین پر عملدرآمد کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،بلاول بھٹو زرداری

وزیر خارجہ اور  چیئرمین  پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کو ٹی ٹی پی سے تشبیہ  دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پی ٹی آئی پر پابندی کے حامی نہیں البتہ نیب کے ادارے کو بند کرنا ہوگا۔ پی ٹی آئی نےفیصلہ کرلیا تھاعمران خان گرفتار ہوئے تو ردعمل سیاسی نہیں ہوگا۔اگریہ سیاسی جماعت ہوتے تو پرامن احتجاج کی کال دیتے۔

بلاول نے کہا کہ جی ایچ کیوپرایک حملہ ٹی ٹی پی نے اور دوسراپی ٹی آئی نےحملہ کیا۔ جمعرات کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ بھاری دل کے ساتھ پریس کانفرنس کر رہا ہوں، پاکستان کی تاریخ میں بہت سے سیاہ روز ہیں، پیپلزپارٹی اصولی طورپر کبھی خوشی نہیں مناتی جب کوئی سیاستدان گرفتارہو، سیاست دان گرفتارہوتے ہیں تو پوری سیاست کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی شروع روز سے نیب کےخلاف ہے اور سمجھتی ہے کہ ہمیں نیب کے ادارے کو بند کرنا ہوگا،پیپلزپارٹی نیب کی مخالفت کرتی آرہی ہے اور پی ٹی آئی حمایت کرتی آئی ہے، پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کی نیب ترامیم سے سب سے زیادہ فائدہ عمران خان اٹھا رہے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے تحقیقاتی ادارے نے 190ملین پاؤنڈ پکڑے، برطانوی  حکومت نے190 ملین پاؤنڈ پاکستان کو واپس دلوانا چاہے،عمران خان نےسیل لفافے میں 190 ملین پاؤنڈ کی کابینہ سےمنظوری لی۔190ملین پاؤنڈملک ریاض کودیئے تاکہ وہ سپریم کورٹ میں اپناجرمانہ اداکرسکیں۔ہم اس جرم میں ملوث ہوتےتوجیل میں ہوتے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان سیاستدان ہوتے تو ردعمل سیاست تک محدود رکھتے ، پی ٹی آئی نے پہلے سے فیصلہ کیا اور اس پر عمل درآمد کیا، پی ٹی آئی نے پہلے سے فیصلہ کیا ہوا تھا کہ بندوق اٹھائیں گے اور ریاست پرحملےکریں گے، بلوچستان میں جناح ہاؤس پر بی ایل اے نے حملہ کیا اور لاہور کے جناح ہاؤس پرپی ٹی آئی نے، مجھے نہیں یاد کہ کسی جماعت نے دو ہفتے کے ریمانڈ پر ایسے حملے کیے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے قائدکوپھانسی پر چڑھا دیا گیا لیکن ہم نےجی ایچ کیو پرحملہ نہیں کیا،کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ نہیں کیا، شہید بی بی نے کبھی ایک پتھر بھی نہیں اٹھایا ، بی بی کی شہادت کے بعد پورا ملک غم و غصے سےپھٹ پڑا، ہم نے سیاسی جواب دیا اور پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، عوام کو منع کیا، ہم نے کہا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے ،میں نے کہاتھا کہ یہ سیاسی دہشتگرد ہیں، ہماری بات نہیں مان رہے، پی ٹی آئی کا جو کردار رہاہے، اب ان کو جواب دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہر ریڈ لائن کو کراس کردیا ہے، اب ریاست اور اداروں کی ذمے داری ہے کہ قانون و آئین پر عمل درآمد کریں ،اگر آئین و قانون پر عملدرآمد ہوا تو کوئی جماعت آئندہ آئین و قانون توڑنے کا نہیں سوچے گی۔بلاول نے سوال کیا کہ کیا ریاستی تنصیبات پر حملے کرنے والی پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دینے سے متعلق سوچا جا رہا ہے؟ پی ٹی آئی پر پابندی کے لیے مکمل طور پر آئینی اور قانونی طریقہ کار اپنانا ہوگا لیکن کسی کو کالعدم قرار دینے کے حق میں نہیں ہوں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481