عالمی مالیاتی فنڈ نے قرض دینے کے لیے پاکستان سے پالیسی معاملات پر یقین دہانی مانگ لی ہے۔
آئی ایم ایف ترجمان نے امریکی جریدے بلومبرگ سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کےساتھ قرض کے معاملے پر بات چیت جاری ہے، پاکستان کی جانب سے بات چیت میں تعطل کا کوئی اشارہ نہیں آیا۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے پیٹرول سبسڈی نہ دینے کی یقین دہانی کرادی ہے ،تاہم پالیسی معاملات پر یقین دہانی چاہتے ہیں۔ادھروفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف ہو یا نہ ہو پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا، تمام شرائط پوری کر دی ہیں، آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق معاہدے کیلئے اقدامات کیے۔ اسٹاف لیول معاہدے میں تاخیر پراظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے ڈیفالٹ سے متعلق افواہیں نہ پھیلائی جائیں، پاکستان کے بارے میں ناانصافی پر مبنی عالمی سیاست ختم ہونی چاہیے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ایک عالمی ریٹنگ ایجنسی نے بھی ممکنہ ڈیفالٹ سے متعلق تبصرہ کیا ہے، بین الاقوامی سطح پر لوگ حیران ہیں پاکستان مینج کیسے کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جون تک 3.7 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، پاکستان تمام وعدے پورے اور بروقت ادائیگیاں کرے گا
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 10 ارب ڈالر ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ 9 فروری کو تکنیکی مذاکرات ختم ہوگئے تھے، ایکسٹرنل اکاؤنٹ سے متعلق گیپ کا سامنا تھا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے کیلئے مزید وقت چاہتا ہے تو مزید وقت لے۔
