اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پرتشدد احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا، ہلاکتیں 9ہو گئیں

f88d8159 08dc 4cde 9cd2 63a0ae2d47d7

عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے طول و عرض میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا،راولپنڈی اسلام آباد، لاہور کراچی سمیت کئی شہروں میں شرپسندوں نے جلاؤ گھیراؤ اور مار دھاڑ سمیت پر تشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ،اس دوران  پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو نذرآتش کردیاگیا، دو روز سے جاری پر تشدد  احتجاج اور مظاہروں کے دوران اب تک  9 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔پشاور میں  بدھ کے روز پی ٹی آئی مظاہرین اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔2افرادلاہورمیں بمارے گئے، راولپنڈی اور اسلام آبادمیں کئی میٹروسٹیشنزکو جلاکر خاکسترکردیاگیا۔ پولیس پربھی حملے ہوئے ہیں،جلائو گھیرائو میں املاک کو شدید نقصان پہنچایاگیاہے۔

پشاورمیں 4اموات کے بعد ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

پشاورمیں 4افراد کی ہلاکت اور ہنگامی صورت حال کے باعث  ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور مزید عملے کو طلب کیاگیا ہے۔لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے مطابق 84 زخمیوں کو لایا گیا۔ایدھی ترجمان کے مطابق لاہور میں احتجاج کے دوران پتھراؤ اور شیلنگ کے باعث پی ٹی آئی کے 8 کارکنان زخمی اور دو جاں بحق ہوئے ۔ جاں بحق ہونے والوں میں 25 سالہ عبدالقدیر اور 35 سالہ نامعلوم شخص شامل ہیں۔منگل کو دوافرادجاں بحق ہوئےتھے۔پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلا دیا گیا ،سینکڑوں شرپسندوں نے حملہ کرکے عمارت کو آگ لگا دی اور  مختلف سیکشنز سے سامان لوٹ لیا، شرپسندوں نے فائرنگ کی اور خواتین سمیت اسٹاف پر تشدد کرتے ہوئے نیوز روم کو آگ لگا دی۔

خواتین سٹاف سمیت ریڈیو پاکستان کے عملے پر تشدد

نجی ٹی وی کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنان ریڈیو پاکستان کا مرکزی دروازہ توڑ کر عمارت میں داخل ہو گئے۔ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کا کہنا ہے کہ چاغی یادگار اور ریڈیو آڈیٹوریم کو بھی آگ لگا دی گئی۔بتایا گیا ہے کہ شر پسند فائرنگ بھی کرتے رہے، خواتین سمیت اسٹاف پر تشدد کیا گیا، پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ریڈیو پاکستان حکام کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز بھی شرپسند ریڈیو پاکستان کی عمارت میں داخل ہوگئے تھے اور تباہی مچائی۔مظاہرین نے سڑک پر مریض کو لے جاتی ہوئی ایمبولینس کو روکا گیا اس میں سے مریض کو اتار اگیا اور اس کو نقصان پہنچایا گیا ۔پشاور میں مظاہروں کے دوران مسلسل ہوائی فائرنگ کی جارہی ہے۔

پنجاب  ہنگامہ آرائی میں ملوث مزید 100 شرپسندگرفتار

ادھرپنجاب پولیس نے ہنگامہ آرائی میں ملوث مزید 100 افراد کو گرفتار کر لیاجس کے بعد گرفتار شرپسند وں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہوگئی ۔  پولیسترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ صوبہ بھر میں پولیس ٹیمیں سرکاری املاک پر حملوں، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث شرپسندوں کے خلاف ایکشن ہکر رہی پہیں۔ ویڈیو فوٹیج اور سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کی مدد سے شرپسندوں کو شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔

کس کس کیخلاف مقدمات درج ہوئے؟

عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے پر تشدد مظاہروں،میٹرو اسٹیشن کو آگ لگانے،پولیس وینز پر پتھراؤ، توڑ پھوڑ،حکومت پاکستان اور حساس ادارے کیخلاف نعرہ بازی، ہوائی فائرنگ،ٹریفک اشارے توڑنے، پولیس اہلکاروں پر قاتلانہ حملے،ڈی ایس پی، ایس ایچ او سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے اور کار سرکار میں مزاحمت کرنے پر راولپنڈی پولیس نے چھ مقدمات درج کر لیے،درج مقدمات میں سات سابق ایم پی ایز سمیت 110نامزداور سیکڑوں نامعلوم افراد شامل ہیں،پولیس نے 190سے زائدملزمان کو گرفتار کر لیا ہے،راولپنڈی پولیس نے تھانہ سٹی،وارث خان،صادق آباد اور، مورگاہ،ریس کورس اور دیگر تھانوں میں درج کئے گئے ہیں۔ 110نامزداور900نامعلوم افراد شامل ہیں۔

اسلام آباد میں ایس پی انڈسٹریل ایریا کا دفتر نذر آتش

پولیس ترجمان کا کہنا ہے راولپنڈی پولیس نے 190سے زائد ملزمان کو گرفتارکر لیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔دریں اثنا وفاقی دارالحکومت میں احتجاج  دوسرے روز بھی جاری رہا ۔ سرینگر ہائی وے ایکسپریس ہائی وے پر پولیس اور مظاہرین میں آنکھ مچولی دن بھر جاری رہی۔ ٹریفک بھی معطل رہی ۔ مظاہرین نے ایس پی انڈسٹریل ایریا کا دفتر نذر آتش کردیا۔ ناکہ جی الیون پر توڑ پھوڑ،فائرنگ ۔ پٹرول بموں کے حملے ۔ درخت جلا دیئے ۔ سرکاری املاک نجی گاڑیوں کی توڑپھوڑ ۔مسافروں پر تشدد بھی کیا گیا اور ٹرک بھی لوٹ لیے گئے۔ پولیس نےمتعدد کو گرفتار کر لیا ۔ پی ٹی آئی کے کارکن پولیس لائنز کی جانب آنا چاہتے تھے لیکن پولیس کیساتھ ٹکراؤ دن بھر جاری رہا ۔ سب سے زیادہ ہنگامہ آرائی کی الیون ایچ الیون ۔ پولیس لائنز کے اطراف میں رہی ۔ ترجمان پولیس کے مطابق پی ٹی آئی ورکرز کی جانب سے درختوں کو آگ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔مظاہرین کی جانب سے پٹرول بم پھینکے گئے اور پتھراؤ کیا گیا۔پولیس لائنز کے پاس مظاہرین کو پسپا کیا گیا ۔ اس آپریشن کی قیادت ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری اور ایس پی رخسار مہدی نے کی۔مظاہرین پسپا ہوکر گرین بیلٹ میں چلے گئے۔مظاہرین کی طرف سے درختوں کو جلایا اور پرائیوٹ گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔مظاہرین نے سفر کرنے والے بچوں اور خواتین کو زدکوب گیا ۔ شام کو مشتعل مظاہرین نے ایس پی انڈسٹریل ایریا کے دفتر کو آگ لگادی ۔دفتر کے تمام ریکارڈ کو مظاہرین نے نذر آتش کردیا ۔سوہان کے مقام پر مظاہرین نے ٹریفک بلاک کر کے ٹائروں۔ درختوں کو آگ لگا دی اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا یا۔جی الیون سے جی فورٹین کی طرف سری نگر ہائی وے پر ٹریفک کی آمدورفت مظاہرین نے بند کردی۔ مظاہرین نے اسلام آباد کے تھانہ رمنا کو آگ لگا دی اور تھانہ کے باہر کھڑے دو موٹرسائیکلوں کو جلا دیا ،مظاہرین نے سیکٹر جی الیون مرکز کو بھی گھیرے میں لے لیا تھوڑ پھوڑ کی اور جی الیون مرکز کی جانب دونوں اطراف چوک بند کرکے آگ لگا دی۔وفاقی دارالحکومت میں مظاہرین کی جانب سے پولیس پر فائرنگ سےکانسٹیبل حاکم خان گولی لگنے سے زخمی ہو گئے ، پولیس ذرائع کے مطابق زخمی کانسٹیبل کی حالت اب خطرے سے باہر ہے ۔

بیس خواتین سمیت 73سے زائد ملزمان گرفتار

اسلام آباد پولیس نے عمران خان کی گرفتاری کیخلاف احتجاج کرنے پر بیس خواتین سمیت 73سے زائد ملزمان کو گرفتار کرکے ایک ہزار سے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرلیے۔ملزمان میں دو سابق ممبران اسمبلی خرم نواز ، علی نواز اعوان اور سابق یوسی چیئرمین ملک عامر بھی شامل ہیں۔ سابق صوبائی وزراء اور ممبران اسمبلی سمیت34افراد گرفتار کرلیا گیا۔12افراد کے خلاف مقدمات درج کرکے گرفتارکیا گیا جبکہ 18رہنماؤں اورکارکنوں کو تین ایم پی او کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق گرفتارکئے جانے والوں میں سابق صوبائی وزراء ڈاکٹر مجدعلی (سوات)،شفیع اللہ خان (دیر)،سابق ایم پی ایز اعظم خان،ملک لیاقت خان، تحصیل کونسل کبل کے چیئرمین سعید خان ڈھیرئی،مرادسعید کے ایڈوائزرخورشید کاکاجی سمیت دیگر مقامی عہدیدار اورکارکنان شامل ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق سوات سے 16،بونیر سے 12اور دیر لوئر سے 6افراد کو گرفتار کرلیا گیاہے۔ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں بھی دوسرے روز احتجاج جاری رہا، کارکنوں نے چاروازئی کے مقام پر عین بیچ سڑک کے ٹینٹ لگا کر دھرنا شروع کرکے ٹریفک معطل کر دی ۔احتجاج کے باعث شاہراہ پر مال برادر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481