اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عمران خان کی گرفتاری پرجلاؤ گھیراؤ اور ہنگامے،دو افراد جاں بحق

WhatsApp Image 2023 05 10 at 03.13.50

سابق وزیر اعظم عمران خان کی نیب کیس میں رینجرز کے ہاتھوں اچانک گرفتاری نے ملک کا سیاسی منظرنامہ بدل دیا اور ان کی گرفتاری کے بعد شروع ہونے والا ملک گیر احتجاج  پر تشدد ہو گیا جس کے نتیجے میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں، سرکاری تنصیبات اور اہم حساس تنصیبات پر حملوں کے دوران مالاکنڈ اور کوئٹہ میں دو مظاہرین کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ ایک درجن سے زائد پولیس افسران اور اہلکروں کے علاوہ درجنوں مظاہرین بھی ذخمی ہو گئے ہیں۔

سرکاری املاک پر حملے،اہم شاہراہیں بلاک،ڈھائی سومظاہرین ذیرحراست

احتجاج کے دوران تحریک انصاف کے کارکنوں اور حامیوں نے سرکاری املاک پر حملے کئے،ملک کے مختلف حصوں میں بڑے شہروں کو ملانے والی  اہم سڑکیں بلاک کر دیں، جبکہ کراچی میں کئی سیکورٹی چوکیاں اور گاڑیاں نذر آتش کر دیں۔ مختلف شہروں میں کارکنوں کی پولیس سے جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا ۔ اس دوران پولیس کی جانب سےتوڑ پھوڑ کرنے والے شر پسندوں پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی جبکہ مظاہرین نے سیکورٹی فورسز پر پتھرائو کیا، سیکورٹی فورسز نے مظاہریں کی جارحیت کا تحمل سے جواب دیا اور طاقت کے استعمال سے گریز کیا۔راولپنڈی ، اسلام آباد میں  پی ٹی آئی  کے ڈھائی سو سے زائد کارکن حراست میں لے لئے گئے۔ تصادم میں پولیس افسران و اہلکاروں اور مظاہرین سمیت 15 سے زائد لوگ زخمی ہو ئے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں  ایک قیدی وین۔ 2 ٹینکر اور رینجرز کی ایک خالی چوکی جلا دی گئی۔ ہنگامہ آرائی کے الزام میں پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی اور رکن اسمبلی شاہ نواز جدون کو گرفتار کر لیا گیا۔

لاہور ہنگامہ آرائی کا مرکز بنا رہا،راولپنڈی میں فیض آباد پر شدید احتجاج 

WhatsApp Image 2023 05 10 at 03.19.38 1

اگرچہ عمران خان کی گرفتاری اسلام آباد میں عمل میں آئی جہاں جڑواں شہروں میں احتجاج کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا، تاہم سارا دن اور رات تک لاہور ہنگامہ آرائی کا مرکز بنا رہا، لاہور میں زمان پارک کا کنٹرول ڈنڈابردار پی ٹی آئی کارکنوں نے سنبھال لیا ۔ اس دوران حساس مقامات سمیت مختلف علاقوں میں احتجاج کیا گیا۔ عمران خان کی گرفتاری کے فوری بعد اسلام آباد کی  سری نگر ہائی وے پر پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کیا جس کے بعد راولپنڈی ، اسلام آباد کے دیگر کئی علاقوں میں بھی احتجاج شروع ہو گیا،اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج کو ہمیشہ کی طرح مرکزی حیثیت حاصل رہی جہاں رات گئے تک مظاہرین کی پولیس سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا اور کئی کلو میٹر تک فضا میں ہر طرف آنسو گیس کی بو پھیلی ہوئی تھی۔

لاہور کے مختلف علاقوں اکبر چوک، پیکو روڈ، ٹاؤن شپ، کینال روڈ اور فیصل ٹاؤن کو بند کر دیا گیا۔ ٹھنڈی سڑک اور جیل روڈ کو بھی کارکنان نے ٹریفک کیلیے بند کر دیا۔عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک اور لبرٹی چوک کے علاقوں میں موبائل فون سروس کو معطل کردیا گیا ۔لاہور جی پی او چوک پر وکلا کی طرف سے احتجاج کیا گیا۔ وکلا نے ٹائر جلا کر سڑک بلاک کردی۔ سڑک بند ہونے سے گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔۔عمران خان کے فوکل پرسن حسان نیازی کی قیادت میں لاہور کے مال روڈ پر مظاہرین پہنچے اور انھوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کی وجہ سے پولیس کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ لاہور کینٹ میں بھی مظاہرین نے پولیس وینز کو آگ لگا دی ۔لاہور سمیت پنجاب کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پی ٹی آئی کارکنان نے ٹائر و دیگر املاک کو نذر آتش کر کے عمران خان کی گرفتاری کیخلاف احتجاج ریکارڈ کرایا

کون کون سے راستے بند کئے گئے؟

عمران کے حامیوں نے جی ٹی روڈ روات ، ایکسپریس وے گنگال، فیض آباد ، ترنول پھاٹک ، کلمہ چوک راولپنڈی اور موتی محل اور مال روڈ پر ریلیوں کی صورت میں جمع ہو کر سڑکیں بلاک کر کے احتجاج شروع کر دیا ، مری روڈ پر لیاقت باغ، ریالٹو چوک پر کارکنوں کا پولیس کے ساتھ شدید تصادم ہوا۔ اس دوران پتھراو،  آنسو گیس اور شیلنگ میں ڈی ایس پی طاہر سکندر  اور دیگر پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ، فیض آباد کے مقام پر بھی کارکنوں اور پولیس کے  درمیان تصادم ہوا ، سہ پہر کے بعد راولپنڈی مال روڈ پر مظاہرین  کی بڑی تعداد اکھٹی ہو گئی اور مری روڈ ٹرن سابقہ بت ملکہ چوک پر ایک حساس ادارے کے کے سامنے توڑ پھوڑ کی اور اندر گھسنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنا دیا ،شہر بھر کی سڑکوں پر احتجاج کے باعث ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر رہی جبکہ راہگیر خوف کا شکار رہے۔ شہری مختلف راستوں سے ہو کر اپنی منزل تک پہنچے۔

WhatsApp Image 2023 05 10 at 03.19.37

اسلا آباد کے بعد راولپنڈی میں بھی دفعہ 144 نافذ

ضلعی انتظامیہ راولپنڈی کی جانب سے احتجاج کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ، جبکہ اسلام آباد میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے ، دوسری طرف  قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شرپسندوں کو پکڑنے کیلئے احتجاج کی فوٹیج اور تصاویر اکھٹے کرنے کا عمل شروع کر دیا اور احتجاج میں شامل شر پسندوں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے ، احتجاج،  توڑ پھوڑ،  سرکاری املاک کو بقصان پہنچانا اور سڑک بند کرنے سمیت مختلف دفعات کے تحت تھانہ صدر بیرونی،  روات ، دھمیال ، کینٹ ، آر اے بازار،  سٹی ، وارث خان ،نیو ٹاون،  صادق آباد، ترنول، کھنہ،سہالہ، آبپارہ اور دیگر تھانوں میں مقدمات کے اندراج  کے لیے ضابطے کی کاروائی شروع کر دی گئی ہے،پولیس ذرائع کے مطابق پولیس کی ریزرو نفری کو پولیس لائن میں اسٹینڈ بائی رکھا گیا ہے ۔ پتھراؤ سےاسلام آباد پولیس کے سات اہلکار زخمی ہوئے ۔ آخری اطلاعات تک جڑواں شہروں سے ڈھائی سو سے زائد  کارکن حراست میں لئے گئے جبکہ پتھرائو سے پولیس افسران و اہلکاروں سمیت 15 افراد زخمی ہوئے تھے۔رات گئے تک  فیض آباد بدستور بند تھا تاہم جی ایچ کیو سے ملحقہ علاقے کلیئر کرا لئے گئے تھے۔

کرچی میں شدید ہنگامہ آرائی، املاک نذر آتش، علی زیدی سمیت متعدد گرفتار

کراچی میں قیادت کے حکم پر احتجاج کرنے والےپی ٹی آئی کارکنوں نے شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی بند کردی جس کے سبب گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں،بعدازاں پولیس شارع فیصل کھلوانے پہنچی جہاں پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ بھی کی گئی۔ پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنان نے شارع فیصل پر قیدی وین، واٹر بورڈ کے دو ٹینکر اور رینجرز کی چوکی نذر آتش کردی۔نرسری کے قریب  تحریک انصاف کے کارکنوں نے پولیس پر پتھرائو کیا، پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کیلیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔یونیورسٹی روڈ پرانی سبزی منڈی ،الآصف اسکوائر اور دیگر علاقوں میں بھی احتجاج  سےٹریفک معطل ہو گیا۔کراچی ایئرپورٹ، نمائش چورنگی اور شہر کی مختلف شاہراہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ۔مظاہرین نے پیپلز ریڈ بس پر بھی پتھراؤ کیا جس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے۔

ریڈ زون کی سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی

دوسری طرف اسلام آباد ، لاہور اور کراچی کے ریڈ زون کی سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی، گورنر ہاؤس ،وزیر اعلی ہاؤس اور بلاول ہاؤس کے اطراف میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ان کے علاوہ شہر میں پارٹی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے 23 کارکنان بھی گرفتار کرلیے گئے۔پولیس نے پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی شاہ نواز جدون کو ہنگامہ آرائی کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جس کے بعد صدر تھانے کے باہر رینجرز کی سیکورٹی تعینات کی گئی ۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر و سابق وفاقی وزیر علی زیدی کو بھی کراچی میں گرفتار کرلیا گیا۔

کے پی میں بھی شدید ہنگامہ آرائی،املاک پر حملے

WhatsApp Image 2023 05 10 at 03.19.37 1

صوبہ کے پی میں دارالحکومت پشاورکےب علاوہ  مردان ، چارسدہ ، صوابی ، سمیت دیگر اضلاع میں تحریک انصاف کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور توڑ پھوڑ کی تاہم رات گئے کارکن پولیس شیلنگ سے منتشر ہو گئے مشتعل کارکنوں نے پشاور میں کئی میڈیا ہائوسز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کوزدو کوب کیا ۔ پشاور میں اسمبلی چوک میں چند درجن کارکنوں نے جمع ہو کر ٹریفک روک دی اور بعدازں ریڈیو پاکستان کے قریب ایٹمی دھماکوں کے ساتھ بنایا گیا چاغی کا ماڈل نذر آتش کردیا جس پرپولیس نے کارکنوں نے لاٹھی چارج کیا اور خیبرروڈمیدان جنگ بن گیا ۔ اس دوران مشتعل کارکنوں نے صحافیوں کو  بھی زدو کوب کیا جبکہ میڈیا ہائوسز کی کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ، اسی دوران کارکنوں نے اداروں کیخلاف نعرے بازی کی ، مظاہرین سے خطاب کے دوران سابق صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا ، عبدالکریم خان ، کامران بنگش اور سابق گورنر شاہ فرمان نےحکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پررہا کیا جائے اگر عمران خان کو رہا نہ کیا گیا تو کارکن پورے صوبے میں دھرنا دینگے تاہم چار صوبائی وزراء ، اراکین اسمبلی اور ایک سابق گورنر کی موجودگی میں کارکنوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی ، جی ٹی روڈ پر بھی ٹائر جلا کر ٹریفک جام کردی تاہم پولیس کے آنے کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

جڑواں شہر وں میں احتجاج کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا فیض آباد کے قریب حساس ادارے کے دفتر میں گھسنے کی کوشش کی گئی جہاں ہوائی فائرنگ سے چار افراد زخمی ہوئے ۔ ٹیکسلا کے علاقہ سرائے کالا چوک میں پولیس اور کارکنوں میں تصادم میں 22 پولیس اہلکار زخمی ہو ئے یہاں اے ایس پی ٹیکسلا زینب ایوب نے پولیس کی نفری کیساتھ بھرپور انداز میں کارروائی کرتے ہوئے بین الصوبائی سڑک کو کھول دیا ۔ جب کہ ٹیکسلا میں فائرنگ سے چار افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے ۔ رات گئے گرفتاریاں 200 سے تجاوز کر گئیں ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481