اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

قدیمی گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مری کو اپ گریڈ کر کے گریڈ 19 کی آسامی پر پرنسپل تعینات کی جائے

FB IMG 1683438547341 1

اسے عوامی نمائندوں کی نااہلی کہیے یا محکمہ تعلیم، حکومت پنجاب کی بےحسی کہ 1953 سے قدیمی "گورنمنٹ گرلز ہائی سکول، مری” کو اپ گریڈ کرنے کے بجائے 2011/12 میں ناقص کارکردگی کا بہانہ بنا کر پرنسپل کی آسامی BPS 19 سے BPS 17 میں ڈی گریڈ کر دی گئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محکمہ تعلیم سارا سال اعلی معیار تعلیم برقرار رکھنے کے لیے کیا کیا اقدامات کرتا ہے۔ اساتذہ کی جدید خطوط پر تربیت کے لیے کون کون سے "ٹیچرز ٹریننگ پروگرام” متعارف کروائے گئے ہیں؟ شکایات اور درخواستوں پر عمل درآمد کی کیا صورت حال ہے۔ سکول کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا بندوبست کیا گیا ہے۔ مرمتی کام کے لیے فنڈز مہیا کیے جاتے ہیں؟

دراصل محکمہ تعلیم کا یہ ظالمانہ عمل ہزاروں غریب طالبات کے مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش تھی۔  سابق دور حکومت میں گلی محلوں کے سکولوں کو بھی اپ گریڈ کیا گیا لیکن مری شہر کی عظیم قدیمی چار کنال اراضی پر محیط تعلیمی درسگاہ توجہ سے محروم رہی۔ ناروا سلوک کا اندازہ اسی امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس درسگاہ میں آنے والی غریب طلبات پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہیں۔  تحصیل ایڈمنسٹریشن مری، محکمہ واٹر سپلائی والے سکول کو ہر تیسرے دن 20 منٹ کے لیے پانی کی سپلائی فراہم کرتے ہیں۔  جب کہ اس درسگاہ میں پانچ سو طالبات زیر تعلیم ہیں، اساتذہ ہیں، سٹاف ہے۔ پانی کی یہ مقدار تو اتنے لوگوں کے پینے کے لیے بھی ناکافی ہے۔  واش روم میں استعمال کے لیے پانی کی عدم دستیابی کی شکایت کیا کی جائے۔

FB IMG 1683433754868

سکول کی مین باؤنڈری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ جس کی وجہ سے چھ کمرہ جات پر تعمیر شدہ نئے بلاک بھی خطرے میں آ ہے۔  محکمہ بلڈنگ کے افسران کو متعدد بار سکول کی باؤنڈری کی تعمیر کے لیے درخواستیں دی گئیں ہیں لیکن کئی سالوں سے دفتری خانہ پری کے لیے صرف دوروں پر اکتفا ہے۔

FB IMG 1683433760714

اس قدیمی سکول میں عرصہ سے ہیڈ مسٹریس کی آسامی پر نہیں کی گئی۔  ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ عارضی چارج پر ایک ٹیچر ہیڈ مسٹریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ سکول کے عملے کی تعداد 25 کے قریب ہے۔

سکول میں زیر تعلیم پانچ سو سے زائد طالبات تہار جاوا، چٹہ موڑ، کھنی تاک، بن کوٹل، دریا گلی، سندھیاں، کلڈنہ، سنی بنک، ہل ٹہولو، نمبل، لوئر ٹوپہ اور مری شہر سے تعلیم حاصل کرنے آتی ہیں۔  لیکن سہولیات کی عدم دستیابی کی صورت حال یہ ہے کہ پانی جیسی بنیادی سہولت بھی موجود نہیں۔ محکمے کی مجرمانہ غفلت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے عوامی حلقوں، مقتدر سماجی شخصیات، فلاحی و رفاہی تنظیموں کے ساتھ ساتھ  رورل ایریاز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (RADO) نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ احکام سے اس قدیمی درسگاہ کو ہائر سکینڈری کا درجہ دے کر فوری اپ گریڈ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ اس قدیمی سکول میں ہر سال بورڈ کے سنٹر میں دیگر سکولوں کی سینکڑوں طالبات بھی امتحان دینے کے لیے آتی ہیں۔ اس مرتبہ صبح کے سیشن میں 270 جب کہ شام میں 240 طالبات کلاس نہم کا امتحان دے رہی ہیں۔  لیکن سہولیات کے ضمن میں جیسے کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔

FB IMG 1683433737619

اعلی افسران سیزن کے دوران موسم سے لطف اندوز ہونے اور ٹی اے ، ڈی اے کے فوائد حاصل کرنے کے لیے روایتی دوروں کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری رکھتے ہیں۔ لیکن انھوں نے کبھی مسائل کی رپورٹ بنا کر پیش کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ حال آنکہ طالبات کی اتنی بڑی تعداد کے لیے اب اس قدیمی سکول کی عمارت بھی ناکافی ہو چکی ہے۔ پرنسپل کی تعیناتی معرض التوا میں ہے۔ مرمتی کام پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ ٹیچرز ٹریننگ کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ طالبات کے لیے غیر نصابی سرگرمیوں اور سپورٹس کی سہولیات کا کیا مذکور۔

ہم وزیراعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری تعلیم،  پنجاب کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کرواتے ہوئے درخواست کرتے ہیں کہ اس قدیمی گرلز ہائی سکول کو اپ گریڈ کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ نیز سہولتوں کے فقدان کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو فوری طور پر سہولیات ضروریہ کی فوری فراہمی کے احکامات جاری کیے جائیں۔  نیز ہیڈ مسٹریس کی ڈی گریڈ آسامی کو دربارہ اپ گریڈ کرکے مستقل ہیڈ مسٹریس تعینات کی جائے۔

ہم علاقے کے سیاسی عمائدین اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

FB IMG 1683438547341 Picsart 23 05 07 10 57 52 487

صاحب تحریر عبدالرحیم عباسی

جنرل سیکریٹری

RADO

FB IMG 1683438819451


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481