اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایک ہی روز قومی انتخابات بحرانوں کا واحد حل ہیں۔ سراج الحق

siraj ul haq pic 0001 1

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے ملک کی تاریخ میں پہلی بار پارلیمان اور سپریم کورٹ آمنے سامنے ہیں۔ اداروں اور سیاست دانوں میں لڑائی سے پاکستان دنیا بھر میں تماشا بن گیا۔ سیاسی بدحالی کی وجہ سے معیشت تباہ ہے جس کے براہ راست متاثرین عوام ہیں، اشرافیہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مہنگائی نے عام آدمی کو زندہ درگورکردیا، لوگوں کے کاروبار تباہ ہوگئے، مزدور، کسان، نوجوان سمیت ہر شخص پریشان اور مایوس ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات نہ کیے تو ماضی کی طرح کوئی اورفیصلہ کرے گا۔  ملک کے اصل وارث عدالت، سیاسی جماعتیں یا اسٹیبلشمنٹ نہیں، عوام ہیں جن کا فیصلہ لیا جانا وقت کی ضرورت ہے۔ ایک ہی روز قومی انتخابات موجودہ سیاسی، آئینی اور معاشی بحرانوں کا واحد حل ہیں۔ سیاسی افراتفری کا حل عدلیہ یا کسی اور ادارے نے نہیں، سیاسی جماعتوں نے ڈھونڈنا ہے۔سٹیک ہولڈر کی حیثیت سے جماعت اسلامی قومی انتخابات پر سیاسی پارٹیوں کا اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ ہم سمجھتے ہیں انتخابات کے لیے عوام کو سازگار ماحول فراہم کرنا سیاستدانوں کی اولین ذمہ داری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز سپریم کورٹ میں گوادر کو حق دو تحریک کے رہنما اور جماعت اسلامی بلوچستان کے سیکرٹری جنرل مولانا ہدایت الرحمن کی رہائی سے متعلق دائر اپیل کی سماعت پر پیشی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔نائب امرا لیاقت بلوچ، میاں محمد اسلم، ڈاکٹر فرید پراچہ اور اسد اللہ بھٹو بھی اس موقع پر موجود تھے۔
سراج الحق نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالت عظمیٰ  میں جماعت اسلامی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے دلائل دیے کہ مولانا ہدایت الرحمن پر قتل کا جھوٹا مقدمہ ہے جس میں وہ سو فیصد بے گناہ ہیں، جس پر عدالت نے حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے، امید ہے کہ اگلی پیشی پر انصاف ہوگا اور ہدایت الرحمن کو بے گناہ قید سے رہائی ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہدایت الرحمن کو گوادر کے مچھیروں اور مقامی رہائشیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں جیل میں ڈالا گیا اور اس کو چارماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ انہوں نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ جماعت اسلامی گوادر سمیت پورے بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے ایوانوں، عدالتوں اور چوکوں چوراہوں میں موثر آواز بلند کرتی رہے گی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481