اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کوہسار جنگلی سوروں کی افزائش سے گھمبیر مسائل کی آماجگاہ بن گیا

FB IMG 1683211596970

مری ، کوٹلی ستیاں، گلیات، سرکل بکوٹ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں جنگلی سوروں کی افزائش میں مسلسل اضافے نے یہاں کی زراعت ، جنگلات ، جنگلی حیات، لائیو سٹاک ، پانی کے ذخائر، زمین کی زرخیزی اور ماحول کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر اب یہاں کے باسیوں کی زندگی، صحت اور معشیت کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔
چونکہ ہمارے ہاں متعلقہ ادارے ان جنگلی سوروں کے سماج پر اثرات بد پر کوئی تحقیق کر رہے ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں عوام میں کوئی آگاہی مہم چلا رہے جس کی وجہ سے یہاں کے مکین بری طرح معاشی و معاشرتی بحران سے دوچار ہو چکے ہیں۔
متعلقہ اداروں کی روائتی سستی و کاہلی اور غفلت اپنی جگہ قابل مذمت ہے لیکن ان اداروں کے غیر فعال کردار پر مقامی میڈیا بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ میڈیا حادثات و واقعات کو فقط رپوٹ کرکے مطمئن ہو جاتا ہے۔ تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور تحقیقاتی صحافت کے فقدان کی وجہ سے یہ انتہائی اہم شعبہ اپنا معیار، وقار اور مقام کھو چکا ہے۔
آئیے ان جنگلی سوروں کے دھرتی ماں پر ہونے والے بد اثرات کا جائزہ لیتے ہیں
1. زراعت: یہ مقامی کسانوں کی فصلوں اور پھلوں کے باغات کی اس قدر تباہی و بربادی کر چکے ہیں کہ اب کوئی بھی کاشتکار اپنی زمینوں کو آباد کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ جس کی وجہ سے علاقائی اور قومی زرعی معیشت میں مقامی آبادی کا کردار ختم ہو چکا ہے۔
نوٹ۔ ان سوروں کی موجودگی سے پہلے یہ علاقے آلو ، مکئی اور سیب کی پیداوار میں خود کفیل تھے۔
2- صحتِ عامہ: یہ سور تقریباً تیس کے قریب بیماریوں کو پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں جن میں ہپاٹائٹس ، دمہ، سانس کی بیماریاں اور الرجی شامل ہیں۔
3- جنگلات : مری، کوٹلی ستیاں, گلیات کا قدرتی حسن اس کے گھنے جنگلات کی وجہ سے ہے۔۔۔۔ قدرت نے ان جنگلات کو مختلف النوع جنگلی حیات کا مسکن بنایا تھا۔  جہاں ان کی گزربسر کے لیے خوراک کا بہترین انتظام بھی تھا۔ لیکن ان سوروں کی زیادہ تعداد اور مسلسل افزائش نے دوسری جنگلی حیات کی بقا کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

خطرناک ترین پہلو یہ ہے کہ deforestation  میں بھی سوروں کا بنیادی کردار ہے۔ جس کی واضح مثال یہ ہے کہ جب درختوں سے ان کے بیج زمین پر گرتے ہیں تو وہاں قدرتی عمل کے ذریعے پودے اگتے ہیں۔ پودوں کی نمو کے ساتھ ساتھ دوسری بیش قیمت جڑی بوٹیاں اور مشروم کی مختلف اقسام بھی جنگلات میں اگتی ہیں۔ لیکن سور ان مشروم سے اپنی خوراک کے حصول کے دوران زمین کی سطح کو تاراج کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے خودرو ننھے پودے ضائع ہو جاتے ہیں۔ یوں یہ سور جنگلات کی بڑھوتری میں بتدریج کمی کے ساتھ ساتھ بیش بہا قیمتی جڑی بوٹیوں کے خاتمے کا باعث بن رہے ہیں
4- ماحول :  یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ سور جنگلات کی تباہی کا باعث ہیں۔ نتیجتا ماحول کی تباہی، ایکو سسٹم کا ڈسٹرب ہونا، بہتے چشموں کی پراگندگی، ہوا کی کوالٹی کا کمزور ہونا، نایاب نباتات کے عنقا ہونے سے ماحول پر اثرات بد کے بارے میں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ ان سوروں کی موجودگی اور ان کی افزائش میں مسلسل اضافے سے ماحول کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔
5- محکمہ وائلڈ لائف : (جنگلی حیات) ۔ جنگلی حیات کے تحفظ کا یہ محکمہ اس علاقے میں اپنے قیام سے لےکر آج تک اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کلی طور پر ناکام رہا ہے۔ جس کی بہت سی مثالیں یہاں کے باسیوں کے ساتھ پیش آنے والے آئے روز کے واقعات اور حادثات سے پیش کی جا سکتی ہیں۔  کبھی جنگلی چیتے اور دوسرے خطرناک جنگلی جانور یہاں کے باسیوں کے مال مویشیوں کو جان سے مار جاتے ہیں تو کبھی انسانی زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ پہلے تو بات کروڑوں کے نقصان کی تھی جو جنگلی سوروں نے مقامی زراعت اور باغبانی کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے کیا لیکن تباہی یہاں پر ہی رکی نہیں بلکہ اب تو یہ جنگلی سور انسانی جانوں کے بھی درپے ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود ان واقعات کی روک تھام کے لیے اس محکمے کی طرف سے کوئی عملی اور ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ جس کی وجہ سے یہاں کے مکینوں میں ڈر اور خوف کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ علاقے کے تمام عوام باہم متحد ہو کر اس ناسور سے چھٹکارا پانے کے لیے لائحہ عمل طے کریں اور اس پر عمل کے لیے عملی طور پر اپنا کردار ادا کریں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481