اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

حوالدار کالا خان ..جرات و بہادری کا کوہ گراں

9280f18d 3afe 4d08 83de e987ee661dbc

حوالدار کالا خان جو 3 دسمبر 1971 کو حسینی والا سیکٹر میں (گنڈا سنگھ بارڈر) اپنے وطن کی ناموس پر قربان ہو گئے۔ ان کی بہادری اور قربانی کے اعتراف میں انہیں تمغہِ جرأت عطا کیا گیا۔
حوالدار کالا خان کا تعلق گاؤں لنگا (چکوال) سے تھا جیسے کہ چکوال اور اس کے گردونواح کے لوگوں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ جنگجو صفت اور ناموسِ وطن پہ جان دینے والے لوگ ہیں یہی خواص کالا خان میں تھے۔ کالا خان کے اپنے خاندان کے لوگ بشمول ان کے اپنے والد، چچا اور دیگر قریب اور دور کے رشتہ داروں میں اکثریت کا تعلق پاک فوج سے تھا۔ کالا خان کے والدولی محمد(8 پنجاب) نے48 اور65 کی جنگوں میں حصہ لیا۔ وطن کی مٹی سے محبت اور وفا کا جذبہ اُن کی خاندانی میراث تھا۔
کالا خان10 مارچ1960 میں 3 پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ اپنی تعلیمی قابلیت اور شوق میں انہوں نے ترقی کی منازل طے کیں۔ آپ 1965میں رسالپور میں بم ڈسپوزل کورس کر رہے تھے کہآپ کو یونٹ میں بُلایا گیا۔ یونٹ آکر انہوں نے یونٹ کے انٹیلیجنس سیکشن میں خدمات سر انجام دیں۔1965کی جنگ میں انھیں اپنی پلٹن میں اہم ذمہ داریاں ملیں جو انہوں نے نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیں۔ اسی دوران ایک کارروائی میں وہ جنگی قیدی بنے اور دشمن جو ان کے ڈیل ڈول کو دیکھ کر یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ پاکستان کا فوجی آفیسر ہیں، اُن پر بے انتہا تشدّد کیا کہ ان سے کچھ راز نکل سکیں لیکن کالا خان ثابت قدم رہے اور قید سے6 ماہ بعد رہائی پر اپنی ہی پلٹن میں شامل ہوئے۔
کالا خان 1971 میںNon Commissioned آفیسر تھے اورSchool of Military Intelligence میں عسکری خدمات سر انجام دے رہے تھے۔انہی دنوں پاک بھارت کشیدگی کے باعث جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔ اِس دوران اُنہیں فوری طور پریونِٹ پہنچنے کا حُکم ملا۔ اپنی قابلیت اور ذہانت کی وجہ سے اُنہیں لیفٹنٹ کرنل غلام حسین، کمانڈنگ آفیسر 3پنجاب کے ساتھ انٹیلی جینس حوالدار ڈیوٹی پر معمور کیا گیا۔ جو کہ جنگی حالات میں انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ جنگ1971 میں ان کی یونٹ کے سامنے جنگی میدان میں بارودی سرنگیں لگی ہوئی تھیں۔ کالا خان کے سی او، لیفٹیننٹ کرنل غلام حسین نے ان کی پلٹن کو اس رکاوٹ سے کامیابی سے نکالنے پر مامور کیا۔ کالا خان نے یہ کام نہایت مستعدی اور پیشہ ورانہ طریقے سے سر انجام دیا۔ انہوں نے کمال بہادری سے بارودی سرنگوں میں راستہ تلاش کیا اور اپنے ساتھیوں کو اس سے نکلنے میں مدد دی۔3 دسمبر1971 ء کو حسینی والا سیکٹر میں ایک کامیاب حملے کے دوران اپنے CO کی طرف Automatic Machine Gun کا فائر کھُلتا دیکھ کر انھوں نے اپنے آپ کو CO کی ڈھال بنا دیا اور گولیوں کا برسٹ لگنے کی وجہ سے شہید ہو گئے۔ پاک فوج نے ان کی بہادری پر تمغہِ جرأت عطا کیا۔3 پنجاب کی جنگی تاریخ کا یہ ایک اہم باب تھا جس میں اِس کے 30 بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
گائوں لنگا میں کالا خان کی بیگم اپنے دو بچوں دس ماہ کے طارق اور اڑھائی سال کے طلعت کے ساتھ اُن کی کامیابی اور زندگی کی دُعا کر رہی تھیں۔ کالا خان کے والد جو خود ایک سابقہ فوجی تھے روزانہ ڈاکخانے میں سرحدوں پر لڑنے والے سپاہیوں کی خیریت پتہ کرنے جاتے کیونکہ اُس میں اُن کے اپنے قریب اور دور کے رشتہ دار سمیت اپنے بیٹے کی خیریت دریافت کرنا مقصود ہوتا۔ایک دن روزانہ کی طرح جب وہ ڈاکخانے پہنچے اور پوسٹ ماسٹر سے اپنے بیٹے کی خیریت کا احوال پوچھا اور کسی قسم کی کوئی چٹھی آنے کا دریافت کیاتو پوسٹ ماسٹر نے ہمیشہ کی طرح بتایا کہ آپ کی کوئی چٹھی نہیں ہے حالانکہ اُس دن کالا خان کی شہادت کا ٹیلی گرام پہنچ چکا تھا۔ کالا خان کے والد اپنے گھر واپس آئے اور گھر والوں کو بیٹھک خالی کرنے کو کہا جو اِس بات کا اِشارہ تھا کہ کوئی بڑا واقعہ رونما ہو ا ہے۔ تھوڑی دیر میں کالا خان کے ماموں جو قریب ہی میں رہتے تھے، وہ ٹیلی گرام ساتھ لے آئے جس میں کالا خان کی شہادت کی خبر تھی۔ یہ پورے گھر کے لیے ایک غیر یقینی سی صورتِ حال تھی۔ کالا خان کی بیگم جو اپنے دو کم سِن بچوں کے ساتھ بیٹھی تھیں اُن کی رفاقت کالا خان سے تین سال سے کم عرصے کی رہی اور ابھی وہ 20سال کی تھیں ، اُنہیں ایک اتنے بڑے سچ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک ایسا سچ جس نے اُن کی زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا۔
کالا خان کی میّت کو اُن کے والد اُسی دن لینے کے لیے یونٹ چلے گئے۔ میّت کو گھر لایا گیا۔ لوگ فخر کررہے تھے کہ آج اُن کے علاقے اور خاندان کا پہلا سپوت جنگ میں شہید ہو کر اپنے گائوں کی مٹی میں دفن ہونے کے لیے آیا ہے اور گائوں کا یہ پہلا شہید تھا جس نے میدانِ جنگ میں شہادت حاصل کی۔ لوگوں نے جب کالا خان کے والد جو بہت نمازی اور پرہیزگار تھے، سے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ کالا خان شہید ہوئے ہیں جبکہ پوسٹ ماسٹر نے انہیں نہیں بتایا تو انہوں نے بتایا کہ وہ بیٹے کے لیے بے چین تو وہ ہر وقت رہتے تھے اور اس لیے وہ ڈاکخانے جاتے تھے لیکن کل رات مجھے ایک خواب آیا کہ ایک سبز رنگ کا پرندہ میرے دائیں کندھے پر آکر بیٹھا ہے اور جب میں نے اسے پکڑنا چاہا تو میرے ہاتھ سے نکل کراوپر اُڑ گیا۔ مجھے اس سے محسوس ہوا کہ میری کوئی قیمتی چیز مُجھ سے جانے والی ہے۔
گائوں کے کُچھ لوگوں نے جب کُچھ آہ و بکا کرنا چاہی تو کالا خان کی والدہ نے سختی سے منع کیا کہ آج کا دن فخر کا ہے اور میں اللہ کے دیئے ہوئے اِس فخر پہ بہت مطمئن اور شہید کی ماں کا رُتبہ پانے پر بہت شُکر گزار ہوں۔ لوگوں نے صِرف معجزوں کا سُن رکھا تھا دیکھا نہیں تھا لیکن آج کا دِن معجزہ دیکھنے کا تھا۔ تدفین کے دِن یونٹ والوں نے بتایا کہ کالا خان کی شہادت آج سے 25 دن پہلے جنگی محاذ پر ہو گئی تھی جہاں اُن کی امانتََا تدفین کی گئی تھی اور آج 25دن کے بعد اُن کو اُن کے آبائی گائوں لنگا(ضلع چکوال) میں سپردِ خاک کیا جا رہا تھا۔دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اُن کا کفن خون سے تازہ تھا اور یوں لگتا تھا جیسے شہادت چند لمحے پہلے ہی ہوئی ہو۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481