اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کالم ۔۔۔۔۔۔ "مزدور”

FB IMG 1618206927786 1

✍️  کالم شالم۔

مزدُور

ہم(نور پیر نے ویلے) علی الصبح واک کے لیے نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک جانی پہچانی سی شکل والے بزرگ آگے آگے چل رہے ہیں۔ ہم نے دعا سلام کی بسیار کوشش کی لیکن وہ "رُسی تریمت” کی طرح نظر چُراتے رہے۔ بالآخر ہم نے آواز دی "بڈیو! ذرا رکیے تو ! ” وہ بولے۔۔۔

"جا اپنا پینڈا ناپ، مغز نہ چُٹ”

ہم نے عرض کیا۔۔۔۔۔۔۔

"سرکار کوئی غلطی گستاخی سرزد ہوگئی ہو تو معافی تلافی فرماؤ اور ارشادو کہ آج ہمارے کاکول روڈ پر کیسے؟”

وہ گویا ہوئے۔۔۔۔۔

"میں پاسنگ آوٹ پریڈ دیکھنے نہیں آیا بلکہ میجر ایبٹ روز طعنے مارتا تھا کہ جو شہر اس نے آباد کیا تھا اسے مسلمانوں نے بدصورتی کا نمونہ بنا دیا ہے۔  بے ہنگم عمارات، گندگی کے ڈھیر، رہائشی کالونیوں میں افغان مہاجرین کے جانوروں کے باڑے،  ہر گلی میں گاۓ کا گوبر، بکریوں کی مینگنیاں، کچرے سے بھرے شاپر۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ میجر ایبٹ کافر ہے اور جھوٹ بول کر دوزخ کی دیوار پر بیٹھ کر ہمارے جنت کے مزے خراب کر رہا ہے۔ لیکن پھر میں نے سپیشل پاس حاصل کیا تاکہ خود اس کے الزامات کے حوالے سے مشاہدہ کر سکوں۔ لیکن یہاں آ کر ماننا پڑا کہ ایبٹ کافر ضرور ہے مگر جھوٹا نہیں ہے؟ واقعی رہائشی آبادی میں جانور اور آوارہ کُتے کُھلے پھرتے ہیں۔ چونکہ یہ ایریا آرمی کے زیر کنٹرول کنٹونمنٹ کے زیر انتظام ہے۔ سو میں نے بہت کوشش کی کہ کسی صاحب اختیار سے مل کر معاملے کو اٹھاؤں مگر مجھے دفاتر میں گُھسنے ہی نہیں دیا گیا۔ حالانکہ میری بڑی بڑی تصاویر چوک، چوراہوں پر آویزاں کر رکھی ہیں؟

ہم نے”ساہ "بحال کرتے ہوئے کہا۔۔۔

"مرشد ! آج مزدور ڈے ہے آپ یہ کیا "کٹا ” کھول بیٹھ گئے ہیں؟

مرشد کا لہجہ یک دم تلخ ہو گیا۔  کہنے لگے۔۔
"افسوس صد افسوس تم سب پر۔  بلکہ "فٹے منہ توہاڈا”۔ جب تم خدا اور رسول کے احکامات نہیں مانتے تو میں اور میری شاعری کس باغ کی مولی ہے۔ رسول رحمت نے تو محنت کش کو اللہ کا دوست قرار دیا۔ پھر آقا نے ہمیں حکم دیا کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دیں۔ کیا ہم ان احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ میری شاعری میں آپ کو محنت کی عظمت کا درس ملے گا۔ میں نے رب کائنات سے بھی دست بستہ عرض کی کہ۔۔۔

FB IMG 1682037260443

تو عادل و منصف ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات !

میری ساری شاعری پڑھ کے دیکھ لو میں نے سرمایہ داری کے مکروہ چہرے اور استحصالی ہتھکنڈوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ملاؤں اور پیروں کی لوٹ کھسوٹ کو عیاں کیا ہے۔ اور تحرک اور عمل کی ترغیب دی ہے۔۔۔

اٹھو میری دنیا کےغریبوں کوجگا دو
کاخِ امراء کےدر و دیوار ہلا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اُس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

 

یہ سب کچھ میں نے تمہارے لیے لکھا تھا۔ مگر عمل کافروں نے کیا۔ اور تم آج بھی سرمایہ داروں کے درباروں میں نعرے لگاتے اور ذلیل وخوار ہوتے ہو۔ جو کھیت تمہاری روزی روٹی کے لیے تھے وہ ملک ریاض، بحریہ ٹاون اور ڈی ایچ اے نے اجاڑ دیے ہیں اور تم” پہنگ پی کر سُتے رہے” ۔ تمہارا کُج نینھ ہو ہکدا ”

مرشد جناح آباد بائی پاس تک پہنچے تھے کہ بولے ۔۔۔

"کیا یہ کالونی جناح صاحب نے آباد کی تھی؟

ہم نے شرماتے ہوئے عرض کیا کہ نہ مرشد۔ ہم نے آپ جیسی نابغہ روزگار شخصیات کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کے نام سے بہت سے شہروں، علاقوں اور سڑکوں کو آپ کے ناموں سے منسوب کر دیا ہے۔ تاکہ دنیا کو بھی علم ہو کہ ہم آپ کو اپنے آئیڈیل سمجھتے ہیں۔”

مرشد غصے سے” رتے لال ” ہوگئے اور خالص عربی میں گالیاں ارشاد فرمانے لگے۔ ہم "ہتھ بنہہ کے” کھڑے ہو گئے کہ مرشد کوئی دعا وظیفہ وغیرہ ہمارے لیے پڑھ رہے ہیں۔ ہمیں یوں با ادب کھڑا دیکھ کر مرشد اپنی اصلی زبان پر آئے یعنی پنجابی پر اور عربی سے پنجابی میں جب ترجمہ کیا تو ہمارے کاندھوں پر براجمان کراما کاتبین کاپی پنسل "سٹ” کے پاس سے گزرتی سوزوکی میں بیٹھ کر منڈیاں کو "نس” گئے اور ہم مرشد کی "کراری کراری” شُدھ پنجابی کی گالیاں سُنتے اور سر دھنتے رہے۔

یوم مزدور تو "ریہا ہک پاسے” ہماری واک کا مزہ دوبالا ہوگیا۔

"مرشد دا دیدار وے باھو
مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھُو”

ہم نے مرشد کو ناشتے کی آفر ماری جو نہ قبولی گئی اور کہا گیا ” نکھتریا ” جنتی ناشتہ چھوڑ کر تمہارے” اولپر ددھ تے سرکاری کالے شاہ آٹے دے پراٹھے کھاونڑ نالوں میں پُہکھا لکھ درجے بہتر ہاں ”
چنگا رب ہی راکھا ؟
ہم پشیمان پشیمان بوجھل” لتاں” ہی نہیں دل  نال اپنے گھر کو لوٹے کہ چاہ "پانی” اور پراٹھا "ٹھڈا برف” ہو رہا تھا۔

 

FB IMG 1683017653422

images 48


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481