اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ماں کی دعا

d2bca8e4 9f10 4747 938a 8b8c7c11b12c

جنوری کی ٹھنڈی دوپہر میں ایک بوڑھی اماں جی اسلام آباد کچہری کے باہر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی تھیں ہلکی ہلکی بارش میں آدھی بھیگی ہوئی تھیں جمعہ کا دن تھا میں دو عدالتوں میں اپنا کام ختم کر کے میں تیز رفتار قدموں سے آفس سے نکلا۔ کچہری کے باہر جیسے ہی گاڑی میں بیٹھنے لگا تو میری نظر ان پر پڑی۔ بڑی اداس اور دیوار کے سہارے کھڑی 90 سالہ بزرگ خاتون ہاتھ میں چند کاغذات جو شاپر میں لپٹے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے زندگی کے سارے مقدمات ہار چکی ہوں۔ گاڑی میں بیٹھا میں حیرت اور تجسس سے انھیں دیکھ ریا تھا۔

آخر کر مجھ سے رہا نہ گیا میں نے ہاہر آکے ان سے پوچھ ہی لیا۔ ماں جی کیوں پریشان ہیں آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ایک لمحہ کے لیے انھوں نے مجھے نظریں بھر کے دیکھا اور فر بولی۔ بیٹا تم وکیل ہو ۔ میں نے جواب دیا، جی میں وکیل ہوں۔ وہ بولیں میں گاوں ۔۔۔۔۔۔۔۔سے ہوں کچھ جگہ تھی جو میرے خاوند کے مرنے کے بعد میرے رشتےداروں نے ذبردستی مجھ سے انگوٹھے لگوا کر اپنے نام کروا لیں۔ اب میں اپنی پاگل بیٹی کے ساتھ چھوٹے سے گھر میں رہتی تھی کل عدالت کا نوٹس ملا ہے۔انھوں نے مجھے دیگر کاغدات کے ساتھ عدالتی نوٹس نکال کے دیکھا۔ اور ساتھ انکی آنکھیں بھرآئین۔وہ بتانے لگیں بیٹا کسی نے مجھے یہ بتایا ہے کہ عدالت نے جس گھر میں رہتی ہوں وہ بھی میرے رشتےداروں کے نام کر دیا ہے میں پریشان ہوں اپنی پاگل بیٹی کے ساتھ کدھر جاوں گی۔

ماں جی نے کہا میرے پاس پیسے نہیں نا کوئی کمانے والا ہے کہ وکیل کی فیس یا دیگر اخراجات برداش کر سکوں۔روتے ہوئے ان کی ہچکی بند گئی میں ان کو اپنے آفس لے گیا میں نے ساری تفصیلات جانیں۔ وہ واقعی ہی عدالتی نوٹس تھا میں نے عدالت سے فائل نکلوائی اماں جی سے وکالت نامہ میں انگوٹھا لگوایا ۔ دعوے کا جواب تیار کر کے عدالت میں داخل کر دیا۔ اماں جی کو چاے پلائی کھانا کھلایا حوصلہ دیا اور کچھ نقد حدیہ دے کر یہ کہتے ہو رخصت کر دیا کہ میں آپ کا وکیل ہوں آپ کا مقدمہ مفت لڑوں گا آپ کو اپنے گھرسے کوئی نہیں نکال سکتا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے آپ بے فکر ہو کے گھر جائیے۔
جاتے ہوئے اماں جی قدرے پر اطمینان تھی۔ انھوں نے مجھے ڈھیروں دعائیں دیں۔ آج پورے چار ماہ بعد جمعہ والے دن ہی وہ مقدمہ میں نے جیت لیا ہے آج پھر سماں جی میں نے اپنے آفس میں بلایا تھا اپنی طرف سے مٹھائی پیش کی کہ آپ کی دعاؤں کے سبب مقدمے میں کامیاب ہوا ہوں۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور آخری دعا یہ تھی۔ ( پتر تیرا رہتی دنیا تک نام رہے گا انشااللہ )
.


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481