اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عام آدمی..یوم مزدور پر خصوصی تحریر

72aa0fac 6b94 4710 a908 d815c71586ee

اپریل بھی اس بار آگ برسارھا تھا.جس کی وجه سے رات بھی گرم تھی.شام کا آغاز ھی سورج کے ڈوبنے کے باوجود بہت برھمی لیے ھوۓ تھا.کچھ حالات کی تلخیاں بھی تپش بن کر بے کل کر رھی تھیں.
وه جیسے ھی اپنے تنہا کمرے میں داخل ھوا,دنیا جہاں کی محرومیاں اسکے گرد ناچنے لگیں. وه تھک کر بیٹھ گیا…دیوار سے ٹیک لگائی تو گرم دیوار نے پیٹھ ایسے جلائی گویا دل جلادیا ھو…زندگی سے بیزاری اسکے دل په سوار ھورھی تھی.وه بار بار اپنی کیفیت کو درست کرنے کی کوشش کرتا…مگر دل تھا که سنبھل ھی نھیں رھا تھا…”کیا غربت مجھے گھن کی طرح چاٹ کھاۓ گی??
کیا میرے مسائل جونک کی طرح مجھ سے چمٹے رھیں گے, کیا میں صرف ایک جلتا ھوا دیا ھوں جسکی لو بتدریج کم ھوتی جارھی ھے…
میں کیا ھوں??”
آه…سوچیں کتنی بے رحم ھوتی ھیں…مگر آج ھی کیوں اتنا مایوس ھورھا تھا وه…شائد تلخی اور اسکی زندگی کی آپس میں اب گہری دوستی ھوگئی تھی.
عام آدمی خاص لوگوں کے لیے ایسی لکڑی کی مانند ھے جسکو جلاکر وه اپنے تن کے لیے تپش اور توانائی حاصل کرتے ھیں. خاص لوگ عام لوگوں کا دکھ سمجھتے کیوں نھیں…انھیں جینے کا حق کیوں نھیں دیتے??
وه چیخنا چاھتا تھا…زور زور سے…ایسے که کمرے میں رکھی ھر چیز اس کی چیخ سے ھل کر ره جاۓ..وه رونا چاھتا تھا….ایسا رونا که بادل بھی بین کرنے لگ جائیں..
وه ھذیانی انداز میں چیخنے لگا…
اندر کہیں کسی نے سرزنش کی..آج ھی کیوں ھمت ھار رھے ھو..?وجه اسے معلوم نھیں تھی.کہانی کار کو بھی نھیں…بس قلم چل رھا تھا.اچانک نب ٹوٹ گئی…روشنائی رسنے لگی…اسے لگا اسکا خون رس رھا ھے.اور دھیرے دھیرے زندگی کی کتاب میں یه خون پھیلتا جارھا ھے…
بند آنکھوں کے ساتھ اس نے سوچا تھا..”کیا کوئی جان سکتا ھے, عام آدمی کیلیے زندگی کو برتنا کتنا کٹھن ھے..!!”

بشکریہ فیس بک


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481