مری ،گلیات اور گردونواح کے عوام کے لئے جنگلی سور عذاب بن گئے ۔ فصلوں زمینوں اور سبزی وغیرہ کو تباہ کرنے کے بعد جنگلی سوراب قیمتی انسانی جانوں کے بھی درپے ہوگئے ہیں۔گزشتہ روز روات بھوربن کے مقام پر نویں جماعت کےطالب علم سفیان عباسی ولد منیر عباسی پر جنگلی سور نے حملہ کردیا اور اس کی دونوں ٹانگیں بری طرح زخمی کر دیں۔مذکورہ نوجوان اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے جبکہ علاقے کے عوام واقعہ کے بعد اپنے بچوں کی زندگی کے حوالے سے مزید خوفزدہ ہوگئے ہیں
۔واضح رہے کہ مری ، گلیات ، سرکل بکوٹ ،ہزارہ ڈویژن اور آزاد کشمیر کے کئی علاقوں میں جنگلی سوروں کی بھرمار ہے جن کے غول کے غول آبادیوں میں دندناتے پھرتے ہیں۔گندم،مکئی اور دیگر فصلیں تباہ کر دیتے ہیں۔متاثرہ علاقوں کے عوام جنگلی سوروں کے خوف سے سبزیاں بھی کاشت نہیں کر سکتے۔اب عالم یہ ہے کہ یہ درندے انسانی جانوں کے درپے ہوگئے ہیں اور آئے روز اس قسم کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ دوسری طرف اس صورت حال کا ذمہ دار محکمہ وائلڈ لائف اپنی آنکھیں اور کان بند کئے ہوئے ہے۔ بار شکایت کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوتی جبکہ آبادی میں جنگلی سوروں کی افزائش تیزی سے ہو رہی ہے۔متاثرہ علاقوں کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام عوام کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لئے کارروائی کریں۔
سکول جانے والے بچوں میں شدید خوف و ہراس پھیل
ویڈیو بشکریہ سوشل میڈیا
سور کے حملے کے تازہ واقعے کے بعد سکول جانے والے بچوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مری کے مختلف نواحی علاقوں میں متعددمردوخواتین اور بچے ان جنگلی سوروں کانشانہ بن چکے ہیں جبکہ گزشتہ سال جنگلی سورکےحملے سے شدید زخمی ہونے والاایک شخص زندگی کی بازی ہارچکاہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق جنگلی سوروں کی اس قدر بہتات ہوگئی ھے کہ یہ دن رات سڑکوں، بازاروں اوررہائشی آبادیوں میں ٹولیوں کی شکل میں مٹرگشت کرتے دکھائی دیتے ہیں اوراب تک درجنوں راہگیروں کو حملہ کرکے انہیں زخمی کرچکے ہیں جن میں اکثرسکول کے بچے شامل ہیں ۔جنگلی سورمقامی لوگوں کی فصلیں تباہ کرنے کے باعث اب مری میں تقریباکاشت کاری بھی ختم ہوچکی ہے ۔حکومتی اداروں اورمحکمہ وائلڈ لائف کی غفلت اور نااہلی کے باعث آئے روزایسے حادثات پیش آرہے ہیں۔ مری کے شہریوں عوامی حلقوں اورسماجی تنظیموں کی جانب سے بارہاتوجہ دلانے کے باوجود ذمہ دار اداروں کی طرف سے تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ۔ عوامی حلقوں نے اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے اور جنگلی سوروں کو تلف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
