پارٹی میں شدید ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کے پیش نظرپاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ چیئرمین عمران خان کی ذیر صدارت اجلاس میں سابق سینئر وزیر خواجہ فاروق کو قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کر دیا ہے جس کے بعدخواجہ فاروق کو پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خواجہ فاروق کی قیادت میں حزبِ اختلاف کی نشستوں پر بیٹھنے والے اراکین ہی پی ٹی آئی کا حصہ رہ سکیں گے جبکہ کنارہ کشی کرنے والے اراکین کے پی ٹی آئی سے اخراج کی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔دوسری طرف سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو آزاد کشمیر کی پارٹی صدارت سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشہ روز زمان پارک لاہور میں عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیاتھا ۔اس موقع پرپی ٹی آئی نے نومنتخب وزیر اعظم چوہدری انوارالحق سے اعلان لاتعلقی کا اعلان کر دیا جبکہ سردارتنویرالیاس کو پی ٹی آئی کی صدارت سے بھی سبکدوش کر دیا گیا۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم سردار قیوم نیازی کو تحریک انصاف آزاد کشمیر کا صدر جبکہ چوہدری مقبول گجر کو آزاد کشمیر اسمبلی کیلئے اسپیکر کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 31 میں سے صرف 7 ارکان اسمبلی کی اجلاس میں شرکت پر عمران خان برہم ہوگئے۔
ان سات ارکان میں خواجہ فاروق، قیوم نیازی، دیوان محی الدین ،مقبول گجر اور حامد رضا شامل ہیں جبکہ سبق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس،صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان اور چوہدری انوارالحق گروپ کے ارکان نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
