اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پاکستان بننے کے بعد پہلی ایف آئی آر کب درج ہوئی

FB IMG 1682410294955

پاکستان بننے کے بعد پہلی ایف آئی آر کب درج ہوئی ۔

(18 اگست 1947 میں پاکستان کا پہلا بدترین اور ناانصافی پر مبنی سچا واقعہ)

تپیدار اور شاعر محمد خان ہمدم کا تعلق سندھ کے ایک ٹاؤن ماتلی ضلع بدین سے تھا. وہ ایک نیک، سچا مذہبی پنج وقتہ نمازی اور تہجد گزار انسان تھا۔ محکمہ ریوینیو کراچی میں تپیدار کی حیثیت سے تعینات تھا۔

17 اگست 1947 کو پاکستان آزاد ہو چکا تھا۔ 18 اگست 1947، رمضان کے مہینے میں محمد علی جناح ، لیاقت علی خان اور ملک کی اعلیٰ قیادت کو کراچی میں نماز شکرانہ کی ادائیگی کرنی تھی۔ سرکاری اعلیٰ افسران شاہی کی طرف سے ریوینیو والوں کو مرکزی عیدگاہ کی صفائی ستھرائی کا حکم ملا تاکہ مناسب طریقے سے نماز شکرانہ کا انتظام کیا جا سکے ۔

محمد خان ہمدم کی سربراہی میں عیدگاہ کی صفائی کا کام کیا گیا۔ اسی دوران محمد خان ہمدم کو یہ خیال آیا کہ وہ بھی پہلی صف میں محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے ساتھ نماز ادا کرے گا۔ اور یہ اس کی دلی تمنا بن گئی ۔
جب نماز کا وقت قریب آیا تو ڈپٹی کمشنر اور مختار کار آخری جائزہ لینے کےلیے مرکزی عیدگاہ پہنچے۔ سارے سٹاف کو حکم ہوا کہ پہلی اور دوسری صفیں خالی ہونی چاہئیں۔ پہلی صف میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ، لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر نماز پڑھیں گے۔ جب کہ دوسری صف میں پاکستان کے بیوروکریٹس اور دیگر اعلیٰ افسران ہوں گے۔ پچھلی صفوں میں عام خلق خدا نماز پڑھے گی ۔
یہ اعلان سنتے ہی محمد خان ہمدم نے سوچا کہ اسلام میں ایسا کچھ بھی نہیں کہ حکمران اور عوام کاندھے سے کاندھا ملا کر نماز نہ پڑھ سکیں۔ یہ کون سا مسخرہ پن لگا رکھا ہے۔ اس غریب کی بات بھی صحیح تھی کہ واقعی اسلام میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر حکمران دیر سے آئے اور اگلی صف میں جگہ نہ ہو تو پیچھے بھی نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس میں کوئی حرج بھی نہیں اور نہ کسی کتاب میں لکھا ہوا ہے مگر یہاں تو قصہ ہی دوسرا ہے۔
بہرحال جیسے ہی نماز کا وقت قریب آیا، مختار کار نے پھر اگلی صفوں کا جائزہ لیا۔ پہلی صف میں محمد خان ہمدم تنہا کھڑا تھا، جب کہ دوسری صف خالی تھی۔ مختار کار نے محمد خان سے کہا کہ پیچھے جا کر کسی بھی صف میں کھڑا ہو جائے، پہلی صرف قائداعظم اور دوسری اعلی قیادت کے لیے مخصوص ہے۔ اس نے کہا کہ اسلام میں یہ فرق نہیں ہے۔ وہ جناح کے ساتھ پہلی صف میں نماز پڑھے گا۔ کچھ ہی دیر میں اے سی صاحب آئے اور مختار کار کو حکم دیا کہ پہلی صف میں جو شخص کھڑا ہے اسے وہاں سے فورآ ہٹایا جائے۔ مگر خان صاحب پر ایک ہی بھوت سوار تھا کہ دین اسلام میں ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ سب سے پہلے مسجد پہنچے ہیں اس لیے پہلی صف میں قائد کے ساتھ نماز ادا کریں گے۔ انھیں پہلی صف سے کوئی بھی نہیں ہٹا سکتا۔ اسی دوران کمشنر صاحب بھی آ گئے۔ انہیں بھی اس صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔

کمشنر نے سیکورٹی کے عملے کو حکم دیا کہ اس شخص کا دماغ خراب ہے۔  اسے مار کر کہیں دور پھینک آئیں تاکہ وہ دوبارہ مسجد میں نظر نہ آئے۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔ سیکورٹی والے کتوں کی طرح اس پر چڑھ گئے۔ اسے لہولہان کر دیا۔ پھر کتے پکڑنے والی گاڑی میں ڈال کر اسے منگھو پیر والے علاقے میں ایک ویران جگہ پر پھینک آئے۔
ہمدم صاحب وہاں بے ہوش پڑے تھے کہ ایک چرواہے کی نظر اس پر پڑی۔ چرواہا ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کر اسے ہوش میں لے کر آیا۔ مختصر حال احوال بیان کرنے کے بعد محمد خان نے اسے کہا کہ اس پر ایک مہربانی کر کے اسے کسی طرح اس کے گھر کراچی پہنچا دے۔ چرواہے نے اسے کسی گاڑی میں ڈال کر اس کے گھر پہنچا دیا ۔
اس کی بیوی نے یہ خون والے کپڑے اور جسم پر تشدد کے نشان دیکھے تو اس کے ہوش اڑ گئے۔اس نے اپنے مجازی خدا سے اس ظلم و زیادتی کے بارے میں استفسار کیا۔ محمد خان ہمدم نے اپنی بیوی کو ساری تفصیل سے آگاہ کیا کہ اسے پہلی صف میں قائد اعظم کے ساتھ پاکستان کی آزادی کی نماز شکرانہ ادا کرنے کی خواہش کی سزا ملی ہے۔ لیکن یہ قصہ ابھی شروع ہوا ہے۔ ابھی تو اس کا حشر اور برا ہونے والا ہے۔ باقی باتیں بعد میں سہی۔ وہ پہلی فرصت میں ماتلی چلی جائے کیونکہ ابھی جاسوس سونگھتے سونگھتے اس کے گھر پہنچنے ہی والے ہوں گے۔  وہ اسے چھوڑیں گے نہیں۔

اسی رات محمد خان ہمدم کے گھر پولیس نے چھاپہ مارا اور اس پر جناح اور لیاقت علی خان پر قاتلانہ حملے کے الزام میں پاکستان کی پہلی ایف آئی آر کاٹی گئی۔ نیز اس پر ملک دشمن اور جاسوسی کی دفعات بھی لگائی گئیں۔

یہ خبر میڈیا میں بھی آئی اور اسے سینٹرل جیل بھیج دیا گیا۔ چار سال تک کیس چلا اور اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی۔

اس کے دوستوں نے سزا کے خلاف اپیل داخل کی مگر اسی دوران پاکستان کے اندر ملک کی سلامتی کے خلاف ایک مقدمہ دائر ہوا، جس میں ملک کے نامور شاعر فیض احمد فیض کو بھی گرفتار کر کے کراچی جیل میں لایا گیا۔ محمد خان کو جب معلوم ہوا کہ فیض احمد فیض بھی جیل میں ہیں تو کسی طریقے سے ان سے رابطہ کیا اور ان سے ملاقات کی۔  اس نے شاعر کے طور پر اپنا تعارف کروایا اور ظلم و بربریت کا سارا احوال بتایا۔ فیض صاحب نے اسے تسلی دی کہ وہ گھبرائے نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔  فیض صاحب نے محمد خان ہمدم سے سندھی سکھانے کی فرمائش کی۔  اس نے ان کے حکم کی تعمیل کی اور فیض صاحب کو سندھی پڑھاتا رہا۔ اس دوران فیض صاحب نے محمد خان کا کیس لڑنے کے لیے ایک قابل وکیل مقرر کروا دیا، جس نے محمد خان ہمدم کو سارے الزامات سے بری کروا دیا۔ ہوں اس کی نوکری بھی بحال ہوگئی اور بقایا جات کی بھی ادائیگی ہوئی ۔

وہ فیض صاحب کا ہمیشہ شکر گزار رہا کہ انھوں نے اس کی باعزت رہائی اور نوکری پر بحالی کے لیے اس کی بہت مدد کی ۔

جیل سے رہا ہو کر گھر پہنچتے ہی اس نے اپنی الماری سے قرآن پاک کا نسخہ اور جائے نماز اٹھا کر کسی بچے کو دی کہ جا کر انھیں مسجد میں رکھ کر آئے۔

اس نے پہلی صف میں نماز پڑھنے سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی۔

اس تلخ تجربے نے محمد خان ہمدم کو ایک بڑا کمیونسٹ بنا دیا۔ وہ اپنی نوکری بہت ہی ایمانداری سے مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہوا۔

 

FB IMG 1682410288352

حوالہ ۔۔۔ کتاب "اهي ڏينهن اهي نينهن”
مصنف ۔۔۔۔ محمد موسیٰ جوکھیو

(سندھی سے اردو ترجمہ)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481