اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اعتدال پسند احباب کی خدمت میں چند معروضات

FB IMG 1682399204976 1

اعتدال پسند احباب کی خدمت میں چند معروضات

ہر صاحب شعور انسان مانتا ہے کہ اس حیات چند روزہ میں دل کا اطمینان ہی اصل میں انسان کے لیے متاع گراں ہے۔ ہمارے دین نے بھی اس کی اہمیت یوں اجاگر کی ہے کہ…..

"خالق و مالک کی مکمل فرماں برداری میں اطمینان قلب کا سامان پوشیدہ ہے”۔

ہم جانتے ہیں کہ ہمارا دل اگر مطمئن نہ ہو، اضطرابی کیفیت ہو، عدم اطمینان ہو تو حسن و جمال کا اعلی ترین نمونہ اور قدرتی حسن سے مالا مال جنت نظیر نظارہ بھی ہماری توجہ حاصل نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ سامان عیش و عشرت بھی میسر ہو تو دل ناصبور اس کی طرف مائل نہیں ہوتا۔

اپنی اپنی صورت حالات کے پیش نظر دنیا کو دیکھنے کا ہر فرد کا اپنا اپنا انداز نظر ہوتا ہے۔ ایک مفلس اور غریب شخص کے سامنے دنیا کی لاکھ رنگینیاں ہوں وہ ان سے محظوظ نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ اس کے سامنے غم روزگار کے وہ سلسلے دراز ہوتے ہیں کہ نظارہ حسن و جمال اس کے دل کو اطمینان اور قرار مہیا نہیں کر سکتا۔ اور پھر دین فطرت بھی ہمیں رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ افلاس راہ کفر تک ہموار کر سکتا ہے۔

مال و اسباب کی اپنی اہمیت ہے۔ آج کی مادیت پرست دنیا میں تو مال و متاع دنیا نے اشرف المخلوقات کی جگہ لے لی ہے۔ آج انسانوں کی اکثریت کا انداز فکر یہ ہے کہ حسن و جمال، مسرتیں، سکون قلب اور مقام و مرتبہ مال و دولت دنیا کا مرہون منت ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جب ہماری جیب خالی ہو اور ہمیں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوں تو کائنات کی ساری خوبصورتی موجود ہونے کے باوجود ہمارے لیے بے معنی اور بے سود ہو جاتی ہے۔ کئی وقت کے فاقہ کے شکار شخص کے لیے مسجد، مندر، جھونپڑی یا محل کی کشش ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے موت یقینی ہو تو مردار کھانے کی اجازت دے دی گئی۔ عیش و عشرت کا معاملہ تو خیر ہے ہی بھرے پیٹ کا۔

اور آخری بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان معاشرتی حیوان ہے۔ اس کی خوشی ( اور غم میں بھی) معاشرتی تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ نیز مال و اسباب کے ہونے کے ساتھ ساتھ صحت مندی بھی ضروری ہے۔

تنگ دستی اگر نہ ہو سالک
تندرستی ہزار نعمت ہے
۔۔۔۔قربان علی سالک

یاد رکھیں ! مال و دولت دنیا بری چیز نہیں ہے بلکہ اس کا برا استعمال قابل نفرین ہے۔ دولت مند اگر حضرت عثمان بن جائیں تو مال و دولت سے اسلام کی سربلندی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ صدقہ خیرات کی وجہ سے کمزور طبقے بھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یتیموں کی کفالت ہو سکتی ہے۔ الغرض مال و دولت مردود نہیں ہے قارونی فکر بہرحال مردود ہے۔

اگر تزکیہ نفس ہو تو مومن کا مال دار ہونا معاشرے کے لیے موجہ رحمت ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک غریب، مفلوک الحال اور محتاج انسان تو خود کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے وہ معاشرے کی کیا خدمت سرانجام دے سکتا ہے۔

وماعلینا الالبلاغ!!۔

۔۔۔۔۔۔۔ توصیف آتش، چھمب (سرکل بکوٹ)

Screenshot 20230425 100840 1


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481