دگر دانائے راز آید کہ ناید
آج 21 اپریل ہے۔ جب ہم سکول کے طالب علم تھے تو اساتذہ کئی ہفتوں تک آج کے دن کی تیاری کرواتے تھے۔ جمعرات کو بزم ادب تو معمول تھا۔ اپریل اور نومبر میں اردو کی کلاس بھی "یوم اقبال” کی تیاری کے لیے وقف ہو جاتی تھی۔ ہم شاعر مشرق، علامہ اقبال کو مفکر پاکستان سمجھتے اور ان کا احترام کرتے تھے۔
لیکن پھر ہمیں سامراج نے سمجھایا کہ یہ روش ٹھیک نہیں ہے۔ علامہ اقبال نسل نو کو خودی کی تعلیم دے کر انھیں مقصد حیات سے وابستہ ہونے اور دنیا کو بدلنے کا پیغام دیتے ہیں۔ وہ ان میں خود اعتمادی اور تخلیقی صلاحیتیں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ انھیں مشرق سے ابھرتے ہوئے نئے سورج کی نوید سناتے ہیں۔ الغرض وہ شاہین بچوں کو بال و پر سے مزین کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ بلندی پرواز کے اہل اور خوگر ہوں۔ اس طرح تو ذہنی غلامی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ نئی نسل اپنی خودی کو خود نگر، خود گر اور خود گیر بنا کر موت سے بھی نہ مرنے والی مخلوق بن جائے گی۔ اگر یہ ہو گیا تو سامراج کا تو نام و نشان مٹ جائے گا۔
اور یوں ہم نے علامہ اقبال جیسے اپنے محسنوں کی تحقیر کرنے والے سامراجی ایجنٹوں کو ٹی وی چینلز پر بٹھا کر انھیں "دانش ور” کا لقب دے دیا۔ انھوں نے قوم کو بتایا کہ دراصل علامہ اقبال تو دو ٹکے کا مضافاتی شاعر تھا۔ ہم نے اسے شاعر مشرق اور علامہ اور مفکر بنا دیا۔ اور یوں عالمی درجہ بندی میں سرفہرست لنڈے کے مفکروں کی ایما پر ہم نے علامہ اقبال کو مضافاتی شاعر مان کر نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ سکول اور کالج میں پڑھنے والوں کو اقبال کا ایک شعر تک ازبر نہیں ہوتا۔ کہاں تین عشرے پہلے سینکڑوں اشعار اقبال طلبا کو ازبر ہوتے تھے اور کلام اقبال کی بیت بازی کے مقابلے کئی دفعہ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو جاتے تھے۔ لیکن۔۔۔۔۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
وہ قومیں جو اپنے محسنوں سے غداری کی مرتکب ہوتی ہیں فطرت ان کا یہ گناہ کبھی معاف نہیں کرتی۔

