اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

* ہمارے بچپن کی عیدیں *

عید سعید کے موقع پر کوہسار نیوز کے لیے "روزنامہ امت” کے گروپ ایڈیٹر، مصنف، سفر نامہ نگار اور کالم نگار

جناب سجاد عباسی کی خصوصی تحریر آپ سب کے ذوق مطالعہ کی نذر۔ اس تحریر میں آپ میں سے بہت سے قارئین کو اپنے بچپن کی یادیں ماضی کی سکرین پر جھلملاتی دکھائی دیں گی، جب کہ نوجوانوں کو اس میں اپنے علاقے کی روایات، اقدار اور پچھلی نسل کی تربیت کی جھلک بھی ملے گی ۔(شعبہ ادارت)

"ہمارے بچپن کی عیدیں "

چھوٹی یا "میٹھی عید” کی خوشیاں جس طرح ہم نے بچپن میں جھولی بھر بھر سمیٹیں، ہماری اولادیں تو اس کا تصور ہی کر سکتی ہیں۔
بچپن میں نئے کپڑوں اور نئے جوتوں کے لمس کا احساس ہی روح کو ایسا سرشار کر دیتا کہ عید سے پہلے کے دو مہینے انتظار کی لذت اور اگلے دو مہینے نئے نکور جوڑے اور لشکتے جوتے کے وصال کی حدت میں گزر جاتے تھے ۔ عید اور باسی عید پر الگ الگ جوڑے کا تصور تو تب کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی ہم برانڈ نامی کسی چڑیا سے واقف تھے۔ ممکن ہے گاؤں کے دو چار بچے اس "عیاشی” کے متحمل ہوتے بھی ہوں، مگر یہاں بات اکثریت کی ہو رہی ہے، جن کے آنگن میں غربت کا بسیرا تو ضرور تھا مگر ان کے بچے کسی محرومی یا احساس کمتری کا شکار ہرگز نہ تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ایک تو کم و بیش گاؤں کے سارے ہی لوگ مالی لحاظ سے ایک جیسے ہوتے تھے اور اگر کہیں مالی حیثیت کا فرق تھا بھی، تو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور نمود و نمائش کا چلن عام نہ تھا۔ سو اس غالب اکثریت کی اولادوں کے لیے سال بھر میں کپڑوں اور جوتوں کا ایک ایک جوڑا کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھا ۔ وہی عید کا ایک جوڑا نہ صرف پورا سال چلتا بلکہ "بڑی عید” پر بھی اسی کو بڑے اہتمام سے پہنا جاتا اور دو عیدوں کے درمیان ڈھائی ماہ کے وقفے میں اسے صندوق یا ٹرنک میں اس نزاکت سے رکھا جاتا کہ گرد و غبار اس کے نئے پن کو متاثر نہ کر سکے۔ اور ہاں کئی گھرانوں میں جہاں رب کے فضل سے بھائیوں کی تعداد زیادہ ہوتی تو والدین اپنے بچوں کو ملیشیا رنگ کے کپڑوں کی افادیت سے بھرپور آگاہی دیتے کیونکہ یہ رنگ سکول یونیفارم میں بھی استعمال ہوتا تھا۔  اب ایک پنتھ دو کاج کے مصداق جب وہی کپڑے دونوں عیدوں اور سکول میں یونیفارم کے طور پر بھی استعمال کیے جا سکتے ہوں تو خواہ مخواہ فضول خرچی کر کے الگ الگ جوڑے کیوں بنوائے جائیں اور پھر درزی کو بھی بلاضرورت زحمت کیوں دی جائے۔  اتنے پیسے گھر کے راشن پر کیوں نہ خرچ کر دیئے جائیں۔  فرماں بردار اولاد ماں باپ کا دیا ہوا یہ سبق نہ صرف زبانی یاد کر لیتی تھی، بلکہ بڑا بھائی چھوٹوں کو سمجھایا بھی کرتا کہ سکول یونیفارم اور عید کے لیے الگ الگ کپڑے بنوانے والے ہمارے کلاس فیلوز کے اس بے جا اسراف پر رب کے ہاں پکڑ ہو گی۔

عید سے کوئی ڈیڑھ ماہ پہلے ابا جان سب بھائیوں کو بازار لے جاتے اور ایک تھان میں چار پانچ بھائیوں کا کام نمٹ جاتا۔ کپڑا ظاہر ہے اس درجے کا ہوتا کہ گھر کا بجٹ متاثر نہ ہو اور کسی سے قرض ادھار نہ لینا پڑے۔

پھر بھی کچھ نہ کچھ اونچ نیچ ہو ہی جاتی، جس کا بوجھ بچے اپنے دل پر یوں بھی محسوس کرتے کہ اماں ابا دونوں یا ان میں سے کوئی ایک یعنی اماں عید پر نئے کپڑے نہ بنواتیں اور بچوں سے نظریں چراتے ہوئے اپنے پرانے جوڑے کو الٹ پلٹ کر اس کی وہ وہ خوبیاں بیان کرتیں جن سے کبھی بزاز بھی واقف نہ رہا ہوگا۔

کپڑے کے تھان کی "دکان” سے "درزی” کے پاس منتقلی اور ہر بار ناپ دینے کا عمل بھی کسی جشن سے کم نہ ہوتا۔ ناپ دیتے ہوئے سینہ پھول جاتا ، جسم میں جیسے پارہ سا بھر جاتا ،چہرے سے خوشی عیاں اور دل میں لڈو پھوٹ رہے ہوتے۔ اس دوران درزی کی ہدایات پر کبھی کبھی ہمیں اپنے پی ٹی ماسٹر صغیر صاحب یاد آ جاتے ۔۔

” ایڑھی ملی، پنجہ کھلا ، چھاتی نکلی ، بازو بدن کے ساتھ ، ٹھوڑی دبی ہوئی ، نگاہ سامنے "

درزی کو ناپ دینے کے دوران چشم تصور سے ان سلے کپڑے کو نئے نکور جوڑے میں تبدیل ہوتے دیکھنا کس قدر پرفریب منظر ہوا کرتا تھا۔ اس کا خیال اب چالیس برس بعد بھی ایک الگ ہی لطف دیتا ہے۔

حضرت درزی کے پاس چونکہ سینکڑوں آرڈر ہوتے اس لیے بیس دن سے ایک مہینے تک منتظرین لباس کو انتظار کی سولی پر چڑھائے رکھنا بجا طور پر اپنا استحقاق سمجھتا تھا۔ فارمولا وہی "پہلے آئیے پہلے پائیے” والا ہوتا، مگر یہ دس بیس دن ہم سخت بے چین اور آتش زیرپا رہتے۔۔ ہر روز تخیل کے گھوڑے پر سوار ہو کر درزی کے پاس پہنچ جاتے، اور اپنے اپنے جوڑے پر جاری "ترقیاتی کام” سے لطف اندوز ہوتے۔ کبھی موقع ملتا تو بازار جاتے ہوئے کسی بہانے سے سچ مچ بھی درزی کے پاس ہو آتے۔ اس کی مصروفیت اور رعب کی وجہ سے اپنے "منصوبہ لباس نو” پر پیش رفت کے حوالے سے سوال کرنے کی ہمت تو نہ ہوتی، البتہ کن اکھیوں سے دیوار پر ٹنگے جوڑوں میں اپنا سوٹ تلاش کرنے کی ناکام کوشش ضرور کرتے اور پھر بوجھل قدموں سے گھر لوٹ آتے۔

جس دن سوٹ تیار ہو کر آتا، ہماری خوشی کا ٹھکانہ نہ ہوتا۔ چیکنگ کے بہانے اپنے جسم کو نئے نکور جوڑے کے لمس سے ہم آغوش کرتے ،اور پھر لکڑی کے بڑے دروازے کے پیچھے لگی کلی (اپنے وقت کا ہینگر) سے نفاست کے ساتھ ٹانگ دیتے، اور پھر چاند رات تک دن میں کئی بار چپکے سے دروازے کے پیچھے جھانک کر عید کے جوڑے کی خیریت دریافت کرتے۔ کبھی ہاتھ پھیر کر تو کبھی دور سے دیکھ کر ہی کہ مبادا کہیں میلا نہ ہو جائے۔ کچھ ایسا ہی حسن سلوک نئے جوتے یا چپل کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا۔ جسے گرد سے بچانے کےلیے دھلی ہوئی چادر سے صفائی سمیت کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا جاتا۔

زیادہ تر بچے اپنا جوتا شومیکر سے بنواتے، کیونکہ پہاڑی علاقوں میں باٹا یا سروس کے جوتے زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوتے۔ اور پھر ان کو خریدنے کی مالی استطاعت بھی ھما شما کے بس کی بات نہ تھی۔ ہمارے سکولوں میں چونکہ مخصوص شوز کی پابندی نہ تھی لہٰذا یہ بتانا ضروری نہیں کہ عید پر خریدے گئے جوتے سکول میں کام آتے ہی تھے۔

نئے جوتوں اور کپڑوں سے ملن میں حائل چاند رات تو جیسے سوتے جاگتے، نیم خوابی کی کیفیت میں گزرتی۔

اور پھر عید کا دن اس مسحور کن لمس  سے آشنا کرتا جس کی خوشبو من میں بسائے ہم مہینوں انتظار میں گزار دیتے۔ یہ لمس ہمیں اک عجیب طرح کی تازگی ، راحت اور توانائی بخشتا اور دن بھر، بلکہ باسی اور تہ باسی عید پر بھی ہواؤں میں اڑائے رکھتا ۔

تب رشتہ داروں کے ہاں جانا تو جیسے فرض سمجھا جاتا تھا اور ہم یہ فرض بڑی خوش دلی سے ادا کرتے ، میٹھی سویاں اور کھیر کھانے کا لطف تو اپنی جگہ، کسی تگڑے عزیز سے ایک روپے کا کڑکتا نوٹ بطور عیدی مل جاتا تو جیب کے راستے جسم و جاں میں اضافی توانائی بھر دیتا اور دل کے نہاں خانوں میں شہنائیاں بجنے لگتیں ۔۔ مگر اس سب پر نئے کپڑوں اور جوتوں کے لمس کا نشہ حاوی رہتا۔

اب ہمارے بچے ایک آدھ جوڑے پر گزارہ کرنے کا تو تصور بھی نہیں کرسکتے۔۔ لیکن کئی کئی جوڑے بنوانے کے باوجود بھی "محرومی” کے نامعلوم احساس سے دوچار رہتے ہیں ۔

✨✨✨

IMG 20230421 WA0067

IMG 20230421 WA0066

IMG 20230307 130155 914 Screenshot 20230421 105311 1

Screenshot 20230421 105445 1

IMG 20230120 192335 976

FB IMG 1682056221408 1


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481