اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عیدین اور دیگر تہواروں کے موقع پر کوہسار میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کیوں؟

images 37

راولپنڈی (کوہسار نیوز) 20 اپریل، 2023

ہر سال کی طرح امسال بھی عیدالفطر قریب آتے ہی ٹرانسپورٹروں نے زاید کرائے وصول کرنے کی غرض سے مختلف روٹس پر چلنے والی گاڑیاں اڈوں سے غائب کر دی ہیں۔ عید کے موقع پر اپنے اپنے آبائی علاقوں میں پہنچنے کے لیے مسافروں کو شدید پریشانیوں کا سامنا ہے۔

اگر ہم مری، کوٹلی ستیاں، گلیات اور آزاد کشمیر کے روٹس پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کا جائزہ لیں تو یہاں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ سے منسلک گاڑیاں اپنے اوقات میں مجوزہ اڈوں پر اپنی باری پر سواریاں بٹھانے کے بجائے اڈے سے باہر ہی منہ مانگا کرایہ وصول کر کے استحصالی صورت حال پیدا کر رہی ہیں۔

مختلف شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرنے والے مسافر فیض آباد، پیر ودھائی،  اور دیگر اڈوں پر حالت روزہ میں خوار ہو رہے ہیں۔ اگر کوئی گاڑی دستیاب ہوتی ہے تو وہ مقررہ شرح سے تین گنا زیادہ کرایہ طلب کرتی ہے۔

اس صورت حال میں یہ بھی شکایت کی گئی کہ ان ایام میں ڈرائیور حضرات ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑانا، بد اخلاقی کرنا اور خطرناک حد تک تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی شریف آدمی اس پر اعتراض کرے تو اسے گاڑی سے اتار دینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔

اصلاح احوال کے لیے سب سے پہلے صحافت سے تعلق رکھنے والے احباب اور سوشل میڈیا اکٹوسٹ سے درخواست ہے کہ وہ شعور عام کریں اور اس گھمبیر مسئلے کو ہر پلیٹ فارم سے اجاگر کریں۔ نیز عوام کی رہنمائی فرمائیں کہ وہ ظلم اور زیادتی کے خلاف کیسے قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔

مسافروں کو بھی خاموشی سے ظلم اور زیادتی برداشت کرنے کے بجائے آواز بلند کرنی چاہیے۔

کم سے کم اتنا تو ہر مسافر کر سکتا ہے کہ جب غیر منصفانہ کرایہ وصول کیا جا رہا ہو یا بد تہذیبی ہو رہی ہو تو اسے سوشل میڈیا پر وقت، گاڑی نمبر، اڈہ، جیسی معلومات فراہم کرتے ہوئے شیئر کر دیا جائے۔

نیز اگر نزدیک کوئی ٹریفک پولیس اہلکار دستیاب ہو تو اس کو بھی لائیو لے لیا جائے تاکہ قانونی چارہ جوئی کے لیے راہ ہموار ہو اور ایک ٹھوس ثبوت بھی محفوظ ہو جائے۔ دوران سفر پولیس چیک پوسٹ پر بھی گاڑی رکوا کر ٹریفک افسران سے زاید کرائے کی وصولی کی شکایت کی جا سکتی ہے۔

اڈے کے افسران سے بھی بات کی جائے کہ وہ اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمی کی پشت پناہی کیوں کر رہے ہیں۔

میڈیا کے ذریعے ٹرانسپورٹروں کو تنبیہہ بھی کی جائے کہ وہ تھوڑے سے فائدے کے لیے اپنی کمائی میں حرام کے کچھ ہزار روپے شامل نہ کریں۔ اس سے شاید ان کی آمدن میں تو اضافہ ہو جائے لیکن وہ خیر و برکت سے محروم ہو جائیں گے۔

تمام یوسی چیئرمین، کرایہ کنٹرول کرنے والے مجاز ادارے اور اڈوں کے ذمہ داروں کا ایک گرینڈ اجلاس بلایا جائے جسے مکمل میڈیا کوریج دی جائے۔

گرینڈ اجلاس میں مسائل کے حل کے حوالے سے متفقہ دستاویز تیار کی جائے۔

عیدین اور تہواروں پر کوئی گاڑی اگر اپنی باری پر اڈے میں نہیں آتی تو اس کا روٹ کینسل کر دیا جائے۔ اگر کوئی روٹ کی گاڑی اپنے مجوزہ وقت پر اڈے کے بجائے باہر سے بکنگ کرتی ہوئی پکڑی جائے تو اس کا بھی روٹ پرمٹ کینسل کیا جائے۔ نیز علاقے کے عوام ایسے لوگوں کا سوشل بائیکاٹ کر دیں۔ اڈے کے اندر اپنے وقت پر روزمرہ سے زیادہ کرایہ طلب کرنے والی گاڑی کو کم سے کم دس ہزار روپے جرمانہ کیا جائے۔ استحصالی صورت حال میں اڈے کے ملوث ہونے کے ثبوت پر متعلقہ اڈے کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ مسافروں کی رہنمائی کے لیے ہر اڈے میں کوئی دفتر موجود ہو جہاں وہ شکایات درج کروا سکیں۔

اس پر تو دو آراء نہیں ہو سکتیں کہ اس گھمبیر مسئلے کے دائمی حل کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔

images 38


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481