اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

حکو مت سےمذاکرات کیلئےعمران خان نےکیا شرائط پیش کیں؟

سائفرپرجے آئی ٹی میں عمران سے 2 گھنٹے تفتیش ہوتی رہی

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی تحریک پر حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی کچھ امید پیدا ہوئی ہے تاہم اس کیلئے عمران خان نے چار کڑی  شرائط پیش کردی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ حکومت تحریک انصاف کے تمام رہنمائوں اورکارکنوں پرمقدمات ختم کرے،شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر بنایا جائے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف قائم تمام مقدمات کو ختم کیا جائے۔اس کے علاوہ تمام گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات بھی ختم کیے جائیں۔ واضح رہے کہ عمران خان کے ایک اہم اور قریبی ساتھی علی امین گنڈاپور اور سابق وفاقی وزیر علی زیدی و بھی حال ہی میں گرفتار کیاگیا ہے۔ مذاکرات کیلئے عمران خان نے ایک اور شرط یہ بھی عائد کی ہے کہ  پی ٹی آئی کے تمام ارکین قومی اسمبلی کے استعفے نامنظور کیے جائیں۔

مذاکرات کے محرک سراج الحق کیا کہتے ہیں؟

540753 5448566 siraj akhbar

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ مرکز اور صوبوں میں نگراں حکومت قائم ہو اور پھر اُس کے بعد سب لوگ الیکشن میں جائیں، ملکی مسائل کا حل عوام کے پاس ہی ہے، ملک کو بچانے کے لیے تین اداروں سپریم کورٹ ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن کو غیر جانبدار رہنا ہوگا۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات میں یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ حالات بہت خراب ہیں اور وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے، اگر ایسے ہی رہا تو سیاست، جمہوریت اور اسمبلیاں نہیں رہیں گی، اگر سب نے مل کر ایسے شفاف انتخابات پر اتفاق نہ کیا تو اور الیکشن سے پہلے معاملات طے نہ کیے تو ایسے نتائج کو ہم تسلیم نہیں کریں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عمران خان، صدر پاکستان اور شہباز شریف سمیت سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملک کے حالات خراب ہیں مگر ان سے نکلنے کے راستے کے معاملے پر سب تذبذب کا شکار ہیں اور سپریم کورٹ سمیت سب بند گلی میں چلے گئے ہیں جہاں کوئی نہیں جانتا کہ آنے والے کل کیا ہوگا، اسی وجہ سے ماحول میں بہت زیادہ تناؤ اور کشیدگی ہے۔سراج الحق نے کہا کہ ’ہم تو اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کوئی بات نہیں کررہے البتہ یہ دونوں جماعتیں اسٹیبشلمنٹ کی ہیں اور یہ سب بتا رہے ہیں کہ کون سا جنرل کس کا ساتھ دیتا تھا اور اب دوسرے کے ساتھ کیوں ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481