اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

یہ صبح انقلاب ہے ، اے کوہسار !

1c8781a3 fb1d 4b24 b8e6 398a5d09558f

 

8cbf00e9 d80e 49cf 9c3e 7390c0daee60صاحب مضمون

مغرب اپنے ترقی یافتہ ہونے پر نازاں ہے اور اپنی کامیابیوں کو اپنے سیاسی نظام (جمہوریت) کی دین قرار دیتا ہے۔  مغربی ممالک کا جمہوری ڈھانچہ ارسطو (وفات 322 ق م) کے طے کردہ سیاسی ضابطے کا مرہون منت ہے۔ جس کے مطابق سیاست کا کام ایک مثالی معاشرے کا قیام ہے۔ جس کے واضح اور عوام کے لیے قابل قبول اصول (اخلاقی اقدار، اچھے اور برے کی تمیز، وغیرہ) ہوں۔  یعنی کار سیاست سماجی نظام میں اجتماعی طاقت اور اختیار پیدا کرکے معاشرے کو منظم رکھنے کا نام ہے۔

ارسطو سے صرف دو عشرے بعد ہندوستانی فلسفی اور قانون ساز چانکیہ کا سیاسی ضابطہ ’ ارتھ شاستر‘ سامنے آیا۔ جس میں فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق کی واضح رہنمائی ملتی ہے اور ایسے زریں اخلاقی اصول بیان کیے گئے ہیں جن سے معاشرہ خوشحال ہو سکتا ہے اور معاشرتی زندگی امن و سکون کا گہوارا بن سکتی ہے۔

اسلام کا سیاسی نظام شورائیت پر مبنی ہے جہاں عہد نبوت کے بعد خلافت عامہ کا ظہور ہوا جو کسی بھی طرح آمریت کی اجازت نہیں دیتا۔ خلیفہ کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ تقوی اور علم و بصیرت میں وقت کا سب سے بہترین مومن ہو۔ اس سیاسی نظام میں اقتدار اعلی کا مالک خدائے بزرگ و برتر ہے اور انسان کے پاس اختیار و اقتدار امانت ہے۔ خلیفہ کا فرض ہے کہ فلاحی ریاست میں امن و امان، خوشحالی اور آزادی کو یقینی بنائے اور جبر و ظلم و استحصال کی بیخ کنی کرے۔ خلفائے راشدین نے اس نظام کو عملی طور پر نافذ کر کے تاریخ رقم کی۔

عہد جدید میں اطالوی سیاسی مفکر نیکولا میکیاولی (1469 تا 1527ء) نے مغرب (ارسطو) اور اسلام کے سیاسی نظریات سے یکسر انحراف کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا کہ سیاست کا اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیاست میں مصلحت، سازش، منافقت سب روا ہے۔ جب کہ اسلام میں سیاست دینی تعلیمات کے تابع ہے اور بہ قول اقبال۔۔۔۔

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

پاکستان کی تخلیق کا مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست قرار دیا گیا لیکن یہ خواب تعبیر آشنا نہ ہو سکا۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک یہاں کنٹرولڈ ڈیموکریسی ہے اور عوامی فلاح اور رفاہ قومی پالیسیوں کی ترجیحات میں سرے سے شامل ہی نہیں ہے۔

c995241a d114 4779 8c5a 9c38cad1e7f9Shahid Khaqan Abbasi

کوہسار کی سیاست میں خاقان عباسی کے آنے سے بڑی ہلچل دیکھنے کو ملی۔ اہل کوہسار نے بے انتہا محبت اور وارفتگی سے جناب خاقان عباسی کی سیاسی کامیابی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کوہسار کے عوام کو یقین تھا کہ اب کوہسار کی محرومی اور پسماندگی قصہ پارینہ ہو جائے گی۔ لیکن سانحہ اوجڑی کیمپ نے کوہسار کے عوام سے ان کا محبوب سیاسی رہنما چھین لیا۔

کیونکہ ماحول جذباتی تھا اس لیے عوامی ہمدردی نے شاہد خاقان عباسی کی سیاسی کامیابی کو مہمیز کر دیا۔ لوگ شاہد خاقان عباسی کو اپنے والد کا پرتو سمجھ بیٹھے۔ شاہد خاقان نے عوام کی پذیرائی کی وجہ سے عشروں کا سفر مہینوں میں طے کر لیا۔ لیکن ان کے پاس کوہسار کی ترقی کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل موجود نہ تھا۔ ان کے منشی سیاہ و سفید کے مالک تھے جن کی ترجیحات میں کوہسار کی ترقی کا کوئی منصوبہ سرے سے تھا ہی نہیں۔ تین عشرے اقتدار میں رہنے کے باوجود کوہسار کی ترقی کے حوالے سے کوئی قابل ذکر منصوبہ نہ شروع کرنے کی وجہ سے اپنے حلقے کی عوام نے شاہد خاقان عباسی کو رد کر دیا جس کی وجہ سے ن لیگ کو انھیں (لاہور کی سیٹ سے) دھکے سے اقتدار میں لانا پڑا۔

دیگر جماعتوں کی سیاست بھی کچھ مختلف نہ تھی۔ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے کوہسار کے عوام نے ایک بار پھر غلط امیدیں باندھ لیں۔ عمران خان نے اسٹبلشمنٹ سے سمجھوتہ کر کے اقتدار حاصل کیا تھا۔ ان کے ساتھ بائیس سال تک جدوجہد میں شامل رہنے والے کوہسار کے سیاسی کارکنوں کا حق تھا کہ انھیں ٹکٹ ملتا تاکہ وہ عوامی امنگوں اور توقعات کے مطابق منصوبے شروع کرتے جن کی تکمیل سے پی ٹی آئی کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا اور کوہسار کی محرومیوں کا کچھ ازالہ ہوتا۔ لیکن یہاں بھی سیاسی پیراشوٹر کام دکھا گئے۔ اب شاید ہی کبھی پی ٹی آئی اپنا کھویا ہوا وقار بحال کر سکے۔

کوہسار کی تاریخ دیکھیں تو یہاں ہمیشہ ذات، برادری اور پگ کی سیاست سر چڑھ کر بولتی رہی۔ دھیرے  دھیرے سیاست کاروبار بن گیا۔ کوہسار کے قدرتی حسن کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ مقامی آبادی کو شعوری طور پر سہولیات سے محروم رکھا گیا تاکہ لوگ بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوں۔ اہل اختیار و اقتدار نے پہلے جائیداد کے کاروبار، ہاؤسنگ سکیموں اور کمرشل پلاٹوں کے ذریعے ہوش ربا دولت سمیٹی، پھر منظور نظر لوگوں کو بائی لاز کی دھجیاں اڑانے کی کھلی چھٹی دے دی۔ اب یہ عالم ہے کہ کوہسار میں جنگلات، قدرتی حسن اور غیر آلودہ ماحول کے بجائے کنکریٹ کے پہاڑ کھڑے ہیں اور اگر کچھ قدرتی حسن سے مالا مال مقامات ہیں تو وہاں پر بلڈی سویلینز کا داخلہ ممنوع ہے۔

خوش قسمتی سے کوہسار میں حالیہ برسوں میں ایک انقلابی تبدیلی کا ظہور ہوا ہے۔ اسے "نوید سحر” بھی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی ایم ڈی ایف اور رفاہ ڈویلپمنٹ فورم کا قیام

"پہاڑی زبان اساں نی پچھان” گروپ کے توسط سے کوہسار کے بے شمار باشعور اور پڑھے لکھے لوگ مربوط ہوئے۔ علمی، ادبی مکالمے کا آغاز ہوا۔ پہاڑی زبان کی بقا اور فروغ کے لیے شعور بیدار ہوا۔ جناب ظہیر عباسی نے انفوٹینمنٹ کے ذریعے پہاڑی زبان کے حوالے سے پائے جانے والے احساس کمتری کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انجمن فروغ پہاڑی زبان کے پلیٹ فارم سے اشاعتی کام کا بیڑہ اٹھایا گیا۔  ادبی بیٹھکوں کا انعقاد ہوا جس میں کوہسار کے معروف دانشور، شعراء، ادباء، وکلاء اور سیاسی رہنما شریک ہوتے رہے۔  پہاڑی زبان اساں نی پچھان گروپ کوہسار میں بیداری کی تحریک بن کر سامنے آیا اور "مری ڈویلپمنٹ فورم” کا قیام عمل میں لایا گیا۔

"مری ڈویلپمنٹ فورم” حالیہ برسوں میں ایک منظم فلاحی، رفاہی اور علمی تحریک کے طور پر ابھرنے والی کوہسار کی پہلی تنظیم تھی۔

"پہاڑی زبان اساں نی پچھان” گروپ کے بعد ان احباب کا دوسرا انقلابی قدم "مری ڈویلپمنٹ فورم” کا قیام تھا۔

اس فورم نے تعلیم، شعور، جدوجہد اور خدمت کے حوالے سے تاریخی کارہائے نمایاں سر انجام دیے۔ پاکستان میں پہلی دفعہ "کیریئر کونسلنگ” کی طرف توجہ دی گئی۔ سکالرشپ کے حوالے سے کوہسار کے نوجوانوں کو پلیٹ فارم مہیا کیا گیا۔ آئی ٹی کے حوالے سے عالمی معیار کے پروگرام شروع کیے گئے۔ نوجوانوں کو پہلی بار ایک ایسا پلیٹ فارم ملا جو ان کی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے انھیں تعلیم، روزگار اور سپورٹس میں ترقی کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔

ایم ڈی ایف کے بعد جناب سفیان عباسی نے "رفاہ ڈویلپمنٹ فورم” کی طرح ڈالی۔ کوہسار کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی یہ کامیاب انقلابی کوشش ان کا تاریخی کارنامہ ہے۔ بارش کا پہلا قطرہ مری ڈویلپمنٹ فورم بنا تھا۔ تاہم رفاہ ڈویلپمنٹ فورم نے اب تک زراعت کے میدان میں کوہسار کی باقی سب تنظیموں سے موثر کام کیا ہے۔

سفیان عباسی نے سیاست دان بننے کے بجائے لیڈر بننے کو ترجیح دی اور انتخابات میں کامیابی کے امکانات روشن بنانے کے بجائے نسلیں بنانے کی ذمہ داری سنبھال لی۔

انھوں نے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے مثبت استعمال کی تحریک ہی نہیں دی بلکہ مواقع بھی فراہم کیے۔

گزشتہ عرصے کے حالات و واقعات کا جائزہ لیں تو "ٹال پلازہ” کے نظام کی چیرہ دستیوں کے خلاف آواز بلند کرنی ہو،  سانحہ مری کے بعد حقائق کو منظر عام پر لانے اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا ہو، بھارہ کہو بائی پاس پروجیکٹ کی معطلی کے خلاف عدالتی جنگ لڑنی ہو یا ضلع مری کی بحالی کے لیے میدان عمل میں اترنا ہو، ہر جگہ سفیان عباسی اپنے رفقاء کے ساتھ ایک حقیقی لیڈر کے طور اپنا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔ یہ کار سیاست کے بجائے کار خدمت ہے۔ یقینا اس انداز سیاست سے نئی لیڈر شپ کی تشکیل کی راہیں استوار ہوں گی۔

 اب مری ڈویلپمنٹ فورم کے توسط سے "عام آدمی لیگ” کا قیام کوہسار کی تقدیر بدلنے کی ایک قابل صد تحسین کوشش ہے۔

عام آدمی لیگ نے "وژن 2035” کے نام سے جو منشور جاری کیا ہے وہ ان کے سفر کا رخ واضح کر رہا ہے۔ ان کی جدوجہد عام آدمی کے حقوق کے لیے ہے۔ وہ مقامی روزگار کے حوالے سے متعدد قابل عمل اور شاندار منصوبے رکھتے ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے ان کی سرگرمیاں گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہیں۔ سیاحت کے فروغ کے لیے ان کے پاس انقلابی منصوبے ہیں۔ کوہسار کے قدرتی حسن کی بقا اور بحالی کے لیے وہ بھرپور جہاد کا اعلان کر چکے ہیں۔

8bcc2fc6 913f 4e64 9928 43236a5aef05 0035f7db ea51 46fc b707 5622a16f72c1

عام آدمی لیگ کے منشور میں ایک ایسی سرگرمی کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کی طرف قیام پاکستان سے لے آج تک ہمارے کسی سیاسی نمائندے نے بوجوہ کبھی توجہ نہیں دی۔

ہماری ماں بولی "پہاڑی زبان و ثقافت” کی بقا اور ترویج۔

عام آدمی لیگ بلاشبہ لائق تحسین و تقلید ہے کہ انھوں نے ایک ایسے کام کا بیڑہ اٹھایا ہے جس سے اہل کوہسار کی شناخت بحال ہو گی۔

عام آدمی لیگ کے منشور نے روایتی موروثی سیاسی کاروباری نظام کے لیے کڑی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ پہلے کوہسار کے عوام کے پاس کوئی واضح نشان دہی نہیں تھی کہ ان کے سیاسی نمائندے عوام کی فلاح اور علاقے کی ترقی کے لیے کون کون سے منصوبوں پر بہ تدریج عمل کرتے رہتے تو آج کوہسار کی پسماندگی اور کسمپرسی کا یہ عالم نہ ہوتا۔ لیکن اب ان جماعتوں میں موجود باشعور لوگوں کو اپنے بہ زعم خود سیاسی رہنماؤں سے تقاضا کرنا چاہیے کہ ان نکات پر انھوں نے اب تک کام کیوں نہیں کیا اور آئندہ کے لیے اس سے بہتر منشور پیش کریں۔

ہمیں یقین ہے کہ آئندہ چند برسوں میں کوہسار کی سیاست نیا رخ اختیار کرے گی اور نئی قیادت عشروں سے خطے کا استحصال کرنے والے روایتی سیاسی نمائندوں کو یا تو کار سیاست ترک کرنے یا انداز سیاست تبدیل کرنے پر مجبور کر دے گی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481