افغانستان میں سابق امریکی ننمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے سابق صدر آصف زرداری کے انٹرویو کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں کسی ایک شخص یا ملک کے لیے لابنگ نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کا ایجنٹ ہوں۔گذشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر زلمے خلی لزاد نے لکھا کہ میں پاکستان کے “مسٹر 10 پرسنٹ” کو جواب دینا چاہتاہوں کہ میں نے پاکستان میں جاری سہ جہتی بحران کے بارے میں اپنی مخلصانہ تشویش طاہر کی ہے۔ میں نے تو اپنی سابق ٹوئٹ میں بس تجویز کیا تھا کہ پاکستان کو اس سے نمٹنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔
زلمے خلیل زاد نے مزید لکھا کہ “مسٹر ٹین پرسنٹ” کو اپنے ملک کو مقدم رکھنا اور بے نظیر بھٹوکی میراث کا احترام کرنا چاہیے تاکہ ایک ایسی تباہی کو روکا جا سکے جس کا سامنا پاکستانی عوام کو ہے۔کیونکہ یہ لوگ خود تو بیرون ملک اپنے لگژری گھروں میں منتقل ہوجائیں گے، غریب عوام کو یہی رہنا ہے اور انہیں ان مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔زلمے خلیل زاد نے اپنی تفصیلی ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور ملک کے سیاسی رہنماؤں کو قانون کی حکمرانی کا عہد کرنا چاہیے، ضررورت اس امر کی ہے کہ سپریم کورٹ کو تقسیم کرنے کے بجائے اس کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے۔ مبصرین کے مطابق زلمے کا یہ بیان تحریک انصاف کی جانب سے امریکہ میں شروع کی گئی جارحانہ لابنگ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نےاپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ زلمے خلیل زاد تنخواہ دار آدمی ہے جسے کسی لابی نے عمران خان کی حمایت کے لیے راضی کیا ہوگا۔
