اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سابق بھارتی مسلمان رکن پارلیمنٹ بھائی سمیت کیمرے کے سامنے قتل

8280e252 d70b 4180 b96d 4cc6c5e66b29

بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کےمسلمان  سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کو پریاگ راج میں میڈیا کیمروں اور صحافیوں سمیت پولیس کی موجودگی میں گولیاں مار کرقتل کر دیا گیا ۔بی بی سی کے مطابق اترپردیش حکومت نے اس قتل کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے تاہم ہفتے کی شام کو ہونے والے اس قتل کے بعد مقامی اور قومی سطح پر سیاست دانوں کی جانب سے مسلسل تنقید کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس میں ریاست کے امن و امان پر سوالات کھڑے کیے جا رہے ہیں۔جس وقت یہ قتل ہوا پولیس عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کو میڈیکل چیک اپ کے لیے ہسپتال لے جا رہی تھی اور وہ کیمرہ پر انٹرویو دے رہے تھے۔

عتیق احمد اور اشرف سابق ایم ایل اے راجو پال کے قتل کے سلسلے میں جیل میں تھے۔ انھیں راجو پال قتل کے گواہ امیش پال کے قتل کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے سابرمتی جیل سے پریاگ راج لایا گیا تھا۔دو دن پہلے جمعرات کو عتیق احمد کے بیٹے اسد احمد اور ان کے ساتھ موجود ایک نوجوان غلام محمد کو اتر پردیش پولیس کی سپیشل ٹاسک فورس نے جھانسی میں ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سابق مسلمان رکن اسمبلی محمد عتیق کئی مقدمات میں اسیر تھے جنہیں طبعیت خراب ہونے پر موتی لال اسپتال لایا گیا تھا۔ اس موقع پر ہتھکڑیاں لگے عتیق میڈیا کے سوالات کا جواب دے رہے تھے کہ صحافیوں کے بھیس میں آئے تین قاتلوں نے ان پر گولیاں چلادیں، سر پر گولی لگنے سے عتیق احمد موقع پر ہی چل بسے جبکہ ان کے بھائی اشرف بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاکر اسپتال میں دم توڑ گئے۔پولیس نے تینوں حملہ آوروں لولیش تیواری، سنی اور ارون موریا کو موقع سے حراست میں لے کر اسلحہ بھی برآمد کرلیاجو جے شری رام کے نعرے لگا رہے تھے۔ ملزمان نے اعترافی بیان میں کہا کہ وہ محمد عتیق کو قتل کرکے انڈر ورلڈ میں شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے۔

دوسری طرف بھارت میں مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل انڈیامجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے قتل کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی ایم ایل اے عتیق کے بیٹے کو بھی ایک مبینہ مقابلے میں قتل کیا گیا تھا۔عتیق اور ان کے بھائی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ ہتھکڑی لگے بھائیوں کا قتل اور ہندو انتہا پسندی پر مبنی نعرے ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ کی امن وامان کے قیام میں ناکامی کا بڑا ثبوت ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481