اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آزاد کشمیر میں نئے وزیر اعظم کا انتخاب پھر کھٹائی میں پڑ گیا

WhatsApp Image 2023 04 15 at 03.09.02

آزاد کشمیر میں نئے وزیر اعظم کا انتخاب ہفتے کو پھر کھٹائی میں پڑ گیا جس کے بعد  اجلاس ایک بار پھر اتوار تک ملتوی کردیا گیا. ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ اختلافات اور دھڑے بندی کے باعث تحریک انصاف وزارت عظمی کے امیدوار پر متفق نہیں ہو سکی لہٰذا آج کا اجلاس پھر ملتوی ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق ایک طرف تحریک انصاف کے پاس بیرسٹر سلطان کے فارورڈ بلاک کے امیدوار چوہدری رشید کے علاوہ خواجہ فاروق سمیت نصف درجن کے قریب وزارت عظمیٰ کے امیدوار موجود ہیں تو دوسری جانب اپوزیشن کے امیدوار پی پی کے چوہدری یاسین کو بھی اب تک بیرسٹرسلطان کی حمایت  حاصل نہیں ہو سکی جو آزاد کشمیر کی سیاست میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ اور ان کا دعوٰی ہے کہ چھ سے زائد ارکان ان کی جیب میں ہیں۔جنہوں نے انہیں فیصلے کا اختیار دے رکھا ہے۔

images 3 download 1

ذرائع کے مطابق بیرسٹرسلطان نے پیپلزپارٹی پر واضح کر دیا ہے کہ وہ چوہدری یاسین کووزیر اعظم قبول نہیں کریں گےتا ہم اگر وہ سردار یعقوب یا فیصل ممتاز راٹھور کو عبوری مدت کے لیے وزیراعظم نامزد کرتے ہیں تو ان کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹرسلطان کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ بعد ازاں وہ خود وزیراعظم عہدے پر آئیں گے تاہم دوسرے فریق کیلئے ان کی یہ شرط قابل قبول نہیں ہے۔

 

دوسری طرف معزول وزیراعظم تنویر الیاس نے عمران خان سے ملاقات کرکے جب بتایا کہ بیرسٹرسلطان نے اگر ہمارا ساتھ نہ دیا تو اپنا وزیر اعظم نہیں لا سکے گی۔ اس پر عمران خان نے کہا کہ کسی کی بلیک میلنگ میں نہ آئیں اور ان کی ہدایت پر تنویر الیاس، اسد قیصر اور پرویز خٹک نے اسلام آباد میں بیرسٹر سلطان کے ساتھ مذاکرات کئے تو انہوں نے ایک بار پھر شرط رکھی کہ چوہدری رشید کو عبوری مدت کے لئے وزارت عظمی کے لیے لایا جائے تاکہ وہ کچھ عرصے بعد ان کی جگہ خود لے سکیں ۔تاہم تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے اس کی مخالفت کی جس کے بعد عمران خان کو صورت حال سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے ہدایت کی کہ کسی دباؤ میں آئے بغیر نئے امیدوار کا فیصلہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہفتے کے روز خود امیدوار کا اعلان کریں گے تاہم تحریک انصاف ہفتے کی شام تک کسی نام پر متفق نہیں ہو سکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسمبلی اجلاس کورم کا بہانہ کر کے اتوار تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481