اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آئیے پرانا،نیا نہیں۔۔ہمارا پاکستان کی بات کریں۔ آرمی چیف

سانحہ پشاور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرےلایا جائے گا، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہاہے کہ ہمیں نئے اور پرانے پاکستان کی بحث چھوڑ کر "ہمارے پاکستان” کی بات کرنی چاہیے ۔طاقت کا محور عوام ہیں،ہمارا آئین  واضح طور پرکہتا ہے اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن میں کیا جو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوا،اجلاس میں   آرمی چیف سمیت دیگر عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔

اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہم سب کو  نئے اور پرانے پاکستان کی بحث کو چھوڑ کر "ہمارے پاکستان” کی بات کرنی چاہیے، ہمیں آگے بڑھنا ہے۔عوام کے منتخب نمائندے منزل کا تعین کریں، پاک فوج پاکستان کی ترقی اور کامیابی کے سفر میں ان کا بھرپور ساتھ دے گی، ملک میں دائمی قیامِ امن کے لیے سکیورٹی فورسز مستعد ہیں۔

آرمی چیف کی آمد پر اراکین اسمبلی اور وفاقی وزرا نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا جبکہ عسکری حکام کی جانب سے شرکاء کو سکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف نے 1973 کے آئین کے نفاذ کے 50 سال مکمل ہونے پر ارکان کو مبارکباد دی اور کہا کہ "سینٹر آف گریویٹی” پاکستان کے عوام ہیں۔ آئین کہتا ہے اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا، آئین پاکستان اور پارلیمنٹ عوام کی رائے کے مظہر ہیں، عوام اپنی رائے آئین اور پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔

ان کیمرہ سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف کا مزید کہنا تھا یہ نیا آپریشن نہیں بلکہ ہول آف نیشل اپروچ ہے، یہ عوام کے غیر متزلزل اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جس میں ریاست کے تمام عناصر شامل ہیں، اللہ کے فضل سے اس وقت پاکستان میں کوئی نو گو ایریا نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا اس کامیابی کے پیچھے ایک کثیر تعداد شہداء و غازیوں کی ہے،جنہوں نے اپنے خون سے اس وطن کی آبیاری کی، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں  80 ہزار سے زائد افراد نے قربانیاں پیش کیں جن میں 20 ہزار سے زائد غازی اور 10 ہزارسے زائدشہداء کا خون شامل ہے۔

آرمی چیف نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے لیے ریاستی رٹ  تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں، دہشت گردوں سے مذاکرات کا خمیازہ ان کی مزید گروہ بندی کی صورت میں سامنے آیا، ملک میں دائمی قیامِ امن کے لیے سکیورٹی فورسز مستعد ہیں، اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں۔ جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کے پاس وسائل اور افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں، عوام کے منتخب نمائندے منزل کا تعین کریں، پاک فوج پاکستان کی ترقی اور کامیابی کے سفر میں ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481