اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہماری معاشی بدحالی کی اصل وجوہات

3f83700c 8fba 4155 a971 240272fe5bf8 612x430 1

دنیا کے اچھے برے حالات کچھ ظاہری اعمال ہی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ البتہ اعمال ظاہری کے نتیجے کا ظہور کچھ باطنی اور غیر مرئی اثرات کا محتاج بھی ہوتا ہے۔ ان اثرات میں ایک اثر برکت کہلاتا ہے کہ اللہ ہماری تھوڑی کوششوں کو بھی بڑے نتیجے کے ظہور کا سبب بنا دے۔ نتیجے کا یہ اچھا ظہور یا برکت اخلاقی اصول پر کھڑا ہے یعنی اگر انسان اپنا کردار ایسا بنا لے جو اللہ کا پسندیدہ ہو تو اللہ کی طرف سے اچھے نتائج ظاہر ہوں گے اور اگر انسان دنیا میں اللہ کا ناپسندیدہ کردار بن کر رہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت اس سے منہ موڑ لیتی ہے اور خراب حالات ظہور پاتے ہیں، جسے ہم بے برکتی بھی کہہ سکتے ہیں اور عذاب الہٰی بھی۔
یہ بھی اخلاقی اصول ہے کہ خاص حالات میں آزمائش یا استدراج کا ظہور ہوتا ہے یعنی نیک لوگوں پر حالات خراب آ جائیں تو یہ آزمائش ہے اور برے لوگوں پر اچھے حالات کا تسلسل رہے تو یہ استدراج ہے۔ لیکن عام اخلاقی اصول یہی ہے کہ برے کردار پر برے حالات آتے ہیں اور اچھے پر اچھے حالات آتے ہیں۔ یہ اخلاقی اصول قرآن کریم میں کئی جگہ بیان ہوا:
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ (سورة الأعراف: 96)
اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقوی اخیتار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکات نازل کرتے ‘‘
ایک جگہ فرمایا:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا () وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق 2، 3)
’’جو اللہ کا تقوی اختیار کرے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کرے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے وہ سوچ بھی نہیں سکتا‘‘
وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ وَما أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ (المائدہ:66)
’’اور اگر وہ تورات اور انجیل اور اللہ کے نازل کردہ (احکام) کو قائم کرتے تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے بھی اور اپنے پاؤں کے نیچے سے بھی‘‘
برکت و انعام اور بے برکتی اور عذاب کا یہ اصول ویسے تو ہر عمل پر لاگو ہوتا ہے لیکن بعض احادیث میں کچھ گناہوں کا بطور خاص ذکر آیا ہے۔اس سلسلے کی ایک حدیث کا ہم مطالعہ کرتے ہیں : «إِذَا ظَهَرَ الزِّنَا وَالرِّبَا فِي قَرْيَةٍ فَقَدْ أَحَلُّوا بِأَنْفُسِهِمْ عَذَابَ اللَّهِ »(المستدرك على الصحيحين عن ابن عباس)’’ جب کسی بستی میں بدکاری اور سود پھیل جائیں تو وہ لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں‘‘۔
جہاں تک پہلے جرم ’’زنا‘‘ کی بات ہے تو قرآن پاک میں جا بجا اس کی مذمت کی گئی ہے۔ سردست ایک آیت کا مطالعہ کرتے ہیں:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا (بنی اسرائیل:32)
’’اور زنا کے قریب نہ جاؤ اس لیے کہ یہ بڑی برائی اور بہت برا راستہ ہے‘‘
اس آیت میں زنا کو ’’برا راستہ‘‘ قرار دیا گیا ہے، اگرچہ اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ لیکن یہ مطلب واضح ہے کہ یہ فعل بد اور برا راستہ انسان کو کسی بری منزل پر ہی پہنچاتا ہے تبھی تو اسے برا راستہ قرار دیا گیا۔ ’’برے راستے‘‘ زنا کی ایک بری منزل بیماریوں کا پھیلنا ہے۔صحیح حدیث میں ہے:
لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ حَتَّى يُعْلِنُوا بِهَا إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الطَّاعُونُ وَالْأَوْجَاعُ الَّتِي لَمْ تَكُنْ مَضَتْ فِي أَسْلَافِهِمُ الَّذِينَ مَضَوْا (سنن ابن ماجہ)
’’جب کسی قوم میں بدکاری پھیلتی ہے یہاں تک کہ کھلے بندوں ہونے لگے تو ان میں طاعون اور دوسری بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے باپ دادوں نے سنی تک نہ تھیں‘‘
تو بدکاری سے صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور صحت کے یہ مسائل دوسرے مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ بیمار لوگ ملکی پیداوار میں کیا حصہ لیں گے الٹا وہ خود بوجھ بن جاتے ہیں۔ پھر بدکاری سے لوگوں کی قوت کار اور قوتِ ارتکاز پر برا اثر پڑتا ہے جس کے نتیجے میں انسان اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال نہیں کر سکتا۔ انجام کار بدکاری ملکی و قومی نقصان کا ذریعہ بنتی ہے۔ بعض روایات میں بھی بدکاری کا تعلق معاشی بدحالی سے جوڑا گیا ہے:
«وَإِذَا ظَهَرَ الزِّنَا ظَهَرَ الْفَقْرُ وَالْمَسْكَنَةُ»(مسند البزار)
’’جب زنا عام ہو جائے تو افلاس اور محتاجی عام ہو جاتی ہے‘‘
الزِّنَا يُورِثُ الْفَقْرَ (شعب الایمان) ’’بدکاری غربت کو کھینچ لاتی ہے‘‘

اگرچہ ان روایات کی اسناد میں ضعف پایا جاتا ہے لیکن ان میں بیان کردہ مفہوم کی تائید تفسیر قرآن سے ہوتی ہے۔ جس کی طرف اشارہ علامہ صنعانی نے التنویر شرح الجامع الصغیر میں اشارہ کیا ہے۔ وہ یوں کہ زنا، نکاح کا متضاد ہے اور قرآن کریم میں نکاح کو باعث برکت بتایا گیا ہے:
وَأَنْكِحُوا الْأَيامى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبادِكُمْ وَإِمائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ واسِعٌ عَلِيمٌ (النور:32)
’’اورتم میں سے جو بغیر نکاح کے ہوں اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہیں ان کے نکاح کر دو۔ اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا اور اللہ وسعت والا، علم والا ہے‘‘۔
رسول اللہ ﷺ نے جن لوگوں کے بارے میں خبر دی کہ اللہ ان کی بالضرور مدد کرتا ہے ان میں نکاح کرنے والا بھی ہے۔  فرمایا اَلنَّاكِحُ يُرِيدُ الْعَفَافَ(مسند احمد)’’ وہ شخص جو اپنی عفت کی حفاظت کی خاطر نکاح کرے‘‘
انھی دلائل کی رو سے بعض صحابہ کرام فرماتے ہیں : الْتَمِسُوا الْغِنَى فِي النِّكَاحِ  ’’مالداری کو نکاح کے ذریعے تلاش کرو‘‘ ۔ لہذا جب ایک شخص نکاح کا راستہ چھوڑ کر بدکاری کا راستہ اختیار کرتا ہے تو گویا وہ اللہ کی مدد اور مالداری کا راستہ چھوڑ کر فقر اور مفلسی کی راہ اختیار کرتا ہے۔ جہاں تک مغربی ممالک کی بات ہے کہ وہاں بدکاری اور خوشحالی دونوں پائے جاتے ہیں تو ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ کافروں کے لیے اصول ’’استدراج‘‘ کا ہے اور اللہ نے ان کی رسی دراز کر رکھی ہے یہاں تک کہ وہ کسی بڑے عذاب سے دوچار ہوں۔ وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ (آلِ عمران:178)
’’کافر یہ گمان نہ کریں کہ ہم جو انھیں مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے لیے بہتر ہے بلکہ ہم تو انھیں اس لیے ڈھیل دیتے ہیں تاکہ وہ گناہ میں مزید بڑھ جائیں اور ان کے لیے (آخر کار) ذلت آمیز عذاب ہے‘‘۔ نافرمانوں کو دی جانے والی مہلت نعمتوں کی فراوانی کے ساتھ ہو تو یہ استدراج کہلاتا ہے:
وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ (182)
’’اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں جلد ہم انہیں آہستہ آہستہ عذاب کی طرف لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر تک نہ ہوگی‘‘
حدیث زیر مطالعہ میں دوسرا جرم سود خوری ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالٰی نے فرمایا:
يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ (البقرہ:276)
اللہ سود کو تباہ کرتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے گناہ گار کو پسند نہیں کرتا‘‘
تباہ کر نے کے تین مطلب بیان کیے گئے۔ ایک تو یہ کہ سودی کمائی میں سے راہ خدا میں خرچ کرنے پر کوئی نیکی نہیں ملے گی۔ دوسرا یہ کہ اس سے مال بالکلیہ تباہ ہو جائے اور تیسرا یہ کہ اس کی برکت ختم ہو جائے گی اور اس کی تجارت فائدہ مند نہ ہو سکے گی۔ اب اگر ہم اپنی موجودہ معاشی ابتری کی طرف دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ بیرونی اور اندرونی سود کی وجہ سے ہماری معیشت برکت سے محروم اور روبہ زوال ہے۔ آیت مندرجہ بالا میں سود کے مقابل صدقات کو لایا گیا ہے۔  تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معیشت کی بنیاد سود کے بجائے زکاۃ و صدقات پر ہے۔ ایک دوسری آیت میں بھی سود اور زکاۃ کا تقابل کیا گیا:
وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ [الرُّومِ: 39]
اور جو روپیہ تم سود پر دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں جا کر بڑھتا رہے وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو تم اللہ کی رضا کے لئے زکاۃ ادا کرتے ہو تو وہی ہیں جو بڑھانے والے ہیں‘‘
معلوم ہوا کہ اسلامی معیشت کا دارو مدار صدقات پر ہے نہ کہ سود پر۔ بلکہ سود تو معیشت کی تباہی کا راستہ ہے۔ لہذا حکومت کو چاہیے کہ ملک سے سود کا خاتمہ کرے اور اموالِ باطنہ اور اموال ظاہرہ کی زکاۃ پوری ایمانداری سے وصول کرے۔ یاد رہے کہ شریعت کے مطابق اموالِ ظاہرہ کی زکاۃ ریاستی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بھی وصول کی جا سکتی ہے۔  اسی طرح پاکستان میں زکاۃ الارض یعنی فصلوں کی زکاۃ جو عرف عام میں عشر کہلاتی ہے اس کی وصولی کا بھی مناسب انتظام نہیں ہے۔ لہذا صدقات کی وصولی و خرچ کے عمدہ استعمال اور سود سے اجتناب کے ساتھ ہم اپنی معیشت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ عوام الناس کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی ذات میں سود سے اجتناب کرتے ہوئے صدقات وخیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
نبی کریم ﷺ نے سود کے بارے میں فرمایا: «الرِّبَا وَإِنْ كَثُرَ فَإِنَّ عَاقِبَتَهُ تَصِيرُ إِلَى قَلٍّ» (مستدرک حاکم) ’’سود جتنا بھی بڑھ جائے پھر بھی بے شک اس کا انجام قلت ہی ہے‘‘
"پاک استھان” کہلانے والا پاکستان سود کی غلاظت میں بال بال لت پت ہے. جس کے نتیجے میں ہم معاشی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت عدالتی فیصلوں اور اپنے اعلامیوں کے مطابق سود کے خاتمے کے لیے پیش رفت کرتی لیکن وزیر خزانہ نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سود کی شرح بڑھا دی ہے. حالاں کہ کچھ عرصہ پہلے وہ خود سود ختم کرنے کا اعلان بھی کر چکا تھا۔ اس دوعملی کے تناظر میں فرمان ِ رسول ﷺ ملاحظہ کیجیے:
«مَا أَحَدٌ أَكْثَرَ مِنَ الرِّبَا إِلَّا كَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهِ إِلَى قِلَّةٍ» (سنن ابن ماجہ) ’’ کوئی شخص سود کو جتنا بھی زیادہ کر لے انجام اس کا قلت ہی سے ہے‘‘۔ حاصل کلام یہ کہ ملک میں پھیلی افراتفری اور معاشی ابتری کا تعلق ہماری اخلاقی خرابی بالخصوص سود خوری سے ہے۔ اصلاحِ احوال کا یہ طریقہ ہے کہ ہم انفرادی و اجتماعی طور پر ان جرائم سے توبہ کر کے شریعت کی پابندی اختیار کریں۔

چمن کے مالی اگر بنا لیں موافق اپنا شعار اب بھی
پلٹ بھی سکتی ہے اس چمن میں چمن سے روٹھی بہار اب بھی

🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481