اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اروناچل پردیش پر بھارت چین تنازعہ پھر سر اتھانے لگا

cec6436f f254 4994 94fe e8f5e216fa29

 

اروناچل پردیش پر بھارت چین تنازعہ ایک بار پھر  پھر سر اتھانے لگا۔بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ریاست  کا دورہ کرنے اور وہاں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر چین نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور اس معاملے پر ایک بار پھر دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیاں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ اروناچل پردیش دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ برسوں میں  ایک نیا فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔جبکہ بھارت چین تعلقات پہلے ہی 2020 میں مغربی ہمالیہ میں  جھڑپوں کے بعد سے کشیدہ ہیں، اس لڑائی میں دونوں طرف  کے 24 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

حالیہ پیش رفت کے حوالے سے غیر ملکی میڈیا  کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ نے ہمالیہ کے دامن میں واقع سرحدی ریاست اروناچل پردیش کا دورہ کیا اور وہاں کم و بیش  585 ملین ڈالر کی لاگت سے ایک ترقیاتی اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا۔اروناچل پردیش کے دورے کے موقع پر وزیرداخلہ امیت شاہ نے کہا کہ اس پروگرام میں چار ریاستوں کے 3000 دیہات اور چین کی سرحد پر وفاق کے زیرانتظام ایک علاقے کا احاطہ کیا جائے گا اور اس کا مقصد سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کو روکنا  ہے،

اس موقع پر بھارتی وزیر داخلہ نے چین کا نام لیے بغیر دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ  وہ دن گئےجب کوئی بھی ہماری سرزمین پر قبضہ کرسکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ سرحد پر موجود فوجیوں کی بہادری اور قربانیوں کی وجہ سے اندرونی علاقوں میں رہنے والے ہندوستانی سکون کی نیند سو سکتے ہیں۔دوسری جانب چینی  وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ زنگنان چین کا علاقہ ہے، بھارتی عہدہ دار کا زنگنان کا دورہ چین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اور یہ سرحدی صورت حال کے امن وامان کے لیے سازگار نہیں ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ہفتے جاری ہونے والے ایک نقشے میں چین نے اروناچل پردیش میں پانچ پہاڑوں سمیت 11 مقامات کے نام تبدیل کیے ہیں، ان میں ’زنگنان‘ یا جنوبی تبت کودکھایا گیا ہے جبکہ اروناچل پردیش جنوبی تبت میں شامل ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481