اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سانحہ اوجڑی کیمپ کوہسارکے ہردلعزیزرہنما خاقان عباسی کو بھی ساتھ لے گیا

743518a0 cf2e 43ab 933f 3e0d1e06b0df

دس اپریل کا دن جہاں سانحہ اوجڑی کیمپ کی وجہ سے راولپنڈی اسلام آباد اور گردونواح کے شہروں کے لوگوں کے لیے ایک قیامت خیز دن تھا ، وہیں یہ عباسی برادری کے لئے بھی ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس میں خطہ کوہسار کی ہر دلعزیز سیاسی شخصیت اس وقت کے وفاقی وزیر پیداوار ،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے والد اور سابق صدر جنرل ضیاءالحق کے قریبی دوست خاقان عباسی بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے جب ان کی چلتی گاڑی کو اوجڑی کیمپ سے نکلنے والے راکٹ نے نشانہ بنایا۔اس وقت گاڑی میں ان کے ہمراہ ان کے بڑے صاحبزادے اور شاہد خاقان عباسی کے بڑے بھائی زاہد عباسی بھی موجود تھے۔ گاڑی پر دو راکٹ گرے جس کے نتیجے میں خاقان عباسی تو موقع پر شہید ہوگئے جبکہ شاہد عباسی شدید زخمی ہوئے۔زاہد عباسی بعدازاں چودہ برس تک کومے کی حالت میں اسپتال میں زیر علاج رہے جس کے بعد 2002 میں ان کا انتقال ہوگیا۔
واضح رہے کہ دس اپریل انیس سو اٹھاسی کو رونما ہونے والے سانحہ اوجڑی کیمپ میں سو سے زائد افراد جاں بحق اور 1100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
صدر ضیاء الحق اس وقت اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے کویت میں موجود تھے جبکہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کراچی میں تھے جو فوری طور پر راولپنڈی پہنچے۔ ہر طرف راکٹوں اور میزائلوں کے گرنے کے نتیجے میں جڑواں شہروں میں قیامت صغریٰ کا منظر تھا۔ لوگ اپنے طور پر قیاس آرائی کر رہے تھے کہ بھارت یا اسرائیل نے حملہ کر دیا ہے۔
دس اپریل کی شام قومی اسمبلی میں وزیر پارلیمانی امور اور انصاف وسیم سجاد نے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ فوج کے بارود کے ذخیرے میں اس وقت آگ لگ گئی ، جب ایک ٹرک سے بارودی مواد استعمال ہر جا رہا تھا۔

 خاقان عباسی۔۔ خطہ کوہسار کے مسیحا

c995241a d114 4779 8c5a 9c38cad1e7f9

شاہد خاقان عباسی کے والد خاقان عباسی کو خطہ کوہسار کے لوگ ایک مسیحا کے طور پر جانتے ہیں، جنہوں نے ناصرف اپنے حلقے میں بے شمار ترقیاتی کام کرائے بلکہ جہاں کہیں بھی عوام کو کوئی مسئلہ درپیش ہوا یا ان کے نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے اسے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔یہی وجہ ہے کہ وہ کئی بار مری کہوٹہ کے انتخابی حلقے این اے 36 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں اور بعد ازاں ان کے صاحبزادے شاید خاقان عباسی کو بھی عوام نے اسی طرح پذیرائی بخشی۔
واضح رہے کہ خاقان عباسی سابق صدر جنرل ضیاءالحق کے قریبی دوست تھے اور اس وقت کی وفاقی کابینہ یا مجلس شوریٰ میں انہیں خصوصی اہمیت حاصل تھی۔خاقان عباسی کا پس منظر فوجی تھا، او پاک فضائیہ میں ایئرکموڈور کے طور پر فرائض انجام دے چکے تھے ،جب جنرل ضیاءالحق بریگیڈیئر تھے تو دونوں نے اردن میں ایک ساتھ خدمات انجام دی تھیں۔ بعد ازاں خاقان عباسی نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں کنسٹرکشن سمیت دیگر کاروبار شروع کیے جن کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور اس دوران انہوں نے مری کہوٹہ اور خطہ کوہسار کے گردونواح کے بے شمار لوگوں کو مشرق وسطی میں روزگار کیلئے بھیجا جو اس دور کا یورپ سمجھا جاتا تھا۔
بے پناہ دولت ، مرتبہ اور سیاسی اثر رسوخ ہونے کے باوجود وہ اپنی ذاتی زندگی میں نہایت سادگی پسند تھے اور کوئی بھی عام آدمی کسی بھی وقت ان سے ملاقات کر سکتا تھا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481