اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

چیف الیکشن کمشنرنے انتخابی ایکٹ میں کیاترامیم تجویزکیں؟

الیکشن کمیشن کا اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ

چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی ایکٹ میں  کچھ ترامیم تجویز کی ہیں ۔ اس حوالے سے سکندر سلطان راجہ نے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختون اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد پر تنازعہ پیدا ہوا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ  الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کی تاریخوں کے اعلان اور نوٹی فیکیشن کے بعد الیکشن پروگرام میں تبدیلی کا اختیار ملنا چاہئیے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ روز  عدالتی اصلاحات کا بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے منظور کر لیا گیاہے جبکہ انتخابات ایک ہی دن کروانے کی قرارداد بھی منظورکرلی گئی ہے جبکہ  وفاقی کابینہ نے اتفاق کیا ہے کہ پنجاب میں الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری کرنے سے متعلق فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔

موصولہ تفصیل کے مطابق الیکشن ایکٹ میں ترامیم سے متعلق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کولکھے گئے خط میں چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 ون اور 58 میں ترامیم تجویز کی ہیں اور کہاہے کہ ترامیم پارلیمنٹ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کی جائیں۔سکندر سلطان راجا نے سیکشن 57 ون میں ترمیم تجویز کی ہے کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات کی تاریخ یا تاریخوں کا اعلان کرےگا، ترمیم کے تحت الیکشن کمیشن حلقوں سے نمائندے منتخب کرنے کا کہے گا، تجویز کیا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات نوٹیفکیشن کے بعد الیکشن پروگرام میں تبدیلی کر سکے گا، مجوزہ ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن نئی پولنگ تاریخ کے ساتھ نیا الیکشن پروگرام بھی جاری کر سکے گا۔

چیف الیکشن کمشنر کے خط میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختون اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد پر تنازع پیدا ہوا، عدلیہ نے آرٹیکل224/2 کی تشریح میں کہا کہ 90 دنوں میں الیکشن آئینی طور پر ضروری ہے۔

ادھر پیر کے روز اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر قانون سنیٹر اعظم نذیر تارڑ نے عدالتی اصلاحات بل جسے  سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کا نام دیا گیا ہے، منظوری کے لیے پیش کیا۔  وزیر قانون کا کہنا تھا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل منظوری کے لیے صدر مملکت کو بھیجا گیا تھا، صدر نے بل واپس بھیج دیا، دونوں ایوانوں نے اس بل پر بحث بھی کی تھی۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا صدر مملکت نے اپنے خط میں جو سوالات اٹھائے ہیں وہ نامناسب ہیں، صدر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ریاست کے سربراہ کے طور پر کام کریں، اپنی جماعت کے کارکن کے طور پر کام نہ کریں، بل پارلیمان کی صوابدید ہے، صدر اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں ۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا صدر تعصب کی عینک اتار کر بل کو پڑھ لیتے، سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد کا تعین بھی ایکٹ آف پارلیمنٹ سے ہی ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں، آئین پاکستان کے تحت قانون ساز ایوان پارلیمنٹ ہے، یہ 22 کروڑ عوام کا نمائندہ ایوان ہے، امپیریل کورٹ کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے یہ بل لایا گیا ہے، تمام تر اختیارات اکیلے چیف جسٹس سے لے کر سینئر تین ججوں کو دیے گئے ہیں۔مسلم لیگ ن کی رکن شزا فاطمہ خواجہ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 میں ترمیم پیش کی جس کی وزیر قانون نے حمایت کردی۔ترمیم کے مطابق قانون منظور ہونے کے بعد ججز کمیٹی کا پہلا اجلاس قواعد و ضوابط طے کرنے کے لیے بلایا جائے گا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481