اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

وزیر اعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس کیوں نااہل قرار پائے، مکمل کہانی سامنے آ گئی

pbit chairman sardar tanveer ilyas khan says security agencies will also foil attacks pakistan s eco 1593452637 7648

آزاد کشمیر کی ہائی کورٹ نے وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کو توہین عدالت پر نااہل قرار دے دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد تنویر الیاس ازخود اپنے عہدے سے فارغ ہوگئے ہیں۔ اگرچہ انہیں سپریم کورٹ میں اپیل کا حق حاصل تھا، جس کے لیے وہ  فوری طور پر آزاد کشمیر کی عدالت عظمی پہنچ گئے۔ تاہم سپریم کورٹ نے بھی عدالت عالیہ کا فیصلہ برقرار رکھا اور دو ہفتے میں ان سے جواب طلب کر لیا۔

وزیر اعظم کی نا اہلی کا یہ فیصلہ آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے فل بینچ نے دیا ہے۔ جس نے تنویر الیاس کو کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے چند روز پہلے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ججز کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی اور کہا تھا کہ اگر کوئی قانون ساز اسمبلی کے اختیارات میں مداخلت کرے گا تو اپنی نوکری سے بھی جائے گا۔

0af99c48 71a3 4dc8 a0f8 a21d509a8eb1
انہوں نے عدلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اپنی حدود میں رہیں پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ قانون سازی کرنا ہمارا حق ہے جس میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا”
وزیر اعظم آزاد کشمیر کے اس خطاب پر قانون ساز اسمبلی کے کئی ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کی تائید بھی کی تھی۔  بعد ازاں سردار تنویر الیاس نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر متنازع تقریر کی اور کہا کہ ہم کام کرنا چاہتے ہیں مگر عدالت سٹے پر سٹے دیتی جا رہی ہے۔  ہم کسی پروجیکٹ پر کام کرنا شروع کرتے ہیں تو اس پر حکم امتناع آ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑک پر چلتے لوگوں کو بلا کر سٹے دے دیا جاتا ہے۔
اس دوران جذبات میں آکر تنویر الیاس  نے یہ بھی کہا کہ میں ججز کا دھواں نکال دوں گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر اعظم کو توہین عدالت پر نااہل قرار دیا گیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد تنویر الیاس اسمبلی رکنیت سمیت وزارت عظمی کے لئے نااہل اور اپنے عہدے سے فارغ ہوگئے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کو نئے وزیر اعظم کے لئے خط بھی لکھ دیا۔

ہائی کورٹ نے تنویر الیاس سے کیا پوچھا۔۔ جواب کیا ملا؟ مکمل کہانی 

آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے آزاد کشمیر کے سابق وزیرِ اعظم سردار تنویر الیاس کی توہین عدالت کیس میں ان کی طرف سے غیر مشروط معافی کی درخواست کے بعد 12 سوالات ان کے سامنے رکھ دیے۔ خبر ایجنسی صباح نیوز کے مطابق آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے موقع پرسوالات سے قبل تین ویڈیو کلپس بھی عدالت میں چلائے گئے۔ جس کے بعد عدالت نے وزیر اعظم سے بارہ سوالات کے جوابات طلب کیے۔

سوال1 : یہ کہ جو ویڈیو کلپ چلائے گئے انھیں آپ تسلیم کرتے ہیں ؟

جواب:۔جی

سوال2:۔ آپ کی تقریر پر توہین عدالت بنتی ہے؟

جواب: توہین عدالت بنتی ہے اسی لیے معافی مانگی۔

سوال3: معلمین قرآن کے جس مقدمے کی بات کی ہے یہ حکومت کے پاس کتنے عرصے سے تاخیر کا شکار ہے؟

جواب: نو سال سے زائد ہو چکے ہیں ۔

سوال4: کیا یہ درست ہے کہ آپ نے ہی ٹھیکہ دیا ہے؟

جواب: سابقہ حکومت نے دیا ہے۔

سوال5: معلمین قرآن والا مقدمہ عدالت میں دو ماہ سے زیرسماعت ہے؟

جواب : درست ہے

سوال6: یہ بات درست ہے کہ آپ نے عدالتی احکامات کو کھلواڑ قرار دیا ؟

جواب7: اس بات پر معافی چاہتا ہوں ۔

سوال8: یہ بات درست ہے کہ آپ کا پچھلا ریکارڈ درست نہیں ہے؟

جواب9: آئیندہ ایسی کوئی غلطی سرزد نہیں ہوگی۔

سوال10: کیا یہ درست ہے کہ آپ نے کہا کہ آپ کے پاس عدالت میں جانے کا وقت نہیں ہے؟

جواب: اس بات بھی معافی چاہتا ہوں ۔

سوال11:  یہ بات درست ہےکہ عدالت میں ایک فریق نے رٹ پٹیشن دائر کی، عدالت نے سڑک سے کسی کو نہیں بلایا ؟

جواب : جی درست ہے.

سوال12: کیا آپ عدالت کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ آئندہ ایسی میڈیا ٹاک نہیں کریں گے؟

جواب: کبھی نہیں کروں گا ۔

اس کے بعد عدالت عالیہ نے وزیر اعظم کو کہا کہ آپ کو پھر بھی شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا چونکہ آپ کا سابقہ ریکارڈ اچھا نہیں ہے اور آپ ہمیشہ عدالتوں کے خلاف غلط قسم کی میڈیا ٹاک کا حصہ بنتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے استدعا کی کہ معافی کے بعد ان کا مقدمہ ختم کر دیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ آپ سپریم کورٹ سے ہو کر ڈیڑھ بجے دوبارہ حاضر ہوں۔ اس کے بعد وزیر اعظم سپریم کورٹ میں پیشی کے لیے روانہ ہو گئے۔ وہاں سے بھی وزیر اعظم کو اڑھائی بجے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے عدالت عالیہ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے دو ہفتے میں جواب طلب کر لیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481