اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جانور ہمارے رحم اور ہماری توجہ کے طالب ہیں

Picsart 23 04 09 13 25 42 859

FB IMG 1681026929301

اس معصوم سوتے ہوئے بندر کو دیکھ کر کیا آپ کو اپنی اولاد کا خیال نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔

کل بروزِ ہفتہ شام کو چار بجے میں پیدل کچھ سامان لینے مارکیٹ کی طرف جا رہا تھا تو اچانک میری نظر ایک مداری پر پڑی۔ وہ ٹچ والا موبائل لے کر ایک چوک میں دیوار کے ساتھ بیٹھا معلوم نہیں کوئی گیم کھیل رہا تھا یا فیس بک میں مگن تھا۔ اس معصوم بندر کو رسی سے باندھا ہوا تھا۔

اس تصویر کو ذرا غور سے دیکھیں۔ اس معصوم نے اس عمر میں اپنی والدہ کی محبتیں سمیٹنی تھیں مگر چند دنوں میں ہی اسے اٹھا لیا گیا یا چوری کر لیا ہوگا۔ جس لڑکے نے اسے رسی سے باندھ کر قابو کیا ہوا ہے اس کی عمر 18 سال کے لگ بھگ ہوگی۔ کیا یہ لڑکا نوکری یا مزدوری نہیں کر سکتا؟

کیا اس لڑکے یا اس کے والدین کو ایک بار بھی احساس نہیں ہوا کہ اس شیر خوار نے ابھی جنگل کی دنیا اور چہل پہل تک نہیں دیکھی۔
کیا اسے پکڑتے ہوئے انہیں اپنے بچوں کا خیال نہیں آیا۔
کیا ان کے ذہن میں یہ خوف نہیں آیا کہ اگر ان کے کسی بچے کو کوئی اغوا کر لے تو ان کی زندگی کے شب و روز کیسے ہوں گے۔

جب میں نے اس کیوٹ سے بندر کو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر سوتے ہوئے دیکھا تو میری زبان خشک ہونے لگی۔ میں اس سوچ میں پڑ گیا کہ انسان تو اشرف المخلوقات ہے۔ ساری رات اس بندر کی اس کے والدین سے جدائی کی سوچ نے مجھے سونے نہ دیا۔ میں کافی سوچ بچار کی،  بہت سوچا اور پھر اس پر قلم اٹھایا کہ شاید ہمارے معاشرے میں بھی کوئی جانوروں کے حقوق کے حوالے سے سامنے آ جائے کہ یہاں انسانوں کو تو کوئی حقوق مل نہیں سکتے اس لیے اس کے لیے اب کوئی بے سود کوشش بھی نہیں کرتا۔

میری خوش فہمی ہے کہ شاید کسی ایک بھی مداری کو ہی یہ احساس ہو جائے کہ اس کا یہ عمل کتنا غلط ہے۔ کسی ایک مداری کے یہ فضول کام ترک کر دینے سے سکتا ہے باقیوں کو بھی احساس ہو جائے اور آہستہ آہستہ اس عمل قبیح کی بیخ کنی ہو جائے۔

شاید کوئی ماہر قانون عدالت سے رجوع کر لے کہ اس غیر قانونی اور غیر انسانی کاروبار کی بیخ کنی کی جائے۔ اس کے مرتکب لوگوں کو قرار واقعی سزا دی جائے  اور پولیس جہاں انھیں دیکھے گرفتار کر لے۔ یا شہری اس بارے میں پولیس کو مطلع کریں تو پولیس فورا ان کی رہائی کا بندوبست کرے۔

متعلقہ محکمہ بھی خالی تنخوائیں اور مراعات لینے کے بجائے جنگلی حیات کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے انگلی کٹا کے ہی سہی شہیدوں میں نام کر لیں۔

اہل قلم سے بھی گزارش ہے کہ اس موضوع پر ضرور لکھیے کہ ہم انسان فطرت سے جو کھلواڑ کر رہے ہیں اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ خدارا اس دنیا کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے ہر فرد اپنا اپنا کردار ادا کرے۔

نوٹ:: آپ سمندر میں صرف ایک کنکر پھینکیں، لہریں خود بخود جنم لیتی جائیں گی۔ بعینہ آپ نیکی کی طرف صرف ایک قدم بڑھائیں پہاڑ خود بخود بنتے چلے جائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔  Shahid Jamil Minhas

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481