اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں دہشت گردی کےخلاف آپریشن پراتفاق

WhatsApp Image 2023 04 08 at 05.36.19

وزیر اعظم شہباز شریف کی ذیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جامع اور مربوط آپریشن کے آغاز پر اتفاق کیا ہے۔ جبکہ قومی اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر جاری زہریلے پراپیگنڈے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں جمعہ کے روز وزیراعظم ہاؤس میں قومی سلامتی کمیٹی کا 41 واں اجلاس  منعقد ہوا جو 2 گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس  آف اسٹاف کمیٹی سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، اطلاعات، دفاع، خزانہ، خارجہ اور وزارت داخلہ کے وزرا شریک ہوئے۔

علاوہ ازیں اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی ایم او سمیت دیگر عسکری اور سویلین حکام بھی شریک ہوئے جب کہ اجلاس میں کمیٹی ممبران اور چاروں وزرائے اعلیٰ بھی خصوصی طور پر شریک تھے۔

اجلاس میں ملکی سکیورٹی اور معاشی صورتحال پر غور کیا گیا جب کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے شرکا کو بریفنگ دی۔سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی تفصیلی بریفنگ دی۔

واضح رہے کہ یہ اجلاس 2 جنوری 2023 کوپشاورپولیس لائنز میں دہشت گردی کے حملے کے بعد منعقدہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے تسلسل میں ہوا۔اجلاس کے آغاز میں 7 اپریل 2012 کو سانحہ گیاری سیکٹر کے شہداءکو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔اجلاس نے جامع قومی سلامتی پر زور دیا جس میں عوام کے ریلیف کو مرکزی حیثیت قرار دیا گیا اور فورم کو بتایا گیا کہ حکومت اس ضمن میں اقدامات کررہی ہے۔اجلاس نے قوم کو پائیدار امن کی فراہمی کے لئے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور کاوشوں کا اعتراف کیا۔ فورم نے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کمیٹی نے دہشت گردی کی حالیہ لہر، کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ نرم گوشہ اور عدم سوچ بچار پر مبنی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا جو کہ عوامی توقعات اور خواہشات کے بالکل منافی ہے، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بلا رکاوٹ واپس آنے کی ناصرف اجازت دی گئی بلکہ ٹی ٹی پی کے خطرناک دہشت گردوں کو اعتمادسازی کے نام پر جیلوں سے رہا بھی کردیاگیا۔
واپس آنے والے اِن خطرناک دہشت گردوں اور افغانستان میں بڑی تعداد میں موجود مختلف دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے مدد ملنے کے نتیجے میں ملک میں امن واستحکام منتشر ہوا جو بے شمار قربانیوں اور مسلسل کاوشوں کا ثمر تھا

اجلاس نے پوری قوم اور حکومت کے ساتھ مل کرہمہ جہت جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی جو ایک نئے جذبے اور نئی عزم و ہمت کے ساتھ ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرے گا۔پاکستان سے ہر طرح اور ہر قسم کی دہشت گردی کے ناسُور کے خاتمے کے لئے اِس مجموعی، ہمہ جہت اور جامع آپریشن میں سیاسی، سفارتی سیکیورٹی، معاشی اور سماجی سطح پرکوششیں بھی شامل ہوں گی۔ اس سلسلے میں اعلی سطح کی ایک کمیٹی تشکیل بھی دی گئی جودو ہفتوں میں اس پر عمل درآمد اور اس کی حدود و قیود سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔

اجلاس میں مقتدر انٹیلیجنس ایجنسی کے کامیاب آپریشن کوبہت سراہا گیا جس میں انہوں نے انتہائی مطلوب دہشتگرد گلزار امام عرف شمبے کو گرفتارکیا جو دہشت گرد بلوچ نیشنل آرمی اور ’براس‘ کے بانی و راہنما اور ایک عرصے سے مختلف دھشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث تھا۔
کمیٹی نے بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی معاشرے میں تقسیم اور در پردہ اہداف کی آڑ میں ،ریاستی اداروں اور ان کی قیادت کے خلاف بیرونی سپانسرڈ زہریلا پراپیگنڈا سوشل میڈیا پرپھیلانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی اور کہاکہ اس سے قومی سلامتی متاثر ہوتی ہے ۔

کمیٹی نے ملک دشمنوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ شہداءکی عظیم قربانیوں اور مسلسل کاوشوں سے حاصل ہونے والے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کو یقینی بنایا جائے گا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481