اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سیکیورٹی فورسزکے آپریشن میں ہائی ویلیو ٹارگٹ چیف گلزار امام گرفتار

877f1135 d123 4dd6 a95c 6966b9b59f6e

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسزنے ہائی پروفائل انٹیلی جنس بیسڈ کامیاب آپریشن کے نتیجے میں  کالعدم بلوچ دہشت گرد تنظیم بی این اے کے ہائی ویلیو ٹارگٹ چیف گلزار امام  کو گرفتار کر لیا جو کالعدم تنظیم بلوچ نیشنل آرمی کا بانی اور رہنما بھی ہے۔
واضح رہے کہ بلوچ نیشنل آرمی پاکستان میں درجنوں دہشت گرد حملوں میں ملوث رہی  ہے، گلزار امام 2018 تک بلوچ ریپبلکن آرمی میں براہمداغ بگٹی کا نائب بھی رہا۔ بعد ازاں
11 جنوری 2022 کو  گلزار امام کی بی آر اے اورسرفراز بنگلزئی کی قیادت میں قائم یونائیٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) کے ایک دھڑے نے انضمام کرکے بی این اے نام کی ایک نئی علیحدگی پسند تنظیم کے قیام کا اعلان کیا جس کا سربراہ گلزار امام کو بنا دیا گیا،
اس طرح  بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے سربراہ کی گرفتاری کالعدم تنظیموں اوردشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے بڑا دھچکا قرار دی جا رہی ہے۔ مذکورہ تنظیم دہشت گردی کے کئی بڑے واقعات میں ملث رہی ہے۔
20 جنوری کو لاہور کے انار کلی بازار میں موٹر سائیکل پر نصب بم پھٹنے سے تین افراد جاں بحق جبکہ 26 زخمی ہو گئے تھے۔ بی این اے نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم گلزارامام بلوچ نے راجی آجوئی سانگرکی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا، وہاس تنظیم کا آپریشنل سربراہ بھی رہا،گلزار امام کے افغانستان اور بھارت کے دورے بھی ریکارڈ پر ہیں۔
دسمبر 2017 میں اس نے  گل نوید کے نام سے افغان پاسپورٹ پر بھارت کا دورہ بھی کیا
منگل کو بی این اے کے ترجمان مرید بلوچ نے ایک اعلامیے میں تصدیق کی کہ گلزار امام پاکستان کے خفیہ اداروں کی تحویل میں ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481