اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کیا عمران خان انتخابی نتائج تسلیم کرلیں گے ؟

ملکی حالات تباہی کی طرف جا رہے ہیں، عمران خان

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ابھی وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انتخابی نتائج تسلیم کریں گے یا نہیں ،دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ چیئرمین تحریک انصاف نے خیلجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے  کہا کہ انہیںآنے والے عام انتخابات میں اپنی پارٹی کی فتح کا یقین ہے۔تاہم انھوں نے تحفظات  ظاہر کرتے ہوئے  کہا کہ الیکشن کمیشن مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہے،ان کا کہنا تھا کہ  الیکشن کمشنر کا اکتوبر میں انتخابات کا اعلان آئین کی خلاف ورزی تھا،آگے چل کے  دیکھیں گے انتخابات میں کیاہوتا ہے، فی الحال میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نتیجہ قبول کریں گے یا نہیں، مجھےنہیں معلوم کہ انتخابات میں کیا ہوگا اور الیکشن کمیشن اور اسٹیبلشمنٹ کا رویہ کیسا ہوگا۔

تاہم اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ اگر ہمیں دو تہائی اکثریت نہیں ملی تو میں انتخابی نتائج قبول نہیں کروں گا، حکومتی اتحاد نے ضمنی انتخابات میں 37 میں سے 7 نشستیں جیتیں، حکومتی اتحاد کو اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن کی حمایت بھی حاصل تھی،ان کا کہنا تھا کہ  گزشتہ ضمنی انتخابات کے نتائج سے رائے عامہ واضح ہے، پی ٹی آئی انتخابات میں کلین سوئپ کرنے جارہی ہے اس لیے حکومت انتخابات سے خوفزدہ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت ختم ہونے کے بعد سے ایک سبق میں نے اور ایک پاکستانی عوام نےسیکھا ہے، میرا سبق یہ ہے کہ میں نے آرمی چیف پر بھروسہ کیا، میں نے سمجھا احتساب کے معاملے میں آرمی چیف اور میں ایک پیج پر ہیں لیکن ایسا نہیں تھا، آرمی چیف احتساب پریقین نہیں رکھتے تھے، وہ نہیں مانتے تھےکہ بدعنوانی ایک بری چیز ہے، میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں، اگرآپ کے پاس قانون کی حکمرانی نہیں ہے تو پھر آپ کے پاس بدعنوانی ہے۔

 

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ایسا نظام نہیں چلتا جس میں وزیراعظم کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کا اختیار نہ ہو،جہاں وزیراعظم کا اختیار فوج کے ساتھ مشترک ہو، اس میں کوئی شک نہیں کہ فوج کا کردار ہے، پاکستان میں فوج کا کردار ختم کرنے کی خواہش نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ 70 سال سےچل رہا ہے، البتہ فوج کے کردار میں توازن کی ضرورت ہے، توازن کے بغیر ایسا گورننس سسٹم نہیں ہوسکتا جو اس وقت پاکستان کی بقا کیلئے درکار ہے۔

 

ایک سوال پر عمران خان نےمزید  کہا کہ اسمبلیاں توڑنے سے پہلے آئینی ماہرین سے مشاورت کی تھی، تمام آئینی ماہرین کا کہنا تھا کہ اسمبلیاں ٹوٹنے کےبعد 90 دن کے اندر انتخابات لازم ہیں۔ اگر  90 دن سے باہرنکلیں گے توآئین کی خلاف ورزی ہوگی، حکومت کہتی ہے انتخابات اکتوبرمیں ہوں، پھرکہےگی دسمبر میں کیوں نہیں، اگلے سال کیوں نہیں؟ جنرل ضیاالحق نے بھی یہی کہا تھا، پھر ہم نے 11 سال گنوائے۔

 

ایک اور سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت سےباہر ہونے کے بعد سابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے دو ملاقاتیں کرچکا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ انتخابات پربات کرنے کیلئے اپنی رضامندی ظاہر کی ہے، اس وقت پاکستان میں واحد مسئلہ انتخابات کا ہےاور ہے کیا بات کرنےکو؟ جنرل باجوہ سے مل کر بھی  میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ انتخابات کیسے کرائے جائیں، مجھے نہیں پتا تھا کہ جنرل باجوہ اس لیے الیکشن چاہتے تھےکہ انہیں توسیع مل جائے، اس کے بعد سے ہماری اس اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت انتخابات ہارنے سے گھبرا رہی ہے، انہیں پتا ہے ان کا خاتمہ ہونے جارہا ہے، یہ لوگ الیکشن سے ڈرکربھاگ رہے ہیں، اور اس کیلئے آئین کی خلاف ورزی پربھی آمادہ ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481