اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

وزیر اعظم آزادکشمیرکے بیٹےکیخلاف تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج

WhatsApp Image 2023 04 05 at 05.48.17

اربوں کے اثاثے رکھنے والے اسلام آباد کے سب سے بڑے شاپبگ مال سینٹورس کے مالکان کے درمیان خاندانی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے صاحبزادے اوران کے ساتھیوں کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں قریبی عزیز کی جانب سے مقدمہ درج کرادیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دار الحکومت کے تھانہ مارگلہ میں سنٹورس مال کے ڈائریکٹر ایچ آر راجہ شہزاد نے مقدمہ درج کرایاکہ سردار عمر تنویر مسلح افراد کے ہمراہ سنٹورس میں دفتر میں داخل ہوئے، انھوں نے ثاقب بن افضل جی ایم فنانس اور داؤد احمد ڈائریکٹر فناس کو مارنا شرو ع کردیا، پھر انھیں اسلحے کی نوک پر اپنے دفتر لےجاکر بند کردیا، ملزمان میں داؤد، اللہ نور، سلیم وغیرہ جو کہ مبینہ طور پر سردار عمر تنویر کے ذاتی ملازم ہیں وہ بھی اس کارروائی  میں ملوث ہیں،

ایف آئی آر کے مطابق وجہ عناد یہ ہے کہ سردار عمر تنویر کا اپنے دادا اور دو چچاؤں کے ساتھ خاندانی جائید ادپر تنازعہ چل رہاہے،آئے روز سردار عمر تنویر اپنے ساتھ آزاد کشمیر کی پولیس اور پرائیویٹ گارڈ لے آتاہے،اور ہمیں زدوکوب کرتاہے ، لہٰذا اس کیخلاف کارروائی کی جائے اور ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔سردار عمر تنویر خان کا موقف

449624d3 9e67 456e 9fca 250095f5b9d8

سردار گروپ آف کمپنیز اور سینٹورس گروپ کے سی ای او سردار عمر تنویر خان کے ترجمان کے مطابق ان کی کاروباری کمپنیوں اور پراجیکٹس کے شیئرز کی تقسیم میں قانونی رکاوٹیں موجود ہیں۔ سردار تنویر الیاس خان اور گلف گروپ راولاکوٹ کے سربراہ سردار شبیر خان کے شیئرز کا قانونی تصفیہ ہونا ابھی باقی ہے۔ سینٹورس گروپ میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری دوسرے کئی گروپس اور افراد نے بھی کر رکھی ہے جبکہ سینٹورس کے ٹائٹل اور ملکیت میں بھی کئی قانونی رکاوٹیں اب تک موجود ہیں جن کا قانونی حل ہونا ابھی باقی ہے۔

ترجمان کے مطابق سردار یاسر جو اعدادوشمار اور معلومات سامنے لائے ہیں وہ سراسر خلاف حقائق ہیں۔ سردار یاسر اور سردار راشد نے ان کمپنیوں میں اگر50 کروڑ روپے یا 100 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے تو اس کا جائزہ لیا جائے گا کہ کہاں اور کتنی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق جن ڈائریکٹرز نے کمپنیوں اور پراجیکٹس میں جو سرمایہ کاری کر رکھی ہے وہ اپنی انوسٹمنٹ کا بنک ریٹ سے 5 فیصد زیادہ لیکر شیئر کو قانونی طور پر سیٹل کر سکتے ہیں۔ سی ای او کے ترجمان کے مطابق جن فلیٹس یا دفتروں میں یہ دونوں خود ساختہ آنٹر پینیور بیٹھتے ہیں وہ ہماری ملکیت ہیں اور سینٹورس میں داخلے پر پابندی لگانے کے دعوے کرنے اور بیانات دینے والے پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہر اپنی خیر منائیں، ان عناصر سے قانونی طور پر ہر فورم پر نمٹا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق سردار گروپ اور سینٹورس گروپ کے شیئرز اور سرمایہ کاری کی اصل تفصیلات جلد ہی پبلک کر دی جائیں گی۔ سی ای او سردار عمر تنویر کے ترجمان کے مطابق سینٹورس کن حالات میں اور کس نے تعمیر کیا یہ زمانہ جانتا ہے، اس میں کس کا کیا کنٹریبوشن تھا اور ہے یہ بھی سب جانتے ہیں۔ کون سے ڈائریکٹرز اصل ہیں اور کون ہیں، کس کی کیا حیثیت ہے اور کس کے کتنے شیئرز ہیں یہ تمام تفصیلات جلد ہی سامنے لائی جائیں گی۔ ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ سینٹورس پر کسی کو بھی غیر قانونی قبضہ نہیں کرنے دیں گے اور غیر قانونی قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھول میں نہ رہیں ہم اپنی ملکیت اور حق لینا اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں جہاں قوانین موجود ہیں اور کوئی غیر قانونی قبضہ نہیں ہوسکتا اور اگر غیر قانونی قبضے کی کوشش کی گئی تو ملکی قوانین ، عالمی روایات اور مروجہ طریقہ کار کے مطابق نمٹا جائے گا۔

سینٹورس سمیت تمام منصوبوں کےاکاؤنٹس منجمند کرنے کی ہدایت
موجودہ تنازعے کے پیش نظرپاک گلف کنسرکشن پرائیویٹ لمیٹیڈ کے گروپ سی ای او سردار عمر تنویر کے نام سے بینکوں کو جاری خط میں سینٹورس سمیت تمام منصوبوں کےاکاؤنٹس منجمند کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

a2a2961e e67c 4208 a718 600d2e7a59edسردار عمر کی جانب سے بنکوں کو لکھا گیا خط


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481