اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سپریم کورٹ کےفیصلے پرحکومتی ردعمل نے تناؤ بڑھا دیا

2323969 supremecourt 1652950991 599 640x480 1

الیکشن التواء کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکومتی ردعمل نے تناؤ کی نئی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے چودہ مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے جبکہ حکومت نے کہا ہے کہ اس حکم پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کے بقول سپریم کورٹ کے جج صاحبان کا یہ اقلیتی فیصلہ ہے،

قبل ازیں اس حوالے سے چار جج صاحبان زیر سماعت پٹیشن کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں لہذا نئے فیصلے کا کوئی جواز نہیں۔ حکومت نے نہ صرف عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کا اعلان کیا ہے بلکہ حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متعلقہ ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کرے جبکہ مریم نواز شریف نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے صرف فیصلہ مسترد کرنا کافی نہیں بلکہ جو لوگ یعنی جج اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں انہیں کٹہرے میں لایا جائے۔

لندن،نواز شریف اور مریم نواز جنیوا روانہ

قبل ازیں سپریم کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات 14مئی کو کرانےکا حکم دیتے ہوئے  الیکشن کمیشن کا 8 اکتوبر کو الیکشن  کرانےکا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیا جاتا ہے، اور صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، فیصلے کے مطابق آئین وقانون انتخابات کی تاریخ ملتوی کرنےکا اختیارنہیں دیتا، 22 مارچ کو الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا تب انتخابی عمل پانچویں مرحلے پر تھا، الیکشن کمیشن کے آرڈر کے باعث 13 دن ضائع ہو گئے، الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ دے کر دائرہ اختیار سے تجاوزکیا۔

اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے الیکشن کا شیڈول بھی دے دیا اور حکم دیا کہ ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف اپیلیں جمع کرانےکی آخری تاریخ 10اپریل ہوگی، 17 اپریل کو الیکشن ٹریبونل اپیلوں پر فیصلہ کرےگا، پنجاب میں امیدواروں کی حتمی فہرست 18 اپریل کو شائع کی جائیں، انتخابی نشانات 20 اپریل تک الاٹ کیے جائیں۔

عدالت عظمٰی نے حکم دیا ہےکہ پنجاب میں انتخابات شفاف، غیرجانبدارانہ اور قانون کے مطابق کرائے جائیں، وفاقی حکومت 10 اپریل تک الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپےکا فنڈ جاری کرے، الیکشن کمیشن 11 اپریل کو سپریم کورٹ میں فنڈ مہیا کرنےکی رپورٹ جمع کرائے، الیکشن کمیشن فنڈ کی رپورٹ بینچ ممبران کو چیمبر میں جمع کرائے، فنڈ نہ ملنےکی صورت میں سپریم کورٹ متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرےگا۔

فیصلہ میں حکم دیا گیا ہےکہ پنجاب حکومت الیکشن کمیشن کو سکیورٹی پلان دے، پنجاب کی نگران کابینہ اور چیف سیکرٹری 10 اپریل تک الیکشن کمیشن کو انتخاباتی عملےکے لیے رپورٹ کریں، نگران حکومت پنجاب میں انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو تمام معاونت اور وسائل فراہم کرے، وفاقی حکومت انتخابات کے لیے وسائل اور معاونت فراہم کرے۔

فیصلے میں  مزید کہا گیا ہےکہ وفاقی حکومت انتخابات کے لیے افواج، رینجرز، ایف سی اور دیگر اہلکار فراہم کرے، وفاقی حکومت 17 اپریل تک الیکشن کمیشن کو سکیورٹی پلان فراہم کرے، وفاقی حکومت اور نگران حکومت پنجاب نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کیا تو کمیشن عدالت کو آگاہ کرے۔

یکم مارچ کو تین دو کے تناسب سے فیصلہ دیا گیا، سپریم کورٹ
سپریم کورٹنے اپنے فیصلے میں کہا ہےکہ عدالت کا یکم مارچ کو تین دو کے تناسب سے فیصلہ دیا گیا، سپریم کورٹ کی توجہ دو اقلیتی نوٹسز پر دلوائی گئی، ججز کے نوٹ میں چار تین کے تناسب والا معاملہ قانون کے خلاف ہے، جسٹس فائزعیسٰی اور امین الدین خان کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

کے پی کی حد تک معاملہ زیر سماعت رہےگا: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہےکہ کے پی میں انتخابات کے لیےگورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی، کے پی کی حد تک معاملہ زیر سماعت رہےگا،صوبے  میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے، کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر پنجاب اور کےپی کے انتخابات میں تاخیر کے مقدمے کا فیصلہ 6 سماعتوں کے بعد گزشتہ روز محفوظ کیا تھا۔

منگل کو  وزارت دفاع کی جانب سے سربمہر لفافے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی، رپورٹ میں انتخابات کے لیے فوج کی عدم دستیابی کی وجوہات بیان کی گئیں۔

کیس کی پہلی تین سماعتیں پانچ رکنی بینچ نے کیں، جسٹس امین الدین نے چوتھی اور جسٹس جمال مندوخیل نے پانچویں سماعت پر کیس سننے سے معذرت کی، جس کے بعد 31 مارچ اور 3 اپریل کو چیف جسٹس پاکستان، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481