اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

حافظ قرآن کو اضافی نمبر دینےکےحوالےسےازخود نوٹس کیس بند

supremecourt 1

سپریم کورٹ آف پاکستان  کے نو تشکیل شدہ چھ رکنی بنچ نے حافظ قرآن کو اضافی نمبر دینے کے حوالے سےازخود نوٹس کا کیس بند کردیا، ازخود نوٹس اور اس کے دیگر اثرات پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔ قبل ازیں جسٹس فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس حوالے سے اپنے اکثریتی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ اذذخود نوٹس کے تحت چیف جسٹس کو بنچ بنانے کا اختیہار نہیں ہے اور اسی بنیاد پر سماعت روک دی تھی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو20اضافی نمبردینے کے معاملے پر سپریم کورٹ ازخود نوٹس کیس کی مختصر سماعت ہوئی جس کے بعد ازخود نوٹس نمٹا دیا گیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 6 رکنی بنچ نے سماعت کی، بنچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی شامل تھے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ازخود نوٹس غیرمؤثرہونے پرنمٹایا جاتا ہے، ازخود نوٹس اوراس کے دیگر اثرات پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گا، اس موقع پر پی ایم ڈی سی کے وکیل افنان کنڈی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ 20اضافی نمبر سال 2018تک رولز کے تحت دیئے جاتے تھے۔ افنان کنڈی کا کہنا تھا کہ سال 2021میں نئے رولز بنے اور اضافی نمبرز ختم ہو گئے، 20اضافی نمبرز کا معاملہ عملی طور پر ختم ہوچکا ہے۔

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ موجودہ ازخود نوٹس 2022 میں لیا گیا تھا، 2021 کے رولز کے بعد ازخود نوٹس ویسے ہی غیر موثر ہوگیا۔ سربراہ بنچ جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ یہ ازخود نوٹس بند کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس امین الدین احمد اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل تین رکنی بنچ نے میڈیکل کالج میں داخلے کیلئے حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے ازخود نوٹس کیس کی دو ہفتے قبل سماعت کی تھی۔ کیس کا فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان کو خصوصی بینچ بنانے کا اختیار نہیں ہے، چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں کہ وہ بینچ کی تشکیل کے بعد کسی جج کو بینچ سے الگ کریں۔ فیصلے کے مطابق چیف جسٹس اپنی دانش کو آئین کی حکمت کی جگہ نہیں دے سکتے، آئین نے چیف جسٹس کو یکطرفہ اور مرضی کا اختیار نہیں دیا، سپریم کورٹ کے تمام ججز کو اجتماعی طور پر تعین کا کام چیف جسٹس انجام نہیں دے سکتے۔

کیس بند


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481