اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بھونگ مسجد صادق آباد ۔۔ پاکستان میں اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

a39462d2 af1a 435f 8231 fc0ecce7fce0

یہ عظیم الشان مسجد بہاولپور سے240 کلومیٹر اور رحیم یارخان سے 55 کلو میٹر پر واقع ہے
بھونگ مسجد گاٶں بھونگ تحصیل صادق آباد میں واقع ہے۔  پاکستان میں اسلامی فن تعمیر کا شاہکار یہ مسجد 1932سے1982تک پچاس برس کے طویل عرصے میں  تعمیر ہوئی۔

اپنے عمدہ ڈیزاین اور خطاطی کی وجہ سے اس مسجد کو خاص شہرت حاصل ہے، تاہم وطن عزیز میں مختلف علاقوں کی سیاحت کے شوقین افراد اس عظیم الشان مسجد کے حوالے سے زیادہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے بے خبر ہیں۔ اس مسجد کو رٙئیس غازی محمد نے 1932 میں تعمیر کروانا شروع کرایا۔ آپ کے جد امجد حضرت بہاوالدین زکریا رحمتہ اللہ علیہ کے خلفا میں سے تھے۔

80939d52 7510 499b bc4e e44569eae03e b8a8925c ba0c 4b91 93b0 7e5d61379bbe

رئیس محمد غازی اعزازی مجسٹریٹ اور بہاولپور اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ کثیر مال و دولت ہونے کے باوجود انہوں نے درویشانہ زندگی گزاری۔ دینی تعلیم کا حصول، عبادت و ریاضت، سماجی کاموں اور مختلف علاقوں میں مساجد کی تعمیر ان کی زندگی کا مشن رہا۔رئیس غازی نے اپنے خاندانی محل نما گھرکے قریب 1932ءمیں بھونگ مسجد کی تعمیر شروع کی جو 1982 میں مکمل ہوٸی ۔ اسلامی فن تعمیر کا شاہکار اس مسجد کی تعمیر و تکمیل پر  کثیر سرمایہ ٓصرف ہوا تعمیر کے ایک ایک مرحلے پر انہوں نے ذاتی دلچسپی لی۔ البتہ مسجد کی تعمیر کی نگرانی کے لئے ماسٹر عبدالحمید کو مقرر کیا جنہوں نے نہایت محنت اور توجہ سے مسجد کی تعمیر کی نگرانی کی۔1982 میں تقریباً 50 برس میں مکمل ہونے والی اس مسجد نے تعمیرات کے شعبہ میں 1986 میں آغا خان ایوارڈ بھی جیتا۔ یہ مسجد ایرانی، ہسپانوی اور عثمانی فن تعمیر کا ملاپ دکھائی دیتی ہے۔

مسجد میں ایک گنبد، 4 مینار اور نماز کے لیے ایک بڑا ہال موجود ہے جن پر ہزاروں کی تعداد میں ہاتھ سے بنی ٹائلیں نصب ہیں جو اس مسجد کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتی ہیں۔

9e4342f7 3896 41fa bca5 5c47978aaaf0 306506f7 f54a 45cf aa3b 8139dcac188f
یہ امر قابل ذکر ہے کہ رٸیس محمد غازی نے کچھ زمین اس مسجد کی خدمت کے لیے مخصوص کی ہے جس کی آمدنی مسجد کو جاتی ہے۔پنجاب حکومت نے صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اس مسجد کو ثقافتی ورثہ بھی قرار دیا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481